کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11981
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشَفَةً فَقُلْتُ مَا هَذِهِ الْخَشَفَةُ فَقِيلَ هَذِهِ الرُّمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں گیا تو میں نے وہاں چلنے کی آہٹ سنی، میں نے پوچھا کہ یہ کیسی آہٹ ہے؟ تو مجھے بتلایا گیا کہ یہ رمیصاء بنت ملحان کے چلنے کی آواز ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا ایک انصاری جلیل القدر صحابیہ ہیں،یہ خادم رسول سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں، ان کی زیادہ شہرت کنیت سے ہے، ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔سہلہ، زمیلہ، انیسہ، رمیثہ، رمیصاء اور عمیصاء نام کے اقوال پائے جاتے ہیں، انہوںنے قبل از اسلام دور جاہلیت میں مالک بن نضر سے نکاح کیا، اس سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی، انصار میں سے جو لوگ شروع شروع میں دائرہ اسلام میں داخل ہوئے، یہ بھی ان کے ساتھ مسلمان ہوگئیں، ان پر ان کا شوہر ناراض ہو کر سر زمین شام کی طرف نکل گیا اور وہیں اسے موت آ گئی، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد ابو طلحہ نے نکاح کیا۔ سنن نسائی وغیرہ میں ہے کہ ابو طلحہ نے ان کو نکاح کا پیغام بھیجا تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے واپسی پیغام بھیجا کہ آپ جیسے آدمی کے ساتھ نکاح سے انکار تو نہیں کرنا چاہیے مگر مشکل یہ ہے کہ میں مسلمان ہوں اور آپ کافر ہیں، میرے لیے آپ سے نکاح کرنا حلال نہیں، آپ اگر اسلام قبول کر لیں تو یہی چیز میرے لیے مہر ہوگی اور میں اس کے علاوہ کسی بھی چیز کا بطور مہر مطالبہ نہ کروں گی، چنانچہ انھوںنے اسلام قبول کر لیا اور یہی عمل ان کا مہر قرار پایا۔ ثابت کہتے ہیں کہ میں نے نہیں سنا کہ کسی خاتون کا مہر ام سلیم رضی اللہ عنہا کے مہر سے زیادہ بہتر ہو۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوات میں بھی شریک ہوتی تھیں، ان کے بہت سے کارنامے ہیں جو ان کے کمال ایمان، ان کی دانش مندی اور قوت فیصلہ پر دلالت کرتے ہیں۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی خالہ تھیں۔
حدیث نمبر: 11982
وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَةً بَيْنَ يَدَيَّ فَإِذَا هِيَ الْغُمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ“ وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے سامنے آہٹ سی سنی، وہ غمیصاء بنت ملحان تھی۔ یہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں۔
حدیث نمبر: 11983
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَرَيْتُنِي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِالرُّمَيْصَاءِ امْرَأَةِ أَبِي طَلْحَةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’مجھے خواب میں دکھلایا گیا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں ابو طلحہ کی اہلیہ رمیصاء کو پایا۔
حدیث نمبر: 11984
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ لِأَهْلِهَا لَا تُحَدِّثُوا أَبَا طَلْحَةَ بِابْنِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُحَدِّثُهُ قَالَ فَجَاءَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ عَشَاءً فَأَكَلَ وَشَرِبَ قَالَ ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَهُ أَحْسَنَ مَا كَانَتْ تَصْنَعُ قَبْلَ ذَلِكَ فَوَقَعَ بِهَا فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّهُ قَدْ شَبِعَ وَأَصَابَ مِنْهَا قَالَتْ يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوا عَارِيَتَهُمْ أَهْلَ بَيْتٍ وَطَلَبُوا عَارِيَتَهُمْ أَلَهُمْ أَنْ يَمْنَعُوهُمْ قَالَ لَا قَالَتْ فَاحْتَسِبِ ابْنَكَ فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِكُمَا“ قَالَ فَحَمَلَتْ قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ مَعَهُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَدِينَةَ مِنْ سَفَرٍ لَا يَطْرُقُهَا طُرُوقًا فَدَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ فَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ وَاحْتَبَسَ عَلَيْهَا أَبُو طَلْحَةَ وَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَبِّ إِنَّكَ لَتَعْلَمُ أَنَّهُ يُعْجِبُنِي أَنْ أَخْرُجَ مَعَ رَسُولِكَ إِذَا خَرَجَ وَأَدْخُلَ مَعَهُ إِذَا دَخَلَ وَقَدِ احْتَبَسْتُ بِمَا تَرَى قَالَ تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا أَبَا طَلْحَةَ مَا أَجِدُ الَّذِي كُنْتُ أَجِدُ فَانْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا قَالَ وَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ حِينَ قَدِمُوا فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالَتْ لِي أُمِّي يَا أَنَسُ لَا يُرْضِعَنَّهُ أَحَدٌ حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَصَادَفْتُهُ وَمَعَهُ مِيسَمٌ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ ”لَعَلَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ“ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَوَضَعَ الْمِيسَمَ قَالَ فَجِئْتُ بِهِ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ قَالَ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَجْوَةٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ فَلَاكَهَا فِي فِيهِ حَتَّى ذَابَتْ ثُمَّ قَذَفَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”انْظُرُوا إِلَى حُبِّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ“ قَالَ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہما کا بیٹا فوت ہو گیا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے اہل والوں سے کہا: تم نے ابو طلحہ کو اس کے بیٹے کے بارے میں نہیں بتلانا، میں خود اس کو بتاؤں گی، پس جب وہ آئے تو اس نے ان کو شام کا کھانا پیش کیا، انھوں نے کھانا کھایا اور مشروب پیا، پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کے لیے اچھی طرح تیاری کی، جیسا کہ وہ پہلے کرتی تھیں، پس انھوں نے ان سے جماع کیا، جب ام سلیم نے دیکھا کہ اس کاخاوند خوب سیر ہو گیا اور حق زوجیت بھی ادا کر لیا تو اس نے کہا: اے ابو طلحہ! اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ لوگ ایک گھر والوں کو کوئی چیز عاریۃً دیتے ہیں، پھر جب وہ ان سے واپس کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو کیا وہ روک سکتے ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں، نہیں روک سکتے، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: تو پھر اپنے بیٹے کی وفات پر ثواب کی نیت سے صبر کر، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ چل پڑے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارے ماجرے کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری گزشتہ رات میں برکت فرمائے۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو حمل ہو گیا، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں تھے اور ام سلیم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپسی پر مدینہ آتے تھے تو رات کو شہر میں داخل نہیں ہو تے تھے، پس جب وہ مدینہ کے قریب پہنچے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا کو دردِ زہ شروع ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو آگے چل دیئے، لیکن سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے پاس رک گئے اور انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! تو جانتا ہے کہ مجھے یہ بات پسند لگتی ہے کہ تیرے رسول کے ساتھ سفر میں نکلوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہی مدینہ میں داخل ہوں، لیکن اب تو دیکھ رہا ہے کہ میں رک گیا ہوں، اتنے میں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: جو چیز میں پہلے پاتی تھی، ابھی وہ نہیں پا رہی، پس ہم چل پڑے اور جب مدینہ پہنچے تو دوبارہ دردِ زہ شروع ہوا اور انھوں نے بچہ جنم دیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری ماں نے مجھے کہا: اے انس! کوئی بھی اس کو دودھ نہ پلائے، یہاں تک کہ تو صبح کو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جائے، وہ کہتے ہیں: میں بچہ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جانوروں کو داغنے والا ایک آلہ تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: شاید ام سلیم نے بچہ جنم دیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ آلہ رکھ دیا، میں بچے کو لے کر آگے بڑھا اور اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گودی میں رکھ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی عجوہ کھجورمنگوائی، اس کو اپنے منہ مبارک میں ڈال کر چبایا،یہاں تک کہ وہ نرم ہو گئی، پھر اس کو بچے کے منہ میں ڈالا اور بچہ زبان پھیر کر اس کو نگلنے لگ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دیکھو کہ انصاریوں کو کھجور سے کتنی محبت ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اس کا نام عبد اللہ رکھا۔
حدیث نمبر: 11985
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ وَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا وَلَيْسَتْ فِي بَيْتِهَا قَالَ فَأُتِيَتْ يَوْمًا فَقِيلَ لَهَا هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ عَلَى فِرَاشِكِ قَالَتْ فَجِئْتُ وَذَاكَ فِي الصَّيْفِ فَعَرِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَى قِطْعَةِ أَدَمٍ عَلَى الْفِرَاشِ فَجَعَلْتُ أُنَشِّفُ ذَلِكَ الْعَرَقَ وَأَعْصِرُهُ فِي قَارُورَةٍ فَفَزِعَ وَأَنَا أَصْنَعُ ذَلِكَ فَقَالَ ”مَا تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ“ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا قَالَ ”أَصَبْتِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لایا کرتے اور ان کے بستر پر سو جایا کرتے تھے، ایسا بھی ہوتا کہ وہ اپنے گھر پر موجود نہیں ہوتی تھیں، وہ ایک دن گھر تشریف لائیں تو ان کو بتلایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے بستر پر سوئے ہوئے ہیں، گرمی کا موسم تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس قدر پسینہ آیا ہوا تھا کہ وہ بستر کے چمڑے کے ٹکڑے پر گر رہا تھا۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینہ کو نچوڑ نچوڑ کر ایک شیشی میں جمع کرنے لگی، میں یہ کام کر رہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو گئے اور فرمایا: ام سلیم رضی اللہ عنہ تم یہ کیا کر رہی ہو؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اسے اپنے بچوں کے لیے بطور تبرک استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: درست کر رہی ہو۔
حدیث نمبر: 11986
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقِيلُ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ وَكَانَ مِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ عَرَقًا فَاتَّخَذَتْ لَهُ نِطَعًا فَكَانَ يَقِيلُ عَلَيْهِ وَخَطَّتْ بَيْنَ رِجْلَيْهِ خَطًّا فَكَانَتْ تُنَشِّفُ الْعَرَقَ فَتَأْخُذُهُ فَقَالَ ”مَا هَذَا يَا أُمَّ سُلَيْمٍ“ فَقَالَتْ عَرَقُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجْعَلُهُ فِي طِيبِي فَدَعَا لَهَا بِدُعَاءٍ حَسَنٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں جا کر قیلولہ کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ بہت زیادہ آتا تھا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے چمڑے کا ایک بچھونا تیار کیا، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیلولہ کیا کرتے تھے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ کے پاؤں کے درمیان ایک لکیر سی بنا دی تھی۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینے کو نچوڑ کر جمع کر لیتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ! یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کا پسینہ ہے، میں اسے اپنی خوشبو میں ملاؤں گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں بہترین دعا فرمائی۔
حدیث نمبر: 11987
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ فَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا وَلَيْسَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فِي بَيْتِهَا فَتَأْتِي فَتَجِدُهُ نَائِمًا وَكَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ إِذَا نَامَ ذَفَّ عَرَقًا فَتَأْخُذُ عَرَقَهُ بِقُطْنَةٍ فِي قَارُورَةٍ فَتَجْعَلُهُ فِي مِسْكِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے اور ان کے بستر پر سو جاتے تھے،جبکہ بسا اوقات ایسے ہوتا کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا گھر پر موجود نہیں ہوتی تھیں، جب وہ آتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سویا ہواپاتیں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سوتے تو آپ کو اتنا پسینہ آتا کہ بہنے لگتا۔ وہ آپ کے پسینہ کو روئی سے جمع کرکے اسے شیشی میں نچوڑ لیتیں اور پھر اسے اپنی کستوری میں ملا لیتیں۔
حدیث نمبر: 11988
عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ وَكَانَ صَائِمًا فَقَالَ ”أَعِيدُوا تَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ وَسَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ“ ثُمَّ قَامَ إِلَى نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ ثُمَّ دَعَا لِأُمِّ سُلَيْمٍ وَلِأَهْلِهَا بِخَيْرٍ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي خُوَيْصَّةً قَالَ ”وَمَا هِيَ“ قَالَتْ خَادِمُكَ أَنَسٌ قَالَ فَمَا تَرَكَ خَيْرَ آخِرَةٍ وَلَا دُنْيَا إِلَّا دَعَا لِي بِهِ وَقَالَ ”اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالًا وَوَلَدًا وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ“ قَالَ فَمَا مِنَ الْأَنْصَارِ إِنْسَانٌ أَكْثَرُ مِنِّي مَالًا وَذَكَرَ أَنَّهُ لَا يَمْلِكُ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً غَيْرَ خَاتَمِهِ قَالَ وَذَكَرَ أَنَّ ابْنَتَهُ الْكُبْرَى أُمَيْنَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ دُفِنَ مِنْ صُلْبِهِ إِلَى مَقْدَمِ الْحَجَّاجِ نَيِّفًا عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، انہوں نے آپ کی خدمت میں کھجوریں اور گھی پیش کیا،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن روزے سے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کھجوریں ان کے تھیلے میں اور گھی اس کے ڈبے میں واپس رکھ دو۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر دو رکعتیں ادا کیں، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔ پھر آپ نے سیدنا ام سلیم رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کے حق میں برکت کی دعا کی۔ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری ایک خصوصی درخواست ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کیا؟ انہوں نے کہا: یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خادم سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہے، اس کے حق میں خصوصی دعا کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا و آخرت کی ہر خیر کی میرے حق میں دعا کر دی اور فرمایا: یا اللہ! اسے بہت سا مال اور اولاد عنایت فرما اور اس کے لیے ان میں برکت فرما۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ تمام انصار میں سے کسی کے پاس مجھ سے زیادہ دولت نہیں، جبکہ اس سے پہلے ان کے پاس صرف ایک انگوٹھی تھی اور ان کی بڑی بیٹی امینہ نے بتلایا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے حجاج بن یوسف کے آنے سے پہلے تک اپنی اولاد میں سے تقریباً ایک پچیس چھبیس افراد کو دفن کیا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۱۶۳۴)
حدیث نمبر: 11989
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ كَانَتْ مَعَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَإِذَا مَعَ أُمِّ سُلَيْمٍ خِنْجَرٌ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ مَا هَذَا مَعَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنَ الْكُفَّارِ أَبْعَجُ بِهِ بَطْنَهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَلَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ”يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ كَفَانَا وَأَحْسَنَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا غزوۂ حنین کے موقع پر اپنے شوہر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھیں، اس روز سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس ایک خنجر تھا، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : ام سلیم !یہ آپ کے پاس کس لیے ہے؟ انھوں نے کہا: یہ میں نے اس لیے ساتھ رکھا ہے کہ اگر کوئی کافر میرے قریب آیا تو میں اس کے ساتھ اس کے پیٹ کو چاک کر دوں گی۔ یہ بات سن کر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ ام سلیم رضی اللہ عنہ کی بات سن رہے ہیں، وہ تو یوں کہہ رہی ہے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے جن لوگوں کو مکہ میں آزاد کیا ہے ان کا ایمان کم زور ہے، وہ منافق ہیں، آپ ان کو قتل کر دیں۔ اے اللہ کے رسول! وہ آپ کو اکیلے چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلیم! اللہ تعالیٰ نے ہماری مددکی اور خوب مدد کی۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی بات سے راضی نہیں ہوئے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مومنوں کے ساتھ مہربان اور رحم دل تھے۔
غزوۂ حنین کے موقع پر ایک بار مسلمانوں کو پسپا ہونا پڑا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کے بارے میں سخت رویہ پیش کیا، لیکن دو بارہ مسلمان سنبھل گئے اور اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کر دی۔
خواتین کا جہاد میں شرکت کرنا کیسا ہے؟ کتاب الجھاد میں اس تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
غزوۂ حنین کے موقع پر ایک بار مسلمانوں کو پسپا ہونا پڑا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کے بارے میں سخت رویہ پیش کیا، لیکن دو بارہ مسلمان سنبھل گئے اور اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کر دی۔
خواتین کا جہاد میں شرکت کرنا کیسا ہے؟ کتاب الجھاد میں اس تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
حدیث نمبر: 11990
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا انْهَزَمَ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ حُنَيْنٍ نَادَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا انْهَزَمُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ كَفَى“ قَالَ فَأَتَاهَا أَبُو طَلْحَةَ وَمَعَهَا مِعْوَلٌ فَقَالَ مَا هَذَا يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بَعَجْتُهُ قَالَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْظُرْ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اور روایت میں ہے کہ حنین کے دن جب مسلمان شکست کھا گئے تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آواز دی: اے اللہ کے رسول!جولوگ ہم سے بعد والے ہیں، آپ انہیں قتل کر دیں،یہ لوگ آپ کو اکیلے چھوڑ کر نکل بھاگے ہیں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام سلیم! اللہ تعالیٰ نے ہماری خوب مدد کی ہے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے شوہر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو ان کے پاس ایک گینتی دیکھی اورپوچھا: ام سلیم! یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا:اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس کا پیٹ چاک کر دوں گی۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! دیکھئے، ام سلیم کیا کہہ رہی ہے؟
وضاحت:
فوائد: … اس باب میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے۔ وہاں قیلولہ کرتے اور ام سلیم رضی اللہ عنہ گھر پر موجود نہ بھی ہوتیں تو ان کے بستر پر آرام فرماتے۔ بعض احادیث میں ام حرام کے گھر جانے کا ذکر بھی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہ اور ام حرام رضی اللہ عنہ یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی خالہ تھیں۔ یہ قباء میں ایک ہی گھر میں رہتی تھیں۔