کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لونڈی سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11979
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ قَضِيَّاتٍ أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ“ قَالَ وَعُتِقَتْ فَخَيَّرَهَا وَفِي رِوَايَةٍ وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ فَلَمَّا أَعْتَقَتْهَا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اخْتَارِي فَإِنْ شِئْتِ أَنْ تَمْكُثِي تَحْتَ هَذَا الْعَبْدِ وَإِنْ شِئْتِ أَنْ تُفَارِقِيهِ“ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا قَالَتْ وَكَانَ النَّاسُ يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا فَتُهْدِي لَنَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَكُمْ هَدِيَّةٌ فَكُلُوهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ میں تین مسائل ہیں، اس کے اہل خانہ نے ان کو اس شرط پر فروخت کرنا چاہا کہ اس کی ولاء ان کا حق ہو گا، جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے خرید کر آزاد کر دو، ولاء کا تعلق اسی کے ساتھ ہوتا ہے، جو آزاد کرے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پس میں نے ان کو آزاد کیا تو وہ ان دنوں ایک غلام (مغیث) کی زوجیت میں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تمہیں اختیار ہے، تم چاہو تو اس غلام کی زوجیت میں رہ سکتی ہو اور اگر چاہو تو اس سے مفارقت اختیار کر سکتی ہو۔ انہوں نے اپنے لیے اس سے مفارقت کو پسند کر لیا،تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقات دیا کرتے تھے اور وہ انہی صدقات میں سے کچھ حصہ بطور تحفہ ہمیں دے دیاکرتی تھی، جب میں نے اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور تمہارے لیے اس کی طرف سے ہدیہ اورتحفہ ہوتا ہے، پس تم یہ کھانا کھا سکتی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ بریرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لونڈی تھیں، دراصل یہ انصار کے لوگوں کی لونڈی تھیں، انہوںنے ان کے ساتھ مکاتبت کا معاہدہ کیا کہ وہ اتنی مقررہ مقدار میں مال ادا کر دیں تو وہ ان کو آزاد کر دیں گے، یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئیں اور ان سے مال مکاتبت کے سلسلہ میں تعاون کی درخواست کی،سیدہ نے کہا: اگر تمہارے مالک چاہیں تو میں تمہاری ساری رقم ادا کرکے تمہیں ان سے خرید کر آزاد کر دوں، اس کے مالک اس پر راضی ہو گئے، لیکن ولاء تعلق انہیں سے رہے گا، سیدہ نے اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے خرید کر آزاد کر دو، ولاء کا تعلق اسی کے ساتھ ہوتا ہے،حو آزاد کرتا ہے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خرید کر آزاد کر دیا، ان دنوں سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا ایک غلام مغیث کی زوجیت میں تھیں۔ ایسی صورت میں آزاد ہونے والی عورت کو شرعی طور پر اختیار ہے کہ وہ چاہے تو غلام شوہر کی زوجیت میں رہے یا وہ چاہے تو اس سے مفارقت کرکے کسی دوسری جگہ نکاح کر ے۔ اس اصول کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اختیار دیا تو انہوںنے اپنے شوہر سے مفارقت اختیار کی، ان کا خاوند ان سے بہت محبت کرتا تھا، وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتا ان کی منت سماجت کیا کرتا تھا کہ وہ اسے چھوڑکر نہ جائے، اس کے آنسو اس کی داڑھی اور رخساروں پر بہہ رہے ہوتے۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بریرہ رضی اللہ عنہ کے ہاں سفارش بھی کرائی، لیکن سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے مغیث رضی اللہ عنہ کے ہاں رہنے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حکم نہیں بلکہ میں تو محض سفارش کرتا ہوں، سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اب اس کے پاس رہنا نہیں چاہتی۔ وَلائ: وہ رشتہ ہے، جس کے ذریعے آزاد کنندہ، آزاد شدہ کاوارث بنتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11979
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2155، 2565، 2726،ومسلم: 1075، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24187 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24691»