کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11978
عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ هَدِيَّةٌ فِيهَا قِلَادَةٌ مِنْ جَزْعٍ فَقَالَ ”لَأَدْفَعَنَّهَا إِلَى أَحَبِّ أَهْلِي إِلَيَّ“ فَقَالَتِ النِّسَاءُ ذَهَبَتْ بِهَا ابْنَةُ أَبِي قُحَافَةَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ فَعَلَّقَهَا فِي عُنُقِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک ہدیہ پیش کیا گیا، اس میں یمنی موتیوں کا ایک ہار بھی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں یہ ہار اپنے اہل میں سے اسے دوں گا، جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ عورتوں نے سمجھا کہ اس ہار کو ابو قحافہ کی بیٹی یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لے جائیں گی، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نواسی سیدہ امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو بلوا کر وہ ہار ان کی گردن میں ڈال دیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس روایت کا درج ذیل سیاق صحیح ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: قَدِمَتْ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حِلْیَۃٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِیِّ أَہْدَاہَا لَہُ فِیہَا خَاتَمٌ مِنْ ذَہَبٍ فِیہِ فَصٌّ حَبَشِیٌّ، فَأَخَذَہُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِعُودٍ بِبَعْضِ أَصَابِعِہِ مُعْرِضًا عَنْہُ ثُمَّ دَعَا أُمَامَۃَ بِنْتَ أَبِی الْعَاصِ ابْنَۃَ ابْنَتِہِ فَقَالَ: ((تَحَلَّیْ بِہٰذَا یَا بُنَیَّۃُ۔)) … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نجاشی کی جانب سے تحفہ میں زیورات آئے، جن میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، اس کا نگینہ حبشی تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بعض انگلیوں کی مدد سے ایک لکڑی کے ذریعے اس سے اعراض کرتے ہوئے اس کو پکڑا اور پھر اپنی نواسی سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور کہا: پیاری بیٹی! اسے بطور زیور پہن لو۔ (ابوداود: ۴۲۳۵، مسند احمد۲۴۸۸۰)
سیدہ امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نواسی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے بہت محبت کرتے اور بسا اوقات ان کو اٹھائے ہوئے نماز پڑھایا کرتے تھے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا تھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا مغیرہ بن نوفل نے ان سے نکاح کیا، ایک قول ہے کہ ان کے بطن سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور مغیرہ کی کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی اور ایک قول کے مطابق مغیرہ کے بیٹےیحییٰ کی ولادت ان کے بطن سے ہوئی۔ واللہ اعلم۔
سیدہ امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نواسی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے بہت محبت کرتے اور بسا اوقات ان کو اٹھائے ہوئے نماز پڑھایا کرتے تھے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا تھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا مغیرہ بن نوفل نے ان سے نکاح کیا، ایک قول ہے کہ ان کے بطن سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور مغیرہ کی کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی اور ایک قول کے مطابق مغیرہ کے بیٹےیحییٰ کی ولادت ان کے بطن سے ہوئی۔ واللہ اعلم۔