حدیث نمبر: 11976
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ فَرَآهُمْ فَكَرِهَ ذَلِكَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَمْ أَرَ إِلَّا خَيْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ“ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ ”لَا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوِ اثْنَانِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے، وہ ان دنوں ابو بکر رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں، وہ لوگ بیٹھے ہی تھے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آگئے، انہوں نے ان لوگوں کو اپنی اہلیہ کے ہاں دیکھا تو انہیں یہ بات ناگوار گزری۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس واقعہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا اور کہا کہ میں نے کوئی قابل اعتراض بات تو نہیں دیکھی بلکہ میں نے تو اچھی بات ہی دیکھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اسماء کو ایسی باتوں سے محفوظ رکھا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: آج کے بعد کوئی آدمی اکیلا کسی ایسی خاتون کے ہاں نہ جائے، جس کا خاوند گھر پر نہ ہو، الایہ کہ اس کے ساتھ ایک دو آدمی اس کے ساتھ ہوں۔
حدیث نمبر: 11977
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِيَ عُمَرُ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ سُبِقْتُمْ بِالْهِجْرَةِ وَنَحْنُ أَفْضَلُ مِنْكُمْ قَالَتْ كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ جَاهِلَكُمْ وَيَحْمِلُ رَاجِلَكُمْ وَفَرَرْنَا بِدِينِنَا فَقَالَتْ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَتْ فَذَكَرَتْ مَا قَالَ لَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَلْ لَكُمُ الْهِجْرَةُ مَرَّتَيْنِ هِجْرَتُكُمْ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهِجْرَتُكُمْ إِلَى الْمَدِينَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے ملاقات ہو گئی تو انھوں نے کہا: تم بڑے اچھے لوگ ہو، بس یہ بات ہے کہ لوگ تم سے پہلے ہجرت کر آئے ہیں اور ہم تم سے افضل ہیں۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے، تمہیں جس چیز کا علم نہ ہوتا، اللہ کے رسول تمہیں تعلیم دیتے اور تم میں سے جس کے پاس سواری نہ ہوتی، اللہ کے رسول اسے سواری عنایت کر دیتے اور ہم اپنے دین کو بچاتے ہوئے فرار ہوگئے تھے۔ بہرحال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر آپ سے ضرور اس بات کا ذکر کروں گی، چنانچہ انہوں نے جا کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ساری بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں دو ہجرتوں کا ثواب ملے گا، ایک حبشہ کی طرف اور ایک مدینہ کی طرف۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا، ام المومنین سیدہ میمونہ بنت الحارث کی مادری بہن ہیں اور یہ بہت سی صحابیات کی پدری،یا مادری،یا سگی بہن ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دار ارقم میں جانے سے پہلے انہوںنے اسلام قبول کیا اور سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کر گئیں اور وہیں عبداللہ، محمد اور عون کو جنم دیا۔ غزوۂ موتہ میں سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، ان کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا، انھوں نے ان سے محمد نامی بچہ جنم دیا، ان کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا اور ان سے عون اور یحییٰ پیدا ہوئے۔