کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدہ اسما بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11974
عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ صَنَعْتُ سُفْرَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ حِينَ أَرَادَ أَنْ يُهَاجِرَ قَالَتْ فَلَمْ نَجِدْ لِسُفْرَتِهِ وَلَا لِسِقَائِهِ مَا نَرْبِطُهُمَا بِهِ قَالَتْ فَقُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ وَاللَّهِ مَا أَجِدُ شَيْئًا أَرْبِطُهُ بِهِ إِلَّا نِطَاقِي قَالَ فَقَالَ شُقِّيهِ بِاثْنَيْنِ فَارْبِطِي بِوَاحِدٍ السِّقَاءَ وَبِالْآخَرِ السُّفْرَةَ فَلِذَلِكَ سُمِّيَتْ ذَاتَ النِّطَاقَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہجرت کے موقع پر میں نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے زاد راہ تیار کیا، آپ کے تھیلے اور مشکیزے کو باندھنے کے لیے ہمیں کوئی چیز دستیاب نہ ہوئی، میں نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا:اللہ کی قسم! اس سامان کو باندھنے کے لیے میرے کمر بند کے سوا اور کوئی چیز موجود نہیں ہے۔سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس کے دو حصے کرکے ایک سے کھانے کا اور ایک سے پینے کا سامان باندھ دو۔ اسی وجہ سے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کا نام ذات النطاقین پڑ گیا۔
وضاحت:
فوائد: … نِطَاق: محنت مشقت کرنے کے لیے کمر پر باندھی جانے والی پیٹی، جب سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہا نے اپنی پیٹی کو دو حصوں میں تقسیم کیا تو گویا دو پیٹیاں بن گئیں، اس لیے ان کو ذات النطاقین کہا گیا،یعنی دو پیٹیوں والی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11974
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه 5388، ومسلم: 2545 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26928 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27467»
حدیث نمبر: 11975
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ وَمَا لَهُ فِي الْأَرْضِ مِنْ مَالٍ وَلَا مَمْلُوكٍ وَلَا شَيْءٍ غَيْرَ فَرَسِهِ قَالَتْ فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ وَأَكْفِيهِ مَئُونَتَهُ وَأَسُوسُهُ وَأَدُقُّ النَّوَى لِنَاضِحِهِ أَعْلِبُ وَأَسْتَقِي الْمَاءَ وَأَخْرُزُ غَرْبَهُ وَأَعْجِنُ وَلَمْ أَكُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ فَكَانَ يَخْبِزُ لِي جَارَاتٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ وَكُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي وَهِيَ مِنِّي عَلَى ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ قَالَتْ فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَى عَلَى رَأْسِي فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ ”إِخْ إِخْ“ لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ قَالَتْ فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسِيرَ مَعَ الرِّجَالِ وَذَكَرْتُ الزُّبَيْرَ وَغَيْرَتَهُ قَالَتْ وَكَانَ أَغْيَرَ النَّاسِ فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنِّي قَدِ اسْتَحْيَيْتُ فَمَضَى وَجِئْتُ الزُّبَيْرَ فَقُلْتُ لَقِينِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِي النَّوَى وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَنَاخَ لِأَرْكَبَ مَعَهُ فَاسْتَحْيَيْتُ وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى أَشَدُّ عَلَيَّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ قَالَتْ حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ بِخَادِمٍ فَكَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَتْنِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے نکاح کر لیا، جبکہ ان کے پاس ایک گھوڑے کے سوا مال، غلام اور کوئی چیز، غرضیکہ کچھ بھی نہیں تھا، میں ہی ان کے گھوڑے کو گھاس ڈالتی، اس کی ضروریات پوری کرتی اور میں گھوڑے کو گھما پھرا لاتی اور میں ان کے اونٹ کے لیے کھجور کی گٹھلیاں کوٹتی پیستی، اسے گھاس ڈالتی اور اس پر پانی لاد لاتی، پانی کا ڈول پھٹ جاتا تو اس کی مرمت کرتی، آٹا گوندھتی، میں اچھی طرح روٹی پکانا نہیں جانتی تھی، اس لیے میری ہمسایہ انصاری خواتین مجھے روٹی پکا دیتی تھیں،یہ بڑی اچھی عورتیں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو زمین سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو عنایت کیا تھا وہ تقریباً دو میل دور تھا، میں وہاں سے گٹھلیاں سر پر لاد کر لاتی۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے ساتھ آرہے تھے کہ راستے میں مجھ سے ملاقات ہوگئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے آواز دے کر اپنے پیچھے مجھے سوار کرنے کے لیے اپنی سواری کو روکنے کی آواز دی، لیکن مجھے مردوں کے ساتھ سفر کرنے میں جھجک محسوس ہوئی۔ ساتھ ہی مجھے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کی غیرت بھی یاد آئی، وہ سب سے زیادہ غیرت مند تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جان گئے کہ میں آپ کے ساتھ سوار ہونے سے جھجک رہی ہوں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل دیئے۔ میں نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان کو بتلایا کہ میرے سر پر گٹھلیاں تھیں۔ راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام مل گئے، آپ نے مجھے اپنے ساتھ سوار کرنے کے لیے سواری کو بٹھانے کا ارادہ کیا، لیکن میں تو شرما گئی اور میں آپ کی غیرت کو بھی جانتی ہوں۔ یہ سن کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میرے نزدیک تمہارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سوار ہونے سے تمہارا گٹھلیاں اٹھا کر لانامیرے لیے زیادہ ناگوار ہے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میری یہی صورت حال رہی،یہاں تک کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایک خدامہ میری طرف بھیج دی، پھر گھوڑے کی خدمت کے سلسلہ میں اس خادمہ نے میری ذمہ داریاں سنبھال لیں، اس نے آکر گویا مجھے آزاد کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں، ان کا لقب ذات النطاقین ہے، یہ قدیم الاسلام ہیں۔ انہوں نے جن دنوں اپنے شوہر سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ان کے بطن میں تھے، ایام حمل پورے ہو چکے تھے۔ مدینہ منورہ جاتے ہوئے انہوں نے قباء میں بچے (عبداللہ) کو جنم دیا، اس کے بعد ان کے بطن سے عروۃ، منذر، مہاجر، عاصم، خدیجہ کبریٰ، ام الحسن، اور عائشہ پیدا ہوئے۔مہاجرین میں سے سب سے آخر میں ان کی وفات ہوئی، سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہا سخاوت اور خوابوں کی تعبیر بیان کرنے میں معروف تھیں۔ ان کی ولادت ہجرت سے ستائیس سال قبل اور وفات (۷۳) سن ہجری میں سو سال کی عمر میں ہوئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11975
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3151، 5224،ومسلم: 2182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27476»