کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: صحابۂ کرام کے دورکی تحدید اور ان سے اور دوسرے حضرات سے متعلقہ تاریخی امور کا بیان
حدیث نمبر: 11606
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِقَلِيلٍ أَوْ بِشَهْرٍ ”مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ أَوْ مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ الْيَوْمَ مَنْفُوسَةٍ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ حَيَّةٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی وفات سے تقریباً ایک ماہ قبل ارشاد فرمایا: آج روئے زمین پر تم میں سے جو کوئی بھی نفس موجود ہے، سوسال بعد ان میں سے کوئی بھی زندہ باقی نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 11607
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دِجَاجَةَ أَنَّهُ قَالَ دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ مِمَّنْ هُوَ حَيٌّ الْيَوْمَ“ وَاللَّهِ إِنَّ رَجَاءَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ مِائَةِ عَامٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نعیم بن دجانہ سے مروی ہے کہ ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم یہ کہتے ہو کہ لوگوں پر سو سال گزریں گے تو ان میں سے کوئی بھی آنکھ پھڑکتی نہ ہوگی ( یعنی قیامت بپا ہو جائے گی اور کوئی آدمی زندہ باقی نہ رہے گا۔) جبکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ آج روئے زمین پر جو بھی آنکھ پھڑک رہی ہے یعنی جو بھی انسان زندہ موجود ہے، آج سے سوسال کے بعد ان میں سے کوئی بھی زندہ باقی نہ ہوگا۔ اللہ کی قسم! اس امت کی خوش حالی کا اصل دور تو سوسال کے بعد بھی ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … جو روایت سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی، اس کا مفہوم بھی دوسری روایات والا ہے، صرف لفظوں میں کچھ فرق ہے۔
حدیث نمبر: 11608
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ فَلَمَّا قَامَ قَالَ ”أَرَأَيْتُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ“ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَوَهِلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ فِيمَا يَتَحَدَّثُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا يَبْقَى الْيَوْمَ مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يُرِيدُ أَنْ يَنْخَرِمَ ذَلِكَ الْقَرْنُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی کے اواخر میں ایک رات عشاء کی نماز پڑھائی اور پھر کھڑے ہو کر فرمایا: آج رات جو بھی جان دار اس روئے زمین پر موجود ہے، سو سال بعد ان میں سے ایک بھی زندہ باقی نہیں رہے گا۔ سیدنا عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بات سن کر سب لوگ دم بخود رہ گئے اور سو سال سے متعلقہ ان احادیث کے متعلق مختلف باتیں کرنے لگے، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ آج جو لوگ روئے زمین پر موجود ہیں، سو سال بعد ان میں سے کوئی بھی زندہ باقی نہ رہے گا، یعنی یہ طبقہ اور زمانہ ختم ہو جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مستقبل کے بارے میں مختلف پیشین گوئیاں کی تھیں، ایک پیشین گوئی کا ذکر درج بالا احادیث میں ہے۔
ان تمام روایات کا مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کے آخری دور میں جتنے انسان موجود تھے، وہ سارے کے سارے سو سال کے اندر اندر فوت ہو جائیں،یعنی سو برسوں تک یہ زمانہ اور طبقہ ختم ہو جائے گا، اور ایسے ہی ہوا۔
حافظ ابن حجر نے کہا: وکذالک وقع بالاستقراء فکان آخر من ضبط أمرہ ممن کان موجودا حینئذ أبو الطفیل عامر بن واثلۃ، وقد أجمع أھل الحدیث علی انہ کان آخر الصحابۃ موتا، وغایۃ ما قیل فیہ انہ بقی الی سنۃ عشر ومائۃ وھی رأس مائۃ سنۃ من مقالۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واللہ اعلم۔ … اور تحقیقی طور پر اسی طرح واقع ہوا، پس آخری صحابی جس کے حالات قلم بند کیے گئے اور جو اس وقت موجود تھا، وہ سیدنا ابو الطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ ہے، اس پر محدثین کا اتفاق ہے کہ وہ صحابہ میں سب سے آخر میں فوت ہوئے تھے، زیادہ سے زیادہ ان کے لیٹ فوت ہونے کے بارے میں رائے
یہ ہے کہ وہ ۱۱۰ھمیں فوت ہوئے، (نہ کہ پہلی صدی کے آخر میں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کو سو سال اسی کی وفات پر پورے ہوئے تھے۔ واللہ اعلم۔ (فتح الباری: ۲/ ۹۵)
وضاحت: درج ذیل احادیث میں بعض تاریخی واقعات بیان کیے گئے، اگر کسی حدیث میں کوئی فقہی مسئلہ ہے تو وہ متعلقہ کتاب اور باب میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے۔
ان تمام روایات کا مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کے آخری دور میں جتنے انسان موجود تھے، وہ سارے کے سارے سو سال کے اندر اندر فوت ہو جائیں،یعنی سو برسوں تک یہ زمانہ اور طبقہ ختم ہو جائے گا، اور ایسے ہی ہوا۔
حافظ ابن حجر نے کہا: وکذالک وقع بالاستقراء فکان آخر من ضبط أمرہ ممن کان موجودا حینئذ أبو الطفیل عامر بن واثلۃ، وقد أجمع أھل الحدیث علی انہ کان آخر الصحابۃ موتا، وغایۃ ما قیل فیہ انہ بقی الی سنۃ عشر ومائۃ وھی رأس مائۃ سنۃ من مقالۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واللہ اعلم۔ … اور تحقیقی طور پر اسی طرح واقع ہوا، پس آخری صحابی جس کے حالات قلم بند کیے گئے اور جو اس وقت موجود تھا، وہ سیدنا ابو الطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ ہے، اس پر محدثین کا اتفاق ہے کہ وہ صحابہ میں سب سے آخر میں فوت ہوئے تھے، زیادہ سے زیادہ ان کے لیٹ فوت ہونے کے بارے میں رائے
یہ ہے کہ وہ ۱۱۰ھمیں فوت ہوئے، (نہ کہ پہلی صدی کے آخر میں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کو سو سال اسی کی وفات پر پورے ہوئے تھے۔ واللہ اعلم۔ (فتح الباری: ۲/ ۹۵)
وضاحت: درج ذیل احادیث میں بعض تاریخی واقعات بیان کیے گئے، اگر کسی حدیث میں کوئی فقہی مسئلہ ہے تو وہ متعلقہ کتاب اور باب میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے۔
حدیث نمبر: 11609
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ثَنَا زُهْرَةُ أَبُو عَقِيلٍ الْقُرَشِيُّ أَنَّ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ احْتَلَمَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَكَحَ النِّسَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو عقیل زہرہ قرشی نے بیان کیا کہ اس کا دادا سیدنا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بالغ ہوا اور عورتوں سے نکاح بھی کیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس روایت کا مقصود یہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ نے دورِ نبوت کو پایا اور اسی دور میں بالغ ہو گئے تھے اور شادیاں کی تھیں۔
حدیث نمبر: 11610
عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ عَقَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي لَفْظٍ فِي وَجْهِهِ مِنْ دَلْوٍ كَانَ فِي دَارِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زہری سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں : مجھے سیدنا محمود بن لیبد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی اور (انھوں نے اس زیارت کو خوب سمجھا ہے، یہاں تک کہ) انھوں نے یہ بھی سمجھا کہ ان کے گھر میں ایک ڈول تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کلی کی اور کلی والا پانی اس کے چہرے پر پھینکا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ اپنی زیارت کی ایک دلیل بیان کر رہے ہیں، چونکہ یہ بڑا شرف تھا، اس لیے صحابۂ کرام باریک بینی کے ساتھ اس کا معائنہ کرتے اور پھر اس کو بیان کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 11611
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَجَّ بِي أَبِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے اپنے ساتھ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں شرکت کی تھی، جبکہ میری عمر سات برس تھی۔
حدیث نمبر: 11612
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَتَلَاعَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا قَالَ فَجَاءَتْ بِهِ لِلَّذِي يَكْرَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں پیش آنے والے واقعہ لعان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، میاں بیوی نے آپس میں لعان کیا تھا، جبکہ اس وقت میری عمر پندرہ برس تھی۔لعان کرنے والا شوہر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ! اگر اب میں اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھتا ہوں تو گویا اس پر میں نے جھوٹا الزام لگایا ہے۔ پھر لعان کرنے والی عورت نے ایسی شکل والا بچہ جنم دیا تھا، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناپسند کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے لعان مسجد میں کیا تھا اور میں حاضر تھا اور عصر کے بعد کیا تھا، یہ تمام مسائل پہلے گزر چکے ہیں۔
حدیث نمبر: 11613
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يَتَوَضَّأُ إِذَا جَامَعَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْجِعَ“ قَالَ سُفْيَانُ أَبُو سَعِيدٍ أَدْرَكَ الْحَرَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی ایک دفعہ مجامعت کے بعد دوبارہ لوٹنا چاہے تو وہ وضو کر لے۔ سفیان نے کہا: سیدنا ابو سعید، حرّہ کی لڑائی کے بعد تک زندہ رہے۔
وضاحت:
فوائد: … ۶۳ھمیںیزید بن معاویہ اور اہل مدینہ کے ما بین حرہ کی لڑائی واقع ہوئی تھی۔
اس باب کی احادیث سے اور حدیث نمبر (۹۰۳) کی شرح میں مذکورہ حدیث سے پتہ چلا کہ جنبی آدمی کھانا کھاتے وقت ہاتھ دھوئے یا وضو کرے، اگر ہاتھوں پر نجاست کے آثار ہوں تو ہاتھ دھونا ضروری ہوں گے۔
دیکھیں حدیث نمبر (۹۰۶) کا باب
اس باب کی احادیث سے اور حدیث نمبر (۹۰۳) کی شرح میں مذکورہ حدیث سے پتہ چلا کہ جنبی آدمی کھانا کھاتے وقت ہاتھ دھوئے یا وضو کرے، اگر ہاتھوں پر نجاست کے آثار ہوں تو ہاتھ دھونا ضروری ہوں گے۔
دیکھیں حدیث نمبر (۹۰۶) کا باب
حدیث نمبر: 11614
حَدَّثَنَا قَرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خِفَافٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْغَلَّةَ بِالضَّمَانِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَبِي سَمِعْتُ مِنْ قَرَّانَ بْنِ تَمَّامٍ فِي سَنَةِ إِحْدَى وَثَمَانِينَ وَمِائَةٍ وَكَانَ ابْنُ الْمُبَارَكِ بَاقِيًا وَفِيهَا مَاتَ ابْنُ الْمُبَارَكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ نفع ضمانت کے عوض ہوتا ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد امام احمد بن حنبل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: میں نے قران بن تمام سے ۱۸۱ ھ میں سماع کیا تھا، اس سال امام ابن مبارک حیات تھے، لیکن پھر اسی سال ان کا انتقال ہو گیا تھا۔
حدیث نمبر: 11615
عَنْ شَرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ سَبْعَةَ نَفَرٍ خَمْسَةً قَدْ صَحِبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاثْنَيْنِ قَدْ أَكَلَا الدَّمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَلَمْ يَصْحَبَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا اللَّذَانِ لَمْ يَصْحَبَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَبُو عُقْبَةَ الْخَوْلَانِيُّ وَأَبُو فَاتِحٍ الْأَنْمَارِيُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شرجیل بن مسلم خولانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے سات ایسے افراد کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے کہ ان میں سے پانچ تو وہ ہیں، جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا اعزاز حاصل تھا اور دو آدمی ایسے تھے، جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل نہ ہو سکا، وہ قبل از اسلام دور جاہلیت میں جانوروں کے جسم سے بہنے والا خون پیا کرتے تھے، ان کے نام ابو عقبہ خولانی اور ابو صالح انماری ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ابو عقبہ خولانی کے صحابی ہونے یا نہ ہونے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔