کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 11597
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانکا اور فرمایا: تم جو چاہو عمل کرتے رہو، میں نے تم کو بخش دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11597
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه ابوداود: 4654، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7940 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7927»
حدیث نمبر: 11598
عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَنْ يَدْخُلَ النَّارَ رَجُلٌ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والوں میں سے کوئی آدمی جہنم میں ہر گز نہیں جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11598
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15335»
حدیث نمبر: 11599
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ أَوْ مَلَكًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا تَعُدُّونَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا فِيكُمْ قَالُوا ”خِيَارَنَا“ قَالَ كَذَلِكَ هُمْ عِنْدَنَا خِيَارُنَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام یاکوئی اور فرشتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: تم لوگوں کے ہاں اہل بدر کا کیا مقام ہے؟ صحابۂ کرام نے کہا: وہ ہم میں سب سے افضل اور بہتر ہیں۔ اس فرشتے نے کہا:ہمارے ہاں بھی معاملہ اسی طرح ہے کہ بدر میں شریک ہونے والے فرشتے باقی فرشتوں کی بہ نسبت بہتر اور افضل ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11599
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3993، 3994، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15914»
حدیث نمبر: 11600
عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلَ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحَدٌ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ“ قَالَتْ فَقُلْتُ أَلَيْسَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: 71] قَالَتْ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ”ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا“ [مريم: 72]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والوں میں سے کوئی فرد ان شاء اللہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ کا ارشاد اس طرح نہیں ہے کہ {وَاِنْ مِنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا} … اور تم میں سے کوئی نہیں ہے، مگر وہ جہنم میں وارد ہونے والا ہے۔ سیدہ کہتی ہیں: پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے آگے یوں تلاوت کرتے ہوئے سنا: {ثُمَّ نُنْجِی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیَّا} … پھر ہم اللہ سے ڈرنے والوں کو نجات دے دیں گے اور کافروں کو گھٹنوں کے بل جہنم میں پڑا رہنے دیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَائَ اللّٰہُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَۃِ أَحَدٌ الَّذِینَ بَایَعُوْا تَحْتَہَا۔)) فَقَالَتْ: بَلٰییَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَانْتَہَرَہَا، فَقَالَتْ حَفْصَۃُ: {وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا} فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((قَدْ قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِینَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِینَ فِیہَا جِثِیًّا} [مریم: ۷۲]۔)) (صحیح مسلم: ۲۴۹۶، واللفظ لاحمد)
جن لوگوں نے حدیبیہ کے مقام پردرخت کے نیچے میری بیعت کی تھی، ان شاء اللہ ان میں سے کوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہو گا۔ سیدنا حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ڈانٹا تو انھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرمایا: {وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا} … اوربے شک تم میں سے ہر ایک دوزخ میں وارد ہونے والا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے: {ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِینَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِینَ فِیہَا جِثِیًّا} … پھر ہم ان لوگوں کو جو پرہیز گار ہوئے، دوزخ سے نجات دیں گے اور ظالموں کو ہم اس میں گھٹنوں کے بل چھوڑ دیں گے۔
اسرائیل سے مروی ہے کہ سدی کہتے ہیں: میں نے ہمدانی سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان { وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا} کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: سیدنا عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثُمَّ یَصْدُرُونَ مِنْہَا بِأَعْمَالِہِمْ فَأَوَّلُہُمْ کَلَمْحِ الْبَرْقِ ثُمَّ کَالرِّیحِ ثُمَّ کَحُضْرِ الْفَرَسِ ثُمَّ کَالرَّاکِبِ فِی رَحْلِہِ ثُمَّ کَشَدِّ الرَّجُلِ ثُمَّ کَمَشْیِہ۔)) … لوگ دوزخ پر وارد ہوں گے، اور پھر اپنے اپنے اعمال کے مطابق اس کو پار کریں گے، پہلا گروہ تو بجلی کی چمک کی طرح گزر جائے گا، دوسرا گروہ ہوا کی طرح، پھر گھوڑے کی رفتار کی طرح، پھر اونٹ کے سوار کی طرح، پھر انسان کی دوڑ کی مانند اور پھر انسان کے چلنے کی طرح دوزخ سے گزریں گے۔ (ترمذی)
ارشادِ باری تعالیٰ ہیں: {وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا۔ ثُمَّ نُـنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیًّا} … تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پورا کرنا تیرے رب کا ذمہ ہے۔ پھر ہم ان لوگوں کو بچا لیں گے جو دنیا میںمتقی تھے اور ظالموں کو اسی میں گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔ (سورۂ مریم: ۷۱، ۷۲)
جن لوگوں نے جہنم میں جانا ہوا، وہ پل صراط کو عبور نہ کر سکیں گے اور اس سے نیچے جہنم میں گر جائیں گے، لیکن جن لوگوں نے جنت میں جانا ہوا، وہ اس پل سے گزر کر جائیں گے، ان آیات میں اسی گزرنے کا ذکر ہے، حافظ ابن حجر نے کہا: دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے، جس نے جہنم میں داخل ہونے کی بات کی، اس کی مراد اس کے پل سے ہی گزرنا ہے، کیونکہ جو آدمی پل صراط کے اوپر سے گزرے گا، اس میں جہنم میں داخل ہونے کے معنی میں ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11600
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه ابن ماجه: 4281 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26440 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26972»
حدیث نمبر: 11601
عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ ”لَا تُوقِدُوا نَارًا بِلَيْلٍ“ قَالَ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ ”أَوْقِدُوا وَاصْطَنِعُوا فَإِنَّهُ لَا يُدْرِكُ قَوْمٌ بَعْدَكُمْ صَاعَكُمْ وَلَا مُدَّكُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ رات کو آگ نہ جلائیں (تاکہ دشمن کو ہمارا اندازہ نہ ہو)۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بعد میں جب حالات پر امن ہوئے تو آپ نے عام اجازت دے دی تھی کہ جب چاہو آگ جلا اور کھانا تیار کر سکتے ہو، پس بیشک شان یہ ہے کہ تمہارے بعد والی کوئی قوم تمہارے صاع اورمُدّ کو نہیں پہنچ سکتی۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی تم نے ان گھڑیوں میں صاع اور مُد کے بقدر اللہ کی راہ میں جو خرچ کیا ہے، بعد والے لوگ صدقے کی بڑی بڑی مقداروں کے ذریعے بھی اس اجر و ثواب کو نہیں پا سکتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11601
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه ابويعلي: 984، والحاكم: 3/ 36 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11208 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11226»
حدیث نمبر: 11602
عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ جَاءَ غُلَامُ حَاطِبٍ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ حَاطِبٌ الْجَنَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كَذَبْتَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام مبشر زوجہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ کے غلام نے آکر کہا: اللہ کی قسم! حاطب جنت میں نہیں جائے گا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم غلط کہہ رہے ہو، وہ تو بدر اور حدیبیہ میں شرکت کر چکا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ سے ایک خطا سرزد ہوئی تھی، جس کا ذکر ذیل میں مذکورہ حدیث میں ہے، ممکن ہے کہ ان کے غلام کا یہی شکوہ ہو، لیکن اس چیز کا بھی احتمال ہے کہ کسی اور وجہ سے اس غلام نے اپنے مالک کی شکایت کی ہو: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بَعَثَنِی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنَا وَالزُّبَیْرَ وَالْمِقْدَادَ، فَقَالَ: ((انْطَلِقُوا حَتّٰی تَأْتُوا رَوْضَۃَ خَاخٍ فَإِنَّ بِہَا ظَعِینَۃً مَعَہَا کِتَابٌ فَخُذُوہُ مِنْہَا۔)) فَانْطَلَقْنَا تَعَادٰی بِنَا خَیْلُنَا حَتّٰی أَتَیْنَا الرَّوْضَۃَ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِینَۃِ، فَقُلْنَا: أَخْرِجِی الْکِتَابَ، قَالَتْ: مَا مَعِی مِنْ کِتَابٍ، قُلْنَا: لَتُخْرِجِنَّ الْکِتَابَ أَوْ لَنَقْلِبَنَّ الثِّیَابَ، قَالَ: فَأَخْرَجَتِ الْکِتَابَ مِنْ عِقَاصِہَا، فَأَخَذْنَا الْکِتَابَ، فَأَتَیْنَا بِہِ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَإِذَا فِیہِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِی بَلْتَعَۃَ إِلٰی نَاسٍ مِنْ الْمُشْرِکِینَ بِمَکَّۃَ،یُخْبِرُہُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((یَا حَاطِبُ! مَا ہٰذَا؟)) قَالَ: لَا تَعْجَلْ عَلَیَّ إِنِّی کُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِی قُرَیْشٍ، وَلَمْ أَکُنْ مِنْ أَنْفُسِہَا، وَکَانَ مَنْ کَانَ مَعَکَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ لَہُمْ قَرَابَاتٌ یَحْمُونَ أَہْلِیہِمْ بِمَکَّۃَ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِی ذٰلِکَ مِنْ النَّسَبِ فِیہِمْ أَنْ أَتَّخِذَ فِیہِمْیَدًایَحْمُونَ بِہَا قَرَابَتِی، وَمَا فَعَلْتُ ذٰلِکَ کُفْرًا وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِینِی وَلَا رِضًا بِالْکُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((إِنَّہُ قَدْ صَدَقَکُمْ۔)) فَقَالَ عُمَرُرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: دَعْنِی أَضْرِبْ عُنُقَ ہٰذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ: ((إِنَّہُ قَدْ شَہِدَ بَدْرًا، وَمَا یُدْرِیکَ لَعَلَّ اللّٰہَ قَدِ اطَّلَعَ عَلٰی أَہْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ۔)) (صحیح بخاری: ۳۰۰۷، ۴۲۷۴، ۴۸۹۰، صحیح مسلم: ۲۴۹۴، واللفظ لاحمد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے، سیدنا زبیر اور سیدنا مقدار کو بھیجا اور فرمایا: تم چلو، یہاں تک کہ روضۂ خاخ تک پہنچ جاؤ، وہاں ایک مسافر خاتون کے پاس ایک خط ہو گا، وہ خط اس سے لے لو۔ سو ہم چل پڑے، ہمارے گھوڑے دوڑتے گئے، یہاں تک کہ ہم اس روضہ کے پاس پہنچے، وہاں تو واقعی ایک خاتون موجود تھی، ہم نے اس سے کہا: خط نکال دے، اس نے کہا: میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے، ہم نے کہا: خط نکال دے، وگرنہ ہم تیرے کپڑے اتار دیں گے، یہ سن کر اس نے اپنے بالوں کی لٹ سے خط نکال دیا، ہم نے وہ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، اس خط میں یہ عبارت لکھی ہوئی تھی: یہ خط حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مکہ کے مشرکوں کی طرف ہے، …۔ وہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض امور کی خبر دے رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حاطب! یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: مجھ پر جلدی نہ کرنا (میں تفصیل بتاتا ہوں)، بات یہ ہے کہ میں معاہدے کی بنا پر قریشیوں سے ملا ہوا تھا اور میں نسبی لحاط سے ان میں سے نہیں تھا، آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں، ان کی قریشیوں سے رشتہ داریاں ہیں، جن کی وجہ سے وہ مکہ میں ان کے رشتہ داروں کی حفاظت کرتے ہیں، جب میں نے دیکھا کہ قریشیوں سے میرا نسب تو ملتا نہیں ہے، اس لیے میں نے سوچا کہ اگر میں ان پر کوئی ایسا احسان کر دوں کہ جس کی وجہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی بھی حفاظت کریں (اس مقصد کے لیے میں نے یہ کام کیا ہے)، نہ میں نے یہ کاروائی کفر کرتے ہوئے کی، نہ اپنے دین سے مرتد ہوتے ہوئے اور نہ اسلام کے بعد کفر کو پسند کرتے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شان یہ ہے کہ اس آدمی نے تم سے سچ بولا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: حضور! چھوڑیئے مجھے، میں اس منافق کی گردن اتار پھینکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بدر میں حاضر ہوا تھا، اور تجھے پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانکا اور کہا: آج کے بعد جو چاہو کر گزرو، میں نے تم کو معاف کر دیا ہے۔
سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیاری اور آمد کی خبر ارسال کی تھی۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں صحابۂ کرام کے مقام و مرتبہ کو سمجھنے کے لیے بہت بڑا نقطہ بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانِ اقدس سے جن صحابہ کی پیشگی معافی کا اعلان ہو چکا ہے، ان سے بعد میں ہونے والی خطاؤں کو نظر انداز کر دیا جائے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اس مغفرت کا اعلان کروا رہا تھا، اس کو پتہ تھا کہ ان نفوسِ قدسیہ میں سے فلاں آدمی سے اس قسم کی غلطی ہو گی۔ دراصل آغوشِ نبوت کی پروردہ ہستیوں کی نیکیوں کو قبول کرنے اور ان کے بشری تقاضوں کو معاف کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ضابطے امت ِ مسلمہ کے دوسرے افراد سے مختلف ہیں۔
دیکھیں سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اتنا بڑا راز فاش کر رہے ہیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو بڑی سنجیدگی سے لیتے ہوئے ان کو منافق سمجھ کر واجب القتل سمجھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت فرما دی کہ ان کی معافی کا اعلان تو پیشگی ہو چکا ہے۔ سبحان اللہ۔ لہذا صحابۂ کرام کے بارے میں زبان درازی کی رائے رکھنے والوں کو محتاط رہنا چاہیے اور اپنے نظریوں کی اصلاح کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11602
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 2495، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27045 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27585»
حدیث نمبر: 11603
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جن لوگوں نے (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے بیعت کی تھی، ان میں سے کوئی بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11603
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه ابوداود: 4653، والترمذي: 3860 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14837»
حدیث نمبر: 11604
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ عِدَّةَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَوْمَ بَدْرٍ عَلَى عِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ يَوْمَ جَالُوتَ ثَلَاثَ مِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ الَّذِينَ جَاوَزُوا مَعَهُ النَّهْرَ قَالَ وَلَمْ يُجَاوِزْ مَعَهُ النَّهْرَ إِلَّا مُؤْمِنٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ بدر والے دن صحابۂ کرام کی تعداد اتنی تھی، جتنی جالوت والے دن طالوت کے ساتھیوں کی تھی،یعنی تین سو چودہ پندرہ افراد تھے، جنہوں نے طالوت کے ساتھ نہرکو عبور کیا تھا اور نہر سے گزر جانے والے صرف مؤمن تھے۔
وضاحت:
فوائد: … موسی علیہ السلام کی وفات کے کچھ عرصہ بعد بنو اسرائیل کے مطالبے پر طالوت کو بادشاہ بنایا گیا، لیکن بنو اسرائیل نے اپنی عادت کے مطابق ان کی بادشاہت پر اعتراض کرنا شروع کر دیے، دوسرے پارے کے آخر میں اسی بادشاہ کا ذکر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11604
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3958، 3959 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18754»
حدیث نمبر: 11605
عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ حُذَيْفَةُ مَا أَخْبِيَةٌ بَعْدَ أَخْبِيَةٍ كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَدْرٍ مَا يُدْفَعُ عَنْهُمْ مَا يُدْفَعُ عَنْ أَهْلِ هَذِهِ الْأَخْبِيَةِ وَلَا يُرِيدُ بِهِمْ قَوْمٌ سُوءًا إِلَّا أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
بلال عبسی سے مروی ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا:بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جو خیمے تھے، ویسے اب خیمے کہاں ہیں؟ جو شرف اور مقام اہل بدر کا ہے وہ کسی دوسرے خیمے والوں کا کیسے ہو سکتا ہے؟ جس نے بھی اہل بدر کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا، اللہ کی طرف سے اس کی ایسی گرفت ہوئی کہ وہ اسی میں پھنسے رہ گئے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب میں غزوۂ بدر اور حدیبیہ میں شرکت کرنے والوں کی بڑی منقبت بیان کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11605
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اثر صحيح، اخرجه البزار: 2944، والطبراني في الاوسط : 3052 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23266 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23655»