کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: خواتین صحابہ رضی اللہ عنہنکی ایک جماعت کے مشترکہ خصائص
حدیث نمبر: 11588
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ غَيْرُ مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ وَآسِيَةَ امْرَأَةِ فِرْعَوْنَ وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مردوں میں سے بہت سے لوگوں کو درجۂ کمال حاصل ہوا ہے، البتہ عورتوں میں سے صرف مریم بنت عمران اور آسیہ زوجۂ فرعون ہی درجۂ کمال تک پہنچی ہیں اور عائشہ رضی اللہ عنہا کو باقی تمام عورتوں پر اسی طرح فضیلت ہے جیسے ثرید کو باقی سارے کھانوں پر۔
وضاحت:
فوائد: … مردوں میں بڑے بڑے باکمال اور کثیر تعداد میں افراد گزرے ہیں، جیسے انبیاء و رسل، صالحین، شہید، پرہیزگار، مجاہدین اور ذاکرین وغیرہ، لیکن خواتین میںایسا کمال کم عورتوںکے نصیبے میں آیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11588
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5418، ومسلم: 2431 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19668 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19904»
حدیث نمبر: 11589
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”خَيْرُ نِسَائِهَا بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام اپنے زمانے کی اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اپنے عہد کی خواتین میں سب سے بہتر تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم علیہا السلام اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو ایسی خصوصیات عطا کیں کہ جو دوسری خواتین کا مقدر نہ بن سکیں، سیدہ مریم علیہا السلام کو طاہر بنایا، مخصوص امور کے لیے ان کا انتخاب کیا، جبریل علیہ السلام نے ان سے کلام کیا، ان کے اندر روح پھونکی، وہ خاوند کے بغیر ایک عظیم پیغمبر کی ماں بن گئیں، ان کے بچے نے بچپنے کلام کیا اور اپنی ماں کی پاکدامنی کی شہادت دی، سیدہ مریم نے اپنے ربّ کے کلمات اور کتب کی تصدیق کی اور وہ عبادت گزاروں میں سے تھی۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا، کون ہے سیدہ خدیجہ، جب لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر کر رہے تھے، اس وقت سیدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں، جب تکبر کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رک رہے تھے، تب سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی، جب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بخل کر رہے تھے، اس وقت سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سخاوت کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اجنبیت طاری تھی، اس وقت سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انس کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا جبریل علیہ السلام کی پہلی آمد پر پریشان ہوئے، اس وقت سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل حمیدہ کا ذکر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پا س لے گئیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11589
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3432، ومسلم: 2430 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 640»
حدیث نمبر: 11590
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ قَالَ ”تَدْرُونَ مَا هَذِهِ“ فَقَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین پر چار خطوط کھینچے، پھر پوچھا: کیا تم ان لکیروں کے بارے میں جانتے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت والی خواتین میں سب سے افضل یہ چار ہیں: خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اورمریم بنت عمران۔
وضاحت:
فوائد: … موسی علیہ السلام کا فرعون کے محل میں دفاع کرنے والی سیدہ آسیہ علیہا السلام ہی تھیں، اس خاتون کی عظمت کو سلام، جس نے فرعون کے گھر میں رہ کر اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کر لیا، مندرجہ ذیل روایت پر غور کریں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اِنَّ فِرْعَوْنَ اَوْتَدَ لِاِمْرَاَتِہِ اَرْبَعَۃَ اَوْتَادٍ فِيْ یَدَیْھَا وَرِجْلَیْھَا، فَکَانُوْا اِذَا تَفَرَّقُوْا عَنْھَا ظَلَّلَتْھَا الْمَلَائِکَۃُ، فَقَالَتْ: {رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِيْ الْجَنَّۃِ وَنَجِّنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہِ وَنَجِّنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ}، فَکَشَفَ لَھَا عَنْ بَیْتِھَا فِيْ الْجَنَّۃِ۔ … فرعون نے اپنی بیوی کے دو ہاتھوں اور دو پاؤں میں چار میخیں گاڑ دیں۔ جب وہ (فرعونی) اس سے جدا ہوتے تھے تو فرشتے اس پر سایہ کر لیتے تھے، اس بیوی نے کہا: اے میرے ربّ! اپنے ہاں میرے لیے جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے بھی چھٹکارا نصیب فرما۔ سو اللہ تعالیٰ نے جنت میں اس کے گھر سے پردہ ہٹا کر (اسے اس کا گھر دکھا دیا)۔ (مسندابو یعلی:۴/۱۵۲۱ـ ۱۵۲۲، صحیحہ: ۲۵۰۸)
اللہ کے بندوں پر آزمائشیں ضرور آتی ہیں، لیکن ان آزمائشوں پر صبر کرنے کی وجہ سے انہیںجو رحمت ِ خداوندی نصیب ہوتی ہے، وہ ان مصائب سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11590
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطيالسي: 2710، والطبراني: 2168 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2668 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2668»