حدیث نمبر: 11585
عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَرْحَمُ أُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ وَأَشَدُّهَا فِي دِينِ اللَّهِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهَا حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَعْلَمُهَا بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأَقْرَؤُهَا لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيٌّ وَأَعْلَمُهَا بِالْفَرَائِضِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سب سے زیادہ رحم دل ابو بکر ہیں، امت میں دین کے بارے میں عمر سب سے سخت ہیں، امت میں عثمان رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ حیا دار ہیں، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ حلال و حرام کے متعلق سب سے زیادہ جانتے ہیں، قرآن کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ قاری ابی بن کعب ہیں اور امت میں مسائل وراثت (یا فرائض) کے بڑے عالم زید بن ثابت ہیں اور ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابو عبیدہ بن جراح ہیں۔
حدیث نمبر: 11586
عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمِيرَةَ قَالَ لَمَّا حَضَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ الْمَوْتُ قِيلَ لَهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَوْصِنَا قَالَ أَجْلِسُونِي فَقَالَ إِنَّ الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ مَكَانَهُمَا مَنِ ابْتَغَاهُمَا وَجَدَهُمَا يَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَالْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَةِ رَهْطٍ عِنْدَ عُوَيْمِرٍ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَعِنْدَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ الَّذِي كَانَ يَهُودِيًّا ثُمَّ أَسْلَمَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّهُ عَاشِرُ عَشَرَةٍ فِي الْجَنَّةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یزید بن عمیرہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان سے کہا گیا: اے ابوعبدالرحمن! آپ ہمیں کوئی وصیت ہی کر دیں،انھوں نے کہا:مجھے بٹھا دو۔ پھر انھوں نے کہا: علم اور ایمان ایسی چیزیں ہیں کہ جو آدمی انہیں ان کے مرکز اور مقام سے حاصل کرنے کی کوشش کرے تو وہ انہیں حاصل کر ہی لیتا ہے۔ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی۔ تم چار آدمیوں سے علم حاصل کرو: سیدنا ابو درداء عویمر، سیدنا سلمان فارسی، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا عبداللہ بن سلام سے، مؤخر الذکر پہلے یہودی تھے، بعد میں انھوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ وہ جنت میں جانے والے خاص دس آدمیوں میں سے ایک ہوں گے۔
حدیث نمبر: 11587
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا فَقَالَ ”إِنِّي لَا أَدْرِي مَا قَدْرُ بَقَائِي فِيكُمْ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي“ وَأَشَارَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ”وَتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ عَمَّارٍ وَمَا حَدَّثَكُمْ ابْنُ مَسْعُودٍ فَصَدِّقُوهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ میں کتنا عرصہ تمہارے درمیان رہوں گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: تم میرے بعد ان دونوں کی اقتدا کرنا، عمار کے عہد کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور عبداللہ بن مسعود تمہیں جو کچھ بیان کریں ان کی تصدیق کرنا۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب میں بعض صحابہ کی اغلبی صفات کابیان ہے، جس صحابی میں جو صلاحیت غالب تھی، وہ اس لائق ہوتا کہ اس سے یہ فیض حاصل کیا جائے۔