کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا جعفر بن ابی طالب، سیدنا عبداللہ بن رواحہ اور سیدنا خالد بن ولید کے مشترکہ مناقب کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11584
عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ فَوَجَدْتُهُ قَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْأُمَرَاءِ وَقَالَ ”عَلَيْكُمْ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَإِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ فَجَعْفَرٌ فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ الْأَنْصَارِيُّ“ فَوَثَبَ جَعْفَرٌ فَقَالَ بِأَبِي أَنْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَأُمِّي مَا كُنْتُ أَرْهَبُ أَنْ تَسْتَعْمِلَ عَلَيَّ زَيْدًا قَالَ ”امْضُوا فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّ ذَلِكَ خَيْرٌ“ قَالَ فَانْطَلَقَ الْجَيْشُ فَلَبِثُوا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ وَأَمَرَ أَنْ يُنَادَى الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”نَابَ خَبَرٌ أَوْ ثَابَ خَبَرٌ شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ جَيْشِكُمْ هَذَا الْغَازِي إِنَّهُمْ انْطَلَقُوا حَتَّى لَقُوا الْعَدُوَّ فَأُصِيبَ زَيْدٌ شَهِيدًا فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ“ فَاسْتَغْفَرَ لَهُ النَّاسُ ”ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَشَدَّ عَلَى الْقَوْمِ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا أَشْهَدُ لَهُ بِالشَّهَادَةِ فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأَثْبَتَ قَدَمَيْهِ حَتَّى أُصِيبَ شَهِيدًا فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ“ وَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْأُمَرَاءِ هُوَ أَمَّرَ نَفْسَهُ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَيْهِ وَقَالَ ”اللَّهُمَّ هُوَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِكَ فَانْصُرْهُ“ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَرَّةً فَانْتَصِرْ بِهِ فَيَوْمَئِذٍ سُمِّيَ خَالِدٌ سَيْفَ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”انْفِرُوا فَأَمِدُّوا إِخْوَانَكُمْ وَلَا يَتَخَلَّفَنَّ أَحَدٌ“ فَنَفَرَ النَّاسُ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ مُشَاةً وَرُكْبَانًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
خالد بن سمیر سے مروی ہے کہ عبداللہ بن رباح رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ تو میں نے ان کو اس حال میں پایا کہ لوگ ان کے اردگرد جمع تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شاہ سوار ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جیش الامراء بھیجا اور فرمایا تمہارے اوپر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ امیر ہیں۔ اگر وہ شہید ہو جائیں تو ان کے بعد جعفر رضی اللہ عنہ امیر ہوں گے۔ وہ بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ امیر ہوں گے۔ یہ سن کر جعفر رضی اللہ عنہ اچھل کر بولے اے اللہ کے نبی میرا والد آپ پر فدا ہو مجھے یہ توقع نہ تھی کہ آپ زید رضی اللہ عنہ کو مجھ پر امیر مقرر فرمائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم روانہ ہو جاؤ۔ تم نہیں جانتے کہ کونسی بات زیادہ بہتر ہے۔ لشکر روانہ ہو گیا۔ جب تک اللہ کو منظور تھا وہ لوگ سفر میں رہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے۔ اور آپ نے حکم دیا کہ نماز ہونے کا اعلان کیا جائے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک خبر پھیلی ہے۔ کیا میں تمہیں غزوہ میں مصروف اس لشکر کے متعلق نہ بتلاؤں؟ یہ لوگ گئے ان کی دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی۔ اور زید رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ تم ان کی مغفرت کی دعاء کرو۔ تو لوگوں نے ان کے حق میں دعائے مغفرت کی۔ ان کے بعد جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جھنڈا تھام لیا۔ وہ دشمن پر حملہ آور ہوئے۔ یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گئے۔ تم ان کی شہادت کی گواہی دو۔ لوگوں نے ان کے حق میں بھی مغفرت کی دعا کی۔ پھر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اُٹھا لیا۔ وہ بھی دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہے یہاں تک کہ وہ بھی شہادت سے سرفراز ہوئے۔ صحابہ نے ان کے حق میں بھی دعائے مغفرت کی۔ ان کے بعد خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اُٹھایا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقرر کردہ امیروں میں سے نہ تھے۔ پیش آمدہ حالات کے پیش ِنظر وہ از خود امیر بن گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیاں اُٹھا کر فرمایا: یا اللہ ! یہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔ تو اس کی مدد فرما۔ عبدالرحمن راوی نے ایک دفعہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکت سے وہ فتح یاب ہوئے۔ اس روز سے خالد رضی اللہ عنہ سیف اللہ کہلائے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم روانہ ہو جاؤ اور جا کر اپنے بھائیوں کی مدد کرو۔ اور تم میں سے کوئی پیچھے نہ رہے۔ لوگ شدید گرمی میں پیدل اور سوار روانہ ہو گئے۔
وضاحت:
فوائد: … غزوۂ موتہ میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین آدمیوں کو یکے بعد دیگرے امیر لشکر مقرر فرمایا تھا، اس لیے اس لشکر کو جیش الامرائ بھی کہا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان امراء کی شہادت کی خبر دی اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی اپیل کی اور صحابہ نے ان کے حق میں دعائے مغفرت کی، اس سے معلوم ہوا کہ شہداء کے حق میں دعائے مغفرت کرنی چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقرر کردہ امراء کی شہادت کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے از خود لشکر کی امارت کی ذمہ داری سنبھال لی، کیونکہ لشکر کو امیر کے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا تھا، اس سے معلوم ہوا کہ اس قسم کے مواقع پر قوم کو یونہی چھوڑنے کی بجائے کوئی مناسب آدمی کی قیادت کو سنبھال سکتا ہے۔
غزوۂ موتہ میں مجاہدین کی امارت و کمان سنبھالنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو سیف اللہ کا لقب دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11584
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه النسائي في الكبري : 8159، وابن ابي شيبة: 14/ 512، والدارمي: 2448 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22918»