کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ان فضائل و مناقب کا تذکرہ جو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ میں مشترک ہیں
حدیث نمبر: 11576
قَالَ نَافِعُ بْنُ عَبْدِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا وَفِي رِوَايَةٍ مِنْ حَوَائِطِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لِي أَمْسِكْ عَلَيَّ الْبَابَ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ فَضُرِبَ الْبَابُ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ ”ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ“ قَالَ فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ وَفِي رِوَايَةٍ قُفِّ الْبِئْرِ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ عُمَرُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُمَرُ قَالَ ”ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ“ قَالَ فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ قَالَ ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ عُثْمَانُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُثْمَانُ قَالَ ”ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَهَا بَلَاءٌ“ وَفِي رِوَايَةٍ وَسَيَلْقَى بَلَاءً فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا نافع بن عبدالحارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گیا،یہاں تک کہ آپ مدینہ منورہ کے باغات میں سے ایک ایسے باغ میں داخل ہو گئے، اس کے باہر چار دیواری بنی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم دروازے پر ٹھہرو ۔ اور آپ خود کنوئیں کی منڈیر پر جا بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں کنوئیں کے اندر لٹکالیے، کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے پوچھا: کون ہو؟آنے والے نے کہا: میں ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ابوبکر آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور ساتھ جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی اور جنت کی بھی بشارت دے دی۔ وہ آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہی اسی طرح کنوئیں میں پاؤں لٹکا کر کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ گئے، کچھ دیر بعد پھر دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔ میں نے پوچھا: کون ہو؟ اس نے کہا: میں عمر رضی اللہ عنہ ہوں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ عمرآئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی اور جنت کی بھی بشارت سنا دی، وہ آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کنوئیں کی منڈیر پر کنوئیں میں پاؤں لٹکا کر بیٹھ گئے۔ پھر کچھ دیربعد دروازے پر دستک دی گئی۔ میں نے پوچھا: کون ہو؟ انہوں نے کہا: میں عثمان ہوں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ عثمان رضی اللہ عنہ آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو، لیکن کچھ آزمائش کے بعد۔ میں نے انہیں بھی اندر آنے کی اجازت دی اور جنت کی بھی بشارت سنائی۔ وہ بھی آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (آپ کے سامنے) کنوئیں میں پاؤں لٹکا کر کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ گئے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی آزمائش سے مراد وہ حالات ہیں، جو ان کی شہادت کے وقت پیدا ہو گئے تھے اور جن کی وجہ سے وہ بالآخر شہید ہو گئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11576
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه عن ابي موسي الاشعري البخاري: 3695، 7097، 7262ومسلم: 2403، ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15374 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15448»
حدیث نمبر: 11577
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاسْتَأْذَنَ فَقَالَ ”ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ“ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاسْتَأْذَنَ فَقَالَ ”ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ“ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاسْتَأْذَنَ فَقَالَ ”ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ“ قَالَ فَقُلْتُ فَأَيْنَ أَنَا قَالَ ”أَنْتَ مَعَ أَبِيكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور ساتھ جنت کی بشارت بھی دے دو۔ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے بھی آنے کی اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: انہیں بھی اندر کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ اس کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے بھی اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم انہیں اندر آنے کی اجازت اور جنت کی بشارت دے دو۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا کہ میں کہاں ہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے باپ کے ساتھ ہو گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11577
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6548 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6548»
حدیث نمبر: 11578
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَسِبْتُهُ قَالَ فِي حَائِطٍ فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اذْهَبْ فَأْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ“ فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ فَمَا زَالَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى جَلَسَ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَسَلَّمَ فَقَالَ ”ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ“ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ فَمَا زَالَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى جَلَسَ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَسَلَّمَ فَقَالَ ”اذْهَبْ فَأْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى شَدِيدَةٍ“ قَالَ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى شَدِيدَةٍ قَالَ فَجَعَلَ يَقُولُ اللَّهُمَّ صَبْرًا حَتَّى جَلَسَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک باغ میں تھا کہ ایک آدمی نے آکر سلام کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جا کر ان کو اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں نے دروازے پر جا کر دیکھا تو وہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے ان سے کہا: جی اندر آجائیں اور آپ کو جنت کی بشارت ہو۔ وہ اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کرنے لگے یہاں تک کہ بیٹھ گئے۔ اس کے بعد ایک اور آدمی نے آکر سلام کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر اسے بھی اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں دروازے پر گیا تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے ان سے کہا: اندر آجائیں اور آپ کو جنت کی بشارت ہو۔ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کرتے ہوئے بیٹھ گئے۔ پھر ایک اور آدمی نے آکر سلام کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر اسے بھی اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا، لیکن یہ جنت ایک سخت امتحان کے بعد ملے گی۔ میں گیا تو وہ عثمان رضی اللہ عنہ تھے، میں نے ان سے کہا کہ اندر آجائیں اور آپ کو جنت کی بشارت ہو، لیکن ایک سخت امتحان اور آزمائش کے بعد ملے گی۔ تو وہ کہنے لگے: یا اللہ! مجھے اس وقت صبر کی توفیق سے نوازنا، وہ یہ دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ بھی بیٹھ گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11578
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3695، 7262،ومسلم: 2403 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19509 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19738»
حدیث نمبر: 11579
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ كَأَنَّ دَلْوًا دُلِّيَتْ مِنَ السَّمَاءِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيبِهَا فَشَرِبَ مِنْهُ شَرْبًا ضَعِيفًا قَالَ عَفَّانُ وَفِيهِ ضَعْفٌ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيبِهَا فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيبِهَا فَشَرِبَ فَانْتَشَطَتْ مِنْهُ فَانْتَضَحَ عَلَيْهِ مِنْهَا شَيْءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا آسمان سے ایک ڈول نیچے لٹکایا گیا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آکر ڈول کو دونوں طرف سے پکڑ کر اس سے تھوڑا سا پانی پیا اور ان کے پینے میں کچھ کمزوری سی تھی۔ ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے ڈول کو دونوں طرف سے پکڑ کر خوب سیراب ہو کر پیا، ان کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے بھی ڈول کو دونوں طرف سے تھام لیا، اس میں کچھ لرزہ سا تھا۔ اس میں سے کچھ چھینٹے عثمان رضی اللہ عنہ پر جا گرے۔
وضاحت:
فوائد: … مسند احمد کی روایت میں ایک جملہ ساقط ہو گیا ہے، ممکن ہے کہ کاتب یا پبلشر سے یہ غلطی ہو گئی ہو، اس جملے کے علاوہ حدیث کا معنی سمجھ نہیں آتا، سنن ابو داود کی روایت مکمل ہے، اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعد اس طرح ذکر ہے: پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور انھوں نے ڈول کو دونوں طرف سے پکڑ کر خوب سیر ہو کر پانی پیا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوںنے ڈول کو دونوں طرف سے تھام لیا، اس میں کچھ لرزہ سا تھا۔ اس میں سے کچھ چھینٹے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر جا گرے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کمزوری سے مراد ان کی مدتِ خلافت کا کم ہونا ہے، جو کہ دو برسوں سے کچھ زیادہ تھی اور سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے سیراب ہونے سے مراد ان کی مدتِ خلافت کا طویل ہونا ہے، جو کہ بالترتیب تقریباً دس سال اور بارہ برس تھی، لرزے سے مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلافت کا مختصر ہونا ہے، جو کہ چار برس اور نو ماہ تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11579
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه ابوداود: 4637 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20242 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20505»
حدیث نمبر: 11580
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا عَلَى حِرَاءٍ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوہ حراء پر تشریف فرما تھے،سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدناعثمان رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، اچانک کوہ حراء (خوشی سے) جھومنے لگا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حراء ٹھہر جا، تجھ پر نبی ہے، یا صدیق ہے، یا شہید ہے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود نبی تھے، سیدنا ابو بکر صدیق تھے اور سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما شہید تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11580
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22936 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23324»
حدیث نمبر: 11581
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَعُدُّ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ وَأَصْحَابُهُ مُتَوَافِرُونَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ ثُمَّ نَسْكُتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں ہم ابو بکر، عمر اور عثمان کے نام اسی ترتیب سے لیا کرتے اور اس کے بعد ہم خاموش ہو جاتے تھے، جبکہ صحابۂ کرام کثیر تعداد میں تھے ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11581
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3655 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4626 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4626»
حدیث نمبر: 11582
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَقَالَ ”رَأَيْتُ قُبَيْلَ الْفَجْرِ كَأَنِّي أُعْطِيتُ الْمَقَالِيدَ وَالْمَوَازِينَ فَأَمَّا الْمَقَالِيدُ فَهَذِهِ الْمَفَاتِيحُ وَأَمَّا الْمَوَازِينُ فَهِيَ الَّتِي تَزِنُونَ بِهَا فَوُضِعْتُ فِي كِفَّةٍ وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ فَوُزِنْتُ بِهِمْ فَرَجَحْتُ ثُمَّ جِيءَ بِأَبِي بَكْرٍ فَوُزِنَ بِهِمْ فَوَزَنَ ثُمَّ جِيءَ بِعُمَرَ فَوُزِنَ فَوَزَنَ ثُمَّ جِيءَ بِعُثْمَانَ فَوُزِنَ بِهِمْ ثُمَّ رُفِعَتْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک روز طلوع آفتاب کے بعدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور فرمایا: میں نے آج طلوع فجر سے کچھ دیر قبل یوں دیکھا کہ گویا مجھے چابیاں اور ترازو دیئے گئے، چابیاں تو یہی چابیاں ہیں، اور ترازو سے مراد بھی یہی ترازو ہیں، جن سے تم اشیاء کا وزن کرتے ہو۔ مجھے ترازو کے ایک پلڑے میں اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھ کر میرا ان کے بالمقابل وزن کیا گیا تو میں بھاری رہا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لا کر ان کے بالمقابل وزن کیا گیا۔ تو وہ بھاری رہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو لایا گیا اور وزن کیا گیا تو وہ بھاری رہے، اس کے بعد ترازو کو اوپر اٹھا لیا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ چابیاں، اس سے یہ تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ یہ امت ان چابیوں کے ذریعے زمین کے خزانے دریافت کرے گی۔
یہ ترازو، جن سے تم وزن کرتے ہو، ممکن ہے کہ اس کا معنییہ ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ترازو دیئے گئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کو عدل وانصاف کا حکم دیں، اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کا معنییہ ہو کہ اس امت کو اسرار و رموز عطا کیے گئے ہیں، جن کے ذریعےیہ بعض امور کو بعض پر ترجیح دے گی، جیسے بعض انبیا کو بعض پر ترجیح دینا، بعض صحابہ کو بعض پر ترجیح دینا اور یہ بھی ممکن ہے کہ کہ ان ترازوؤں کو ان ہی ہستیوں کا وزن کرنے کے لیے لایا گیا ہو، تاکہ ان کی فضیلت ثابت ہو جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11582
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبيد الله بن مروان في عداد المجھولين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5469»