کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں مشترک ہیں
حدیث نمبر: 11562
عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا قَالَ فَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالثَّانِي قَالَ فَذَكَرَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ لَوْ شِئْتُ لَأَنْبَأْتُكُمْ بِالثَّالِثِ قَالَ وَسَكَتَ فَرَأَيْنَا أَنَّهُ يَعْنِي نَفْسَهُ فَقُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ يَقُولُ هَذَا قَالَ نَعَمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ وَإِلَّا صُمَّتَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد خیر ہمدانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ منبر پر تشریف فرما تھے اور کہہ رہے تھے: لوگو! کیا میں تمہیں نہ بتلاؤں کہ اس امت میں نبی کے بعد کون سب سے افضل ہے؟ پھر انہوں نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا نام لیا۔ پھر کہا: کیا میں تمہیں اس آدمی کے بارے میں نہ بتلاؤں جو نبی کے بعد امت میں دوسرے درجہ پر ہے؟ پھر انہوں نے خود ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نام لیا۔ اور پھر کہا: اگر میں چاہوں تو تمہیں اس آدمی کے متعلق بتلا سکتا ہوں جو تیسرے درجہ پر ہے۔ عبد خیر کہتے ہیں کہ یہ کہہ کرو ہ خاموش رہے۔ ہم یہی سمجھے کہ وہ اپنے آپ کو مراد لے رہے ہیں۔ میں نے ان سے دریافت کیا، کیا آپ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، رب کعبہ کی قسم!، اگر میں نے خود نہ سنا ہو تو میرےیہ کان بہرے ہو جائیں۔
حدیث نمبر: 11563
حَدَّثَنِي أَبُو جُحَيْفَةَ الَّذِي كَانَ عَلِيٌّ يُسَمِّيهِ وَهْبَ الْخَيْرِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَبَا جُحَيْفَةَ أَلَا أُخْبِرُكَ أَفْضَلَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا قَالَ قُلْتُ بَلَى وَلَمْ أَكُنْ أَرَى أَنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْهُ قَالَ أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَبَعْدَهُمَا آخَرُ ثَالِثٌ وَلَمْ يُسَمِّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو حجیفہ، جنہیں علی رضی اللہ عنہ وہب الخیر کے لقب سے یاد کیا کرتے تھے، ان سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابو جحیفہ! کیا میں تمہیں یہ نہ بتلاؤں کہ اس امت میں نبی کے بعد افضل ترین آدمی کون ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ضرور بتلائیں اور میرا خیال تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے افضل کوئی نہیں ہو سکتا۔ لیکن انھوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے افضل سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، ان کے بعد سیدناعمر رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد ایک تیسرا آدمی ہے، پھر انہوں نے اس کا نام نہ لیا۔
حدیث نمبر: 11564
عَنْ وَهْبِ بْنِ الشَّوَائِيِّ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَنْ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا فَقُلْتُ أَنْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ لَا خَيْرُ هَذِهِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَمَا نُبْعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
وہب سوائی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اورپوچھا کہ اس امت میں نبی کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ خود ہیں، اے امیر المؤمنین! لیکن انھوں نے کہا: نہیں، اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں اور ہم اس امر کو بعید نہیں سمجھتے کہ سکون اور وقار عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر بولتا ہے۔
وضاحت:
وہب سوائی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اورپوچھا کہ اس امت میں نبی کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ خود ہیں، اے امیر المؤمنین! لیکن انھوں نے کہا: نہیں، اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں اور ہم اس امر کو بعید نہیں سمجھتے کہ سکون اور وقار عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر بولتا ہے۔
حدیث نمبر: 11565
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَبَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ وَثَلَّثَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ثُمَّ خَبَطَتْنَا أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَةٌ يَعْفُو اللَّهُ عَمَّنْ يَشَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فضیلت و مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے آگے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نائب کے طور پر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے امامت کے فرائض سر انجام دیئے اور تیسرا درجہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ ان کے بعد ہم فتنوں میں مبتلا ہوگئے اور اللہ جس سے چاہے گا، درگزر فرمائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … فتنوں سے مراد سیدنا عثمان کی شہادت اور جنگ جمل اور جنگ صفین وغیرہ ہیں۔
حدیث نمبر: 11566
عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ كَانَ أَبِي مِنْ شُرَطِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ تَحْتَ الْمِنْبَرِ فَحَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ صَعِدَ الْمِنْبَرَ يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَالثَّانِي عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَقَالَ يَجْعَلُ اللَّهُ تَعَالَى الْخَيْرَ حَيْثُ أَحَبَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عون بن ابی جحیفہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میرے والد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خصوصی پہرہ داروں میں سے تھے، وہ منبر کے قریب بیٹھے تھے، انہوں نے مجھے بیان کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے منبر پر آکر اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا اور کہا: اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں۔ پھر کہا: اللہ جہاں چاہتا ہے، خیر وبرکت نازل کر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 11567
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِلَى الْمَسْجِدِ فِيهِ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ وَمَا مِنْهُمْ أَحَدٌ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ حَبْوَتِهِ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا وَيَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لاتے، وہاں مہاجرین و انصار سب موجود تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی آدمی آپ کی طرف سر نہ اٹھاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں کی طرف دیکھ کر وہ دونوں آپ کی طرف دیکھ کر تبسم کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … جب محبت اور راز داری زیادہ ہو تو ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہی بلا اختیار مسکراہٹ کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔
حدیث نمبر: 11568
عَنِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ مَا كَانَ مَنْزِلَةُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَمَنْزِلَتِهِمَا السَّاعَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن ابی حازم سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے علی بن حسین کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا کیا مقام تھا؟ انہوں نے کہا: (ان دو ہستیوں کا وہی مقام تھا) جو اس گھڑی میں ان کو حاصل ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بہت خوبصورت جواب ہے کہ جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک کمرے میں مدفون ہیں، ایسے ہییہ اپنی زندگی میں تھے۔
حدیث نمبر: 11569
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ صَنَعَتْ لَهُ طَعَامًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ“ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَنَّيْنَاهُ ثُمَّ قَالَ ”يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ“ فَدَخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَنَّيْنَاهُ ثُمَّ قَالَ ”يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ“ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُدْخِلُ رَأْسَهُ تَحْتَ الْوَدِيِّ فَيَقُولُ ”اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهُ عَلِيًّا“ فَدَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَنَّيْنَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کی اور کھانا تیار کیا، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آرہا ہے۔ اتنے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، ہم نے ان کو مبارکباد دی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک جنتی آدمی تمہارے پاس آنے والا ہے۔ اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔ ہم نے انہیں مبارک باد دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آنے والا ہے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کہہ کر اپنا سر کھجور کے چھوٹے درختوں کے نیچے کر لیا اور فرمایا: اے اللہ! اگر تو چاہے تو آنے والا علی ہو۔ اتنے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے،اورہم نے انہیں بھی مبارک باد دی۔
وضاحت:
فوائد: … سبحان اللہ! کیسی کرامت اور خوبصورت ترتیب، کیا بات ہے اللہ تعالیٰ کے پیاروں کی۔رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَاَرْضَاھُمْ۔
حدیث نمبر: 11570
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنَمٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ”لَوِ اجْتَمَعْتُمَا فِي مَشْوَرَةٍ مَا خَلَفْتُكُمَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبدالرحمن بن غنم اشعری سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اگر کسی مشورہ میں تم دونوں کی رائے ایک ہو تو میں تمہاری رائے سے اختلاف نہیں کروں گا۔
حدیث نمبر: 11571
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”اقْتَدُوا بِالَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے بعد ابو بکر اور عمر کی اقتداء کرنا۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں ان دو ہستیوں کی خلافت اور حسن سیرت کی طرف واضح طور پر اشارہ ہے۔
دوسری آیات و احادیث کی روشنی میں یہ کہنا درست ہے کہ خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کی اطاعت اس وقت تک کی جائے گی، جب تک اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی نہ ہو۔
دوسری آیات و احادیث کی روشنی میں یہ کہنا درست ہے کہ خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کی اطاعت اس وقت تک کی جائے گی، جب تک اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی نہ ہو۔
حدیث نمبر: 11572
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَسَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا لَنَا انْطَلِقُوا إِلَى مَسْجِدِ التَّقْوَى فَانْطَلَقْنَا نَحْوَهُ فَاسْتَقْبَلْنَاهُ يَدَاهُ عَلَى كَاهِلِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَثُرْنَا فِي وَجْهِهِ فَقَالَ ”مَنْ هَؤُلَاءِ يَا أَبَا بَكْرٍ“ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَسَمُرَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئے، لوگوں نے ہمیں بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو تقویٰ مسجد کی طرف تشریف لے گئے ہیں، ہم بھی ادھر چل دیئے،جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پہنچے تو دیکھا کہ آپ کے ہاتھ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کاندھوں پر تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر غصہ کے آثار محسوس کیے، آپ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتلایا کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … مدینہ منورہ کے اطراف میں ایک مسجد کا نام تقوی تھا، شناخت کے لیے مسجد کا کوئی نام بھی رکھا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 11573
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ ”بَيْنَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ رَكِبَهَا فَضَرَبَهَا قَالَتْ إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْنَا لِلْحِرَاثَةِ“ فَقَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ بَقَرَةٌ تَتَكَلَّمُ فَقَالَ ”فَإِنِّي أُومِنُ بِهَذَا أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ“ وَمَا هُمَا ثَمَّ ”وَبَيْنَا رَجُلٌ فِي غَنَمِهِ إِذْ عَدَا عَلَيْهَا الذِّئْبُ فَأَخَذَ شَاةً مِنْهَا فَطَلَبَهُ فَأَدْرَكَهُ فَاسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ فَقَالَ يَا هَذَا اسْتَنْقَذْتَهَا مِنِّي فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي“ قَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ ذِئْبٌ يَتَكَلَّمُ فَقَالَ ”إِنِّي أُومِنُ بِذَلِكَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ“ وَمَا هُمَا ثَمَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ایک دفعہ ایک آدمی بیل کو ہانکے جا رہا تھا کہ وہ اس پر سوار ہوگیا اور اس نے اسے مارا، آگے سے بیل نے بول کر کہا کہ ہمیں سواری کے لیے تو پیدا نہیں کیا گیا، ہمیں تو کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ لوگوں نے یہ بات سن کر ازراہ تعجب کہا: سبحان اللہ! بیل باتیں کرنے لگا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی صداقت پر میرا، ابو بکر اور عمرکا بھی ایمان ہے۔ حالانکہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما وہاں موجود نہیں تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ ایک آدمی اپنی بکریوں کے ریوڑ میں تھا کہ ایک بھیڑیئے نے حملہ کرکے ایک بکری کو اچک لیا، اس نے اس کا پیچھا کرکے اسے جا لیا اور اس سے بکری کو چھڑا لیا، تو بھیڑیئے نے بول کر کہا: ارے تو نے آج تو اسے مجھ سے چھڑا لیا، فتنوں کے دنوں میں جب لوگ مویشیوں کو یونہی چھوڑ کر بھاگ جائیں گے اور اس دن میرے سوا ان کا کوئی چرواہا (محافظ) نہ ہوگا، تب ان کو مجھ سے کون بچائے گا؟ لوگوں نے یہ سن کر بھی ازراہ تعجب کہا: سبحان اللہ! بھیڑیا انسانوں کی طرح باتیں کرنے لگا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی صداقت پر میرا، ابو بکر کا اور عمر کا بھی ایمان ہے۔ حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہ تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سبحان اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان و ایقان پر کتنا اعتماد تھا کہ ان کی عدم موجودگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی تصدیق کی شہادت دے رہے ہیں،یہ شیخین کی بڑی عظیم منقبت ہے۔
حدیث نمبر: 11574
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ ”يَا عَلِيُّ هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَشَبَابِهَا عَدَا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تھا کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! یہ دونوں جنتی بزرگوں اور نوجوانوں کے سردار ہوں گے، ماسوائے انبیاء و رسل کے۔
وضاحت:
فوائد: … کُھُوْل کا واحد کَھْل ہے، جو آدمی اپنی عمر کے تیسیا چونتیس برس سے اکاون برس کے درمیان ہوتا ہے، اس کو کَھْل کہتے ہیں، ہم نے اس لفظ کا معنی بزرگ کیا ہے۔ جنت میں تو ہر ایک کو ایک ہی عمر کی نوجوانی ملے گی، اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ جو افراد بزرگی اور نوجوانی کی عمر میں وفات پا کر جنت میں جائیں گے، ان کے سردار سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہوں گے۔
حدیث نمبر: 11575
عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَمِلَ بِعَمَلِهِ وَسَارَ بِسِيرَتِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى ذَلِكَ فَعَمِلَ بِعَمَلِهِمَا وَسَارَ بِسِيرَتِهِمَا حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد خیر سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے منبر پر کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر خیر کیا اور فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ چن لیا گیا، انہوں نے سارے امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل کے مطابق سر انجام دیئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے طریقے پر چلتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ا پنے پاس بلا لیا۔ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ چن لیا گیا، انہوں نے بھی اپنے دونوں پیش روؤں کے عمل کے مطابق امور سرانجام دیئے اور ان دونو ں کے طریقے پر چلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی اپنے ہاں بلا لیااور وہ اسی منہج پر قائم تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت سے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت و منقبت کی بہت سی احادیث مروی ہیں، باب کی آخری حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہر دو حضرات کی خلافت اور ان کے طریق کار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقہ کے مطابق قرار دیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پہلے دونوں خلفاء کی خلافت اور ان کے کسی بھی امر پر قطعاً اعتراض نہ تھا۔