کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: انصار اور مہاجرین کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 11556
عَنْ جَرِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ أَوْلِيَاءُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ وَالطُّلَقَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ وَالْعُتَقَاءُ مِنْ ثَقِيفٍ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَالْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہاجرین اور انصار یہ سب ایک دوسرے کے مدد گار اور معاون ہیں، اسی طرح قریش کے وہ لوگ جنہیں فتح مکہ کے دن معاف کر دیا گیا اور بنو ثقیف کے آزاد کردہ لوگ دنیا اورآخرت میں ایک دوسرے کے مددگار اور معاون ہیں اور مہاجرین و انصار قیامت تک ایک دوسرے کے مدد گار اور معاون ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11556
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه الطيالسي: 671، وابن حبان: 7260، والطبراني في الكبير : 10408، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19215 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19428»
حدیث نمبر: 11557
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”وَالطُّلَقَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ وَالْعُتَقَاءُ مِنْ ثَقِيفٍ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَالْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریش کے جن لوگوں کو فتح مکہ کے دن معاف کر دیا گیا، وہ اور بنو ثقیف کے وہ لوگ جنہیں آزاد کر دیا گیا،یہ سب دنیا و آخرت میں ایک دوسرے کے معاون اور مدد گار ہیں، اور مہاجرین و انصار بھی دنیا اور آخرت میں ایک دوسرے کے مدد گار اور معاون ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11557
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19431»
حدیث نمبر: 11558
أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَتِ الْأَنْصَارُ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا فَأَجَابَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ“ وَفِي رِوَايَةٍ ”فَأَصْلِحْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار نے یوں کہا: نَحْنُ الَّذِینَ بَایَعُوا مُحَمَّدًا، عَلَی الْجِہَادِ مَا بَقِینَا أَبَدًا (ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کی ہے کہ ہم جب تک زندہ رہیں گے، جہاد کرتے رہیں گے۔) تو ان کے اس قول کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اصل کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے، پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔ ایک روایت میں ہے: پس تو انصار اور مہاجرین کی اصلاح فرما۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11558
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2961، 3796، ومسلم: 1805، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12732 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12762»
حدیث نمبر: 11559
عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ الْمُهَاجِرُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَيْهِمْ أَحْسَنَ مُوَاسَاةً فِي قَلِيلٍ وَلَا أَحْسَنَ بَذْلًا فِي كَثِيرٍ لَقَدْ كَفَوْنَا الْمَؤُونَةَ وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَإِ حَتَّى لَقَدْ خَشِينَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ قَالَ ”لَا مَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ وَدَعَوْتُمُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم جن انصاری لوگوں کے پاس آئے ہیں، ہم نے ان جیسے لوگ نہیں دیکھے، ان کے پاس کھانے پینے کی اشیاء کم ہوں تو خوب ہمدردی کرتے ہیں اور اگر ان کے پاس کھانے پینے کو وافر ہو تو بھی خوب خرچ کرتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں محنت مزدوری سے بچایا اور اپنی کمائی میں ہمیں اپنا شریک بنایا۔ ہمیں تو اندیشہ ہے کہ سارا اجرو ثواب یہ لوگ لے جائیں گے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں،یہ بات نہیں ہے ، تم لوگ جب تک ان کی تعریف کرو گے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے حق میں دعائیں کرو گے توتمہیں بھی اجر و ثواب ملتا رہے گا۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ اگر بندے کے پاس احسان کا بدلہ چکانے کے لیے کچھ نہ ہو تو وہ زبان سے اچھے انداز میں شکریہ ادا کرے اور اس انداز میں تعریفی کلمات کہے کہ احسان کرنے والے کی حوصلہ افزائی ہو جائے، لیکن تعریف کرنے میں نہ غلوّ کیا جائے اور نہ احسان کرنے والاریاکاری میں مبتلا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11559
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه ابوداود: 4812، والترمذي: 2487 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13122 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13153»
حدیث نمبر: 11560
عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِنَا قَالَ سُفْيَانُ كَأَنَّهُ يَقُولُ آخَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے گھر میں مہاجرین اور انصار کے ما بین ایک معاہدہ کرایا۔اس حدیث کا ایک راوی سفیان کہتے ہیں:سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی معاہدہ سے مراد مواخات اور بھائی چارہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11560
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 2294، ومسلم: 2529 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12089 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12113»
حدیث نمبر: 11561
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَسْمَاءَ لَمَّا قَدِمَتْ لَقِيَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ آلْحَبَشِيَّةُ هِيَ قَالَتْ نَعَمْ فَقَالَ نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ سُبِقْتُمْ بِالْهِجْرَةِ فَقَالَتْ هِيَ لِعُمَرَ كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ رَاجِلَكُمْ وَيُعَلِّمُ جَاهِلَكُمْ وَفَرَرْنَا بِدِينِنَا أَمَا إِنِّي لَا أَرْجِعُ حَتَّى أَذْكُرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَلْ لَكُمُ الْهِجْرَةُ مَرَّتَيْنِ هِجْرَتُكُمْ إِلَى الْمَدِينَةِ وَهِجْرَتُكُمْ إِلَى الْحَبَشَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا جب حبشہ سے واپس آئیں تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں کہا: کیایہ وہی ہے جو حبشہ سے آئی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر لوگ ہجرت کرنے میں تم پر سبقت نہ لے چکے ہوتے تو تم بہترین لوگ ہوتے، یہ سن کر انھوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے، تم میں سے جو سواری سے محروم ہوتا یعنی پیدل ہوتا، اللہ کے رسول اسے سواری دیتے اور تم میں سے جو کوئی دین کے مسائل سے واقف نہ ہوتا، اللہ کے رسول اسے تعلیم دیتے اور ہم تو اپنا دین بچانے کے لیےیہاں سے فرار ہو گئے تھے، اب میں جب تک اس بات کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر نہ کر لوں واپس نہیں آؤں گی۔ پس وہ آپ کی خدمت میں گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: بلکہ تمہاری تو دوہجرتیں ہو گئیں، ایک مدینہ کی طرف اور ایک حبشہ کی طرف۔
وضاحت:
فوائد: … مہاجرین حبشہ کی فضیلت و منقبت بھی مسلم ہے کہ انہیں دو ہجرتوں کا ثواب ہوگا، انہوںنے ایک دفعہ حبشہ کی طرف ہجرت کی اور دوسری دفعہ مدینہ منورہ کی طرف۔
گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمر بن خطاب کی تائید نہیں کی جو یہ کہنا چاہتے تھے کہ ہم نے حبشہ کی طرف جانے والوں سے پہلے ہجرت کی۔ بلکہ آپ نے حبشہ کی طرف جانے کو بھی اللہ کی طرف ہجرت قرار دیا اور اسماء اور دیگر قافلہ کو دو ہجرتیں کرنے والے قرار دیا۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11561
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4230، 4231، ومسلم: 2503 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19753»