کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: انصار کے فضائل و مناقب
حدیث نمبر: 11530
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ لِلْأَنْصَارِ ”أَلَا إِنَّ النَّاسَ دِثَارِي وَالْأَنْصَارَ شِعَارِي لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبَةً لَاتَّبَعْتُ شِعْبَةَ الْأَنْصَارِ وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَمَنْ وَلِيَ مِنَ الْأَنْصَارِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى مُحْسِنِهِمْ وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ وَمَنْ أَفْزَعَهُمْ فَقَدْ أَفْزَعَ هَذَا الَّذِي بَيْنَ هَاتَيْنِ“ وَأَشَارَ إِلَى نَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کے حق میں فرمایا: عام لوگوں کے میرے ساتھ تعلق کی مثال ایسے ہے جیسے اوپر اوڑھا ہوا کپڑا ہو اور انصار کا میرے ساتھ یوں تعلق ہے جیسے کوئی کپڑا جسم کے ساتھ متصل ہو (یعنی انصاری آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاص لوگ ہیں)۔ اگر عام لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری پہاڑی گھاٹی میں تو میں انصار والی گھاٹی میں چلنا پسند کروں گا اور اگر ہجرت والی فضیلت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا۔ کسی کو انصار پر امارت و حکومت حاصل ہو تو وہ ان کے نیکوکاروں کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ کرے، اور اگر ان میں سے کوئی کوتاہی ہو جائے تو وہ اس سے در گزر کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی طرف اشارہ کرکے فرمایا: جس کسی نے ان کو خوف زدہ کیا تو گویا اس نے مجھے خوف زدہ کیا ۔
وضاحت:
فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انصار کے ساتھ کمال محبت کا اظہار ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن کی گھاٹی میں چلنا پسند کریں گے۔! یہ حدیث موقوف یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے، اس لیے اس سے کسی شرعی مسئلہ کا استدلال نہیں ہو سکتا۔ (عبداللہ رفیق)
انصار وہ لوگ ہیں، جو مدینہ میں رہائش پذیر تھے، انھوں نے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے شہر میں پناہ دی، پھر ہر موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد اور حفاظت فرمائی اور مدینہ آنے والے مہاجرین کی بھی خوب دل پذیرائی اور تواضع کی اور اپنا سب کچھ ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ کی سرزمین میں دین ِ الہی کی تبلیغ شروع کی، توحید و سنت کی دعوت جاری رکھی، لیکن لوگ نہ صرف شرک و بدعت پر ڈٹے رہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قلعہ قمع کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ ہونے دیا۔ ایک انصاری صحابی سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (خلاصہ یہ ہے): اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں تقریبا دس سال مقیم رہے، لوگوں کے پیچھے ان کے گھروں، ڈیروں اور عکاظ و مجنہ کی مارکیٹوں میں جا کر نوائے حق بلند کرتے رہے، حج کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منٰی کے مقام پر لوگوں سے کہتے: ((مَنْ یُّؤْوِیْنِیْ؟ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ؟ حَتّٰی أُبَلِّغَ رِسَالَاتِ رَبِّیْ وَلَہُ الْجَنَّۃ۔)) … کوئی ہے جو مجھے پناہ مہیا کرے؟ کوئی ہے جو میری مدد کرے؟ تاکہ میں اپنے ربّ کا پیغام پہنچا سکوں، (جو ایسا کرے گا) اسے جنت ملے گی۔
یہ سلسلہ جاری رہا، حتی کہ ہم انصاری لوگ یثرب (یعنی مدینہ) سے اٹھ کھڑے ہوئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ٹھکانا مہیا کیا اور آپ کی سچائی کا اعلان کیا۔ ہم اکا دکا کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچتے، قرآن سنتے اور گھر واپس پلٹ کر یہ پیغام اپنے گھر والوں تک پہنچاتے۔ بالآخر ہم نے مشورہ کیا کہ کب تک یہی سلسلہ جاری رہے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کے پہاڑوں میں مارے مارے ٹھوکریں کھاتے رہیں اور شرک پرستوں سے ڈرتے رہیں، چنانچہ سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق حج کے موقع پر ہم ستر انصاری حج کے موسم میں عقبہ (گھاٹی) میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور آپ کی بیعت کی اور مدینہ منورہ میں تشریف لانے کی دعوت دی۔ (مسند احمد)
یہ انصار ہی وہ صحابہ تھے جو اسلام، بانی ٔ اسلام اور اہل اسلام کا سہارا بنے اور سارے عرب سے اعلانِ جنگ کیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جاں نثاروں سمیت ہجرت کی گھاٹیاں طے کر کے مدینہ منورہ جلوہ افروز ہوئے تو انصار صحابہ نے تائید و نصرت، محبت و الفت، اخوت و بھائی چارہ اور برادری و بھائی بندی کی جو مثال پیش کی، ماضی میں اس کی نظیر ملی نہ مستقبل میں امید ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے مہاجر بھائی سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ سے کہا: تم میرا آدھا مال لے لو اور میری دو بیویاں ہیں، ان کو دیکھ لو، جو تمہیںپسند ہو، میں اسے طلاق دے دیتا ہوں، عدت گزرنے کے بعد شادی کر لینا۔ (بخاری) پھر دس سال کی طویل مدت تک یہ انصار، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست و بازو بنے رہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں ان لوگوں کی محبت تھی۔
انصار نے اپنے خون سے شجرِ اسلام کی آبیاری کی، اپنے شہر کو مرکزِ اسلام قرار دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں یہ اعلان کرتے تھے کہ قریشیوںنے مجھے تبلیغِ اسلام سے روک رکھا ہے، کون ہے جو مجھے پناہ دے، تاکہ میں ربّ کا پیغام لوگوں تک پہنچا سکوں؟ انصاریوں نے مال و جان داؤ پر لگا کر اور دوستوں کی دشمنیاں مول لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز پر لبیک کہا۔ مہاجرین، جو اسلام کا سرمایہ تھے، کو اپنے گھروں اور جائدادوں میں حصہ دار قرار دیا۔ ان نفوس قدسیہ کی محبت کو ایمان کی علامت اور ان سے نفرت کو منافقت کی علامت قرار دیا گیا۔ جو بد بخت اسلام کے ان سپوتو ں اور ستونوں کا پاس لحاظ نہیں کرتا، اسے ایمان و ایقان کی نعمت کیسے نصیب ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11530
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه الطبراني في الاوسط : 8892 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22989»
حدیث نمبر: 11531
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ قَالَ بَلَغَ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ عَرِيفِ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ فَهَمَّ بِهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ لَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”اسْتَوْصُوا بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا أَوْ قَالَ مَعْرُوفًا اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ“ فَأَلْقَى مُصْعَبٌ نَفْسَهُ عَنْ سَرِيرِهِ وَأَلْزَقَ خَدَّهُ بِالْبِسَاطِ وَقَالَ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنِ فَتَرَكَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
علی بن زید سے مروی ہے کہ سیدنا مصعب بن زبیر تک انصار کے ایک نمائندے کی کوئی شکایت پہنچی تو انہوں نے اس کے متعلق (برا بھلا یا سزا دینے کا) ارادہ کیا، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے سیدنا مصعب کے ہاں جا کر ان سے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ میں تمہیں انصار کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں، ان میں سے جو آدمی نیکوکار ہو تم اس کی بات کو قبول کرو اور جس سے کوئی کوتاہی سرزد ہو جائے تم اس سے در گزر کرو۔ یہ سن کر سیدنا مصعب نے اپنے آپ کو چارپائی سے نیچے گرا دیا اور اپنا رخسار چٹائی پر رکھ کر کہا:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم سر آنکھوں پر، پھر اس انصاری کو چھوڑ دیا اور کچھ نہ کہا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11531
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «المرفوع منه صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13528 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13562»
حدیث نمبر: 11532
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَقَنِّعًا بِثَوْبٍ فَقَالَ ”أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ لَيَكْثُرُونَ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ يَقِلُّونَ فَمَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ أَمْرًا يَنْفَعُ فِيهِ أَحَدًا فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مرض الموت کے دنوں میں) سر اور منہ پر کپڑا لپیٹے باہر تشریف لائے اور فرمایا: لوگو! عام لوگ تعداد میں بڑھتے جا رہے ہیں اور انصار کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، پس تم میں سے جو آدمی امور خلافت پر متمکن ہو اور کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ انصار کے نیکوکاروں کی بات کو قبول کر لے اور ان میں سے کسی سے کوئی کوتاہی ہو تو اس سے در گزر کرے۔
وضاحت:
فوائد: … انصاریوں کی کوتاہی کو محسوس کرنا یا اس وجہ سے ان کی مذمت کرنا یا ان سے دور ہونا، ان سب امور کا دروازہ ہی بند کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11532
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 927، 3628، 3800، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2629»
حدیث نمبر: 11533
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ السَّاعِدِيِّ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يُبَايِعُ النَّاسَ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْ هَذَا قَالَ ”وَمَنْ هَذَا“ قَالَ ابْنُ عَمِّي حَوْطُ بْنُ يَزِيدَ أَوْ يَزِيدُ بْنُ حَوْطٍ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا أُبَايِعُكَ إِنَّ النَّاسَ يُهَاجِرُونَ إِلَيْكُمْ وَلَا تُهَاجِرُونَ إِلَيْهِمْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ لَا يُحِبُّ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَهُوَ يُحِبُّهُ وَلَا يَبْغُضُ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَهُوَ يَبْغُضُهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حارث بن زیاد ساعدی انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ خندق کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے ہجرت کرنے کی بیعت لے رہے تھے، حارث رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی سے بھی بیعت لے لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ میرا چچا زاد حوط بن یزیدیایزید بن حوط ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے بیعت نہیں لیتا، لوگ تمہاری طرف ہجرت کرکے آئیں گے، تم ان کی طرف ہجرت کرکے نہیں جاؤ گے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جو آدمی انصار سے محبت کرتا رہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے محبت کرتا ہوگا، لیکن جو آدمی انصار سے بغض رکھے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے بغض رکھتا ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11533
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قويّ، اخرجه الطبراني في الكبير : 3356، والطحاوي في شرح مشكل الآثار : 2636 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15540 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15625»
حدیث نمبر: 11534
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ أَتَتِ الْأَنْصَارُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِجَمَاعَتِهِمْ فَقَالُوا إِلَى مَتَى نَنْزَعُ مِنْ هَذِهِ الْآبَارِ فَلَوْ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا اللَّهَ لَنَا فَفَجَّرَ لَنَا مِنْ هَذِهِ الْجِبَالِ عُيُونًا فَجَاءُوا بِجَمَاعَتِهِمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآهُمْ قَالَ ”مَرْحَبًا وَأَهْلًا لَقَدْ جَاءَ بِكُمْ إِلَيْنَا حَاجَةٌ“ قَالُوا إِي وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ”إِنَّكُمْ لَنْ تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا إِلَّا أُوتِيتُمُوهُ وَلَا أَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَانِيهِ“ فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَقَالُوا الدُّنْيَا تُرِيدُونَ فَاطْلُبُوا الْآخِرَةَ فَقَالُوا بِجَمَاعَتِهِمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا أَنْ يَغْفِرَ لَنَا فَقَالَ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَوْلَادُنَا مِنْ غَيْرِنَا قَالَ ”وَأَوْلَادِ الْأَنْصَارِ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَوَالِينَا قَالَ ”وَمَوَالِي الْأَنْصَارِ“ قَالَ وَحَدَّثَتْنِي أُمِّي عَنْ أُمِّ الْحَكَمِ بِنْتِ النُّعْمَانِ بْنِ صُهْبَانَ أَنَّهَا سَمِعَتْ أَنَسًا يَقُولُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ فِيهِ ”وَكَنَائِنِ الْأَنْصَارِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبید اللہ بن ابی بکر اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا انس رضی اللہ عنہ ) سے بیان کرتے ہیں کہ انصار نے اکٹھے ہو کر شکوہ کیا کہ ہم کب تک ان کنوؤں سے پانی کھینچتے رہیں گے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر گزارش کریں اور آپ اللہ سے دعا کریں تاکہ وہ ان پہاڑوں سے ہمارے لیے چشمے جاری کر دے۔ پس وہ سب اکٹھے ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئے، آپ نے ان کو دیکھا تو خوش آمدید کہا اور فرمایا: تمہیں کوئی خاص ضرورت ہی ہماری طرف لائی ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! واقعی بات ایسے ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج تم جو بھی مانگو گے، وہ تمہیں دے دیا جائے گا اور میں بھی اللہ سے جو کچھ مانگوں گا وہ مجھے عنایت کر دے گا۔ یہ سن کر وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور بولے: کیا تم دنیا طلب کرنے آئے ہو؟آخرت کی کامیابی مانگ لو۔ ان سب نے بیک زبان عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا فرمائیں کہ وہ ہماری مغفرت فرما دے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! انصار کی، ان کے بیٹوں کی اور ان کے پوتوں کی مغفرت فرما دے۔ انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اور غیر انصار سے ہونے والی ہماری اولاد کے حق میں بھی دعا فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصار کی سب اولاد کو بخش دے۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انصار کے غلاموں اور لونڈیوں کے حق میں بھی دعا فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! انصار کے غلاموں اور لونڈیوں کی بھی مغفرت فرما دے۔ عبید اللہ بن ابی بکر کا بیان ہے کہ مجھ سے میری والدہ نے ام حکم بنت نعما ن بن صہباء کی روایت سے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے تھے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ انصار نے مزید درخواست کی کہ اللہ کے رسول ہمارے بیٹوں کی بیویوں اور ہمارے بھائیوں کی بیویوں کے حق میں بھی دعائے مغفرت کر دیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11534
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه البزار 2808،و أخرج منه الدعاء بالمغفرة فقط: مسلم: 2507 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13268 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13301»
حدیث نمبر: 11535
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ شَقَّ عَلَى الْأَنْصَارِ النَّوَاضِحُ فَاجْتَمَعُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ أَنْ يُجْرِيَ لَهُمْ نَهْرًا سَيْحًا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَرْحَبًا بِالْأَنْصَارِ وَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَيْتُكُمُوهُ وَلَا أَسْأَلُ اللَّهَ لَكُمْ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَانِيهِ“ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ اغْتَنِمُوهَا وَاطْلُبُوا الْمَغْفِرَةَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا بِالْمَغْفِرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) جب انصار کے لیے اونٹوں پر پانی لاد لاد کر لانا اور کھیتوں کو سیراب کرنا شاق گزرنے لگا تو وہ اکٹھے ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئے، تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کریں کہ آپ انہیں ایک بہتی نہر کھودنے کی اجازت فرمائیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: انصار کو خوش آمدید، اللہ کی قسم! آج تم مجھ سے جو بھی طلب کرو گے، میں تمہیں عنایت کردوں گا اور میں بھی اللہ سے تمہارے لیے جو کچھ مانگوں گا، وہ مجھے دے دے گا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: اس وقت کو غنیمت سمجھو اور مغفرت کی درخواست کرو۔ ان سب نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ سے ہمارے حق میں مغفرت کی دعا فرمائیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! انصار کی، ان کی اولادوں کی اور ان کی اولادوں کی اولادوں کی مغفرت فرما دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11535
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12441»
حدیث نمبر: 11536
إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَدَّوْا الَّذِي عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک انصار میرے انتہائی خاص، راز دان اور امین لوگ ہیں، ان کی طرف آکر میں نے پناہ لی، پس تم ان کے نیکو کاروں کی بات کو قبول کرو اور ان میں سے کسی سے کوتاہی ہو تو اس سے درگزر کرو، انہوں نے اپنے عہد و پیمان کو تو پورا کر دیا ہے، لیکن ان کے حقوق کی ادائیگی باقی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11536
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3799،ومسلم: 2510 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12650 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12678»
حدیث نمبر: 11537
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى الصِّبْيَانَ وَالنِّسَاءَ مُقْبِلِينَ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ مِنْ عُرْسٍ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُمْثِلًا فَقَالَ ”اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ يَعْنِي الْأَنْصَارَ“ وَفِي لَفْظٍ ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ“ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شادی سے انصار کے بچوں اور عورتوں کو آتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے: اللہ گواہ ہے کہ تم لوگوں میں سے میرے نزدیک محبوب ترین ہو۔ اللہ گواہ ہے کہ مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہو۔ اللہ جانتا ہے کہ تم انصار مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہو۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11537
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3785،ومسلم: 2508 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12797 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12828»
حدیث نمبر: 11538
عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَتَبَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ زَمَنَ الْحَرَّةِ يُعَزِّيهِ فِيمَنْ قُتِلَ مِنْ وَلَدِهِ وَقَوْمِهِ وَقَالَ أُبَشِّرُكَ بِبُشْرَى مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَاغْفِرْ لِنِسَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِنِسَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِنِسَاءِ أَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نضر بن انس سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو واقعۂ حرہ کے دنوں میں ان کی اولاد اور ان کی قوم کے افراد کے قتل کی تعزیت کے سلسلہ میں لکھا اور کہا: میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ایک خوش خبری سنانا چاہتا ہوں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا: یا اللہ! انصارکو، ان کے بیٹوں کو اور ان کے پوتوں کو بخش دے، انصار کی خواتین کو، انصار کے بیٹوں کی بیویوں کو اور انصار کے پوتوں کی خواتین کو بخش دے۔
وضاحت:
فوائد: … یزید بن معاویہ نے اپنے دور میں مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے ایک لشکر بھیجا تھا، اسی کو واقعۂ حرّہ کہتے ہیں۔
صحیح بخاری کی روایت کا سیاق درج ذیل ہے: عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنُ الْفَضْلِ أَنَّہُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ: حَزِنْتُ عَلَی مَنْ أُصِیبَ بِالْحَرَّۃِ فَکَتَبَ إِلَیَّ زَیْدُ بْنُ أَرْقَمَ وَبَلَغَہُ شِدَّۃُ حُزْنِییَذْکُرُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُولُ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاء ِ الْأَنْصَارِ۔)) … سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حرّہ میں شہید ہونے والوں پر مجھے غم ہوا، جب سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو میرے غم کی شدت کا علم ہوا تو انھوں نے میری طرف لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو انصاریوں اور انصاریوں کے بیٹوں کوبخش دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11538
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه البخاري بلفظ مذكور في الشرح: 4906 ،وأخرجه مسلم: 2506 بلفظ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاء ِ الْأَنْصَارِ وَأَبْنَاء ِ أَبْنَاء ِ الْأَنْصَارِ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19299 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19514»
حدیث نمبر: 11539
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ قَالَ قَالَتِ الْأَنْصَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ أَتْبَاعًا وَإِنَّا قَدْ تَبِعْنَاكَ فَادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا قَالَ فَدَعَا لَهُمْ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَهُمْ مِنْهُمْ قَالَ فَنَمَّيْتُ ذَلِكَ إِلَى ابْنِ أَبِي لَيْلَى فَقَالَ زَعَمَ ذَلِكَ زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ أَرْقَمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمر و بن مرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ابو حمزہ طلحہ بن یزید سے سنا، انھوں نے کہا کہ انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہر نبی کے کچھ پیروکار ہوتے ہیں، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی ہے۔ اب آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے پیروکار ہم میں سے بنائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان کے پیرو انہی میں سے بنائے۔ میں نے اس حدیث کا ابن ابی لیلی سے ذکر کیا، تو انہوں نے کہا کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بھی ایسے ہی کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … انصار کا مطلب یہ تھا کہ جیسے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کے تقاضے پورے کیے ہیں، ان کی نسل اور حلیف بھییہ سلسلہ جاری رکھیں اور بیچ میں انقطاع نہ آنے دیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11539
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 3787 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19551»
حدیث نمبر: 11540
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُهُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصار سے محبت کرنا ایمان کی اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11540
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 17، 3784،ومسلم: 74، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12396»
حدیث نمبر: 11541
عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ مِحْنَةٌ حُبُّهُمْ إِيمَانٌ وَبُغْضُهُمْ نِفَاقٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصار کا یہ قبیلہ لوگوں کے امتحان کا ذریعہ ہے، ان سے محبت رکھنا ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا نفاق ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی اللہ تعالیٰ انصار کی محبت اور بغض کے ذریعے آزمائے گا، جس نے محبت کی، وہ کامیاب ہو گیا اور جس نے بغض رکھا، وہ ناکام ہو گیا، گویا کہ ایمان اور نفاق کی کسوٹی اور معیار انصار ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11541
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/159، والبزار: 3736 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22462 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22829»
حدیث نمبر: 11542
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ أَوْ إِلَّا أَبْغَضَهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ہو وہ انصار سے بغض نہیں رکھتا۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فرمایا کہ جو آدمی انصار سے بغض رکھتا ہو، اللہ اور اس کا رسول اس سے بغض رکھتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11542
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 3906 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2818 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2818»
حدیث نمبر: 11543
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَايَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَرَايَةَ الْأَنْصَارِ مَعَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ وَكَانَ إِذَا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَكُونُ تَحْتَ رَايَةِ الْأَنْصَارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جھنڈا سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ہوتا اور انصار کا جھنڈا سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ہوتا، جب شدیدجنگ چھڑتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار کے جھنڈے کے نیچے چلے جاتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11543
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، اخرجه الطبراني: 12083، وعبد الرزاق: 9640 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3486 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3486»
حدیث نمبر: 11544
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ وَلَوْ يَنْدَفِعُ النَّاسُ فِي شِعْبَةٍ أَوْ فِي وَادٍ وَالْأَنْصَارُ فِي شِعْبَةٍ لَانْدَفَعْتُ فِي شِعْبِهِمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا اور اگر لوگ ایک گھاٹی یا وادی میں چلیں اور انصار دوسری گھاٹی میں ہوں تو میں انصار والی گھاٹی میں چلوں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11544
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه عبد الرزاق: 19907، وابن حبان: 7269، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8169 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8154»
حدیث نمبر: 11545
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ اجْتَمَعَ أُنَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا آثَرَ عَلَيْنَا غَيْرَنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ ثُمَّ خَطَبَهُمْ فَقَالَ ”يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ تَكُونُوا أَذِلَّةً فَأَعَزَّكُمُ اللَّهُ“ قَالُوا صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ ”أَلَمْ تَكُونُوا ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللَّهُ“ قَالُوا صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ ”أَلَمْ تَكُونُوا فُقَرَاءَ فَأَغْنَاكُمُ اللَّهُ“ قَالُوا صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ قَالَ ”أَلَا تُجِيبُونَنِي أَلَا تَقُولُونَ أَتَيْتَنَا طَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ وَأَتَيْتَنَا خَائِفًا فَآمَنَّاكَ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ وَالْبُقْرَانِ يَعْنِي الْبَقَرَ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتُدْخِلُونَهُ بُيُوتَكُمْ لَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَكُوا وَادِيًا أَوْ شِعْبَةً وَسَلَكْتُمْ وَادِيًا أَوْ شِعْبَةً سَلَكْتُ وَادِيَكُمْ أَوْ شِعْبَتَكُمْ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ وَإِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے جمع ہو کر آپس میں کچھ ایسی باتیں کیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسروں کوہمارے اوپر ترجیح دی ہے، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کو جمع کرکے ان سے خطاب فرماتے ہوئے فرمایا: اے انصار کی جماعت! کیایہ حقیقت نہیں کہ تم لوگ ذلیل اور رسوا تھے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں عزت سے نوازا؟ انھوں نے کہا؛ اللہ اور اس کے رسول کی بات درست ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیایہ بھی حقیقت نہیں ہے کہ تم لوگ گمراہ تھے اور اللہ نے تمہیں ہدایت سے نوازا؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی بات بالکل ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیایہ بات بھی صحیح نہیں کہ تم لوگ غریب تھے اور اللہ نے تمہیں غنی اور خوشحال کیا؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی بات صحیح ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مجھے جوابا ً یوں کیوں نہیں کہتے کہ اے رسول! آپ کے شہر والوں نے آپ کو شہر بدر کر دیا تو ہم نے آپ کو پناہ دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوف زدہ ہو کر ہمار ے پاس پہنچے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امن دیا؟اے انصار! کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ بکریاں اور گائیں لے کر جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے ہمراہ لے کر جاؤ اور تم اس رسول کو اپنے گھروں میں داخل کرو، حقیقت یہ ہے کہ اگر لوگ کسی ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں اس گھاٹی یا وادی میں چلوں گا، جس میں تم چلو گے، اگر ہجرت والی سعادت نہ ہوتی تو میں انصاری فرد ہوتا، تم عنقریب میرے بعد اس سے بھی بڑھ کر ترجیح و تفریق ملاحظہ کر و گے، مگر تم ایسی صورت میں بھی صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے حوض کوثر پر آ ملو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11545
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه عبد الرزاق: 19918 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:11547 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11568»
حدیث نمبر: 11546
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَفِيهِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ بَعْدِي أَثَرَةً شَدِيدَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ“ قَالَ أَنَسٌ فَلَمْ نَصْبِرْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، پھر گزشتہ حدیث کی مانند روایت بیان کی، البتہ اس میں ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم میرے بعد بڑی ترجیح و تفریق ملاحظہ کرو گے، لیکن تم ایسی صورت حال میں صبر سے کام لینا،یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے جا ملو، میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لیکن ہم نے صبر نہیں کیا۔
وضاحت:
فوائد: … ترجیح و تفریق کو پانے کا مطلب یہ ہے کہ غیر انصاریوں کو انصاری لوگوں پر ترجیح دی جائے، اس سے بندے کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصاریوں کو صبر کرنے کا اور انتقام نہ لینے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11546
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3147، 5860،ومسلم: 1059، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12726»
حدیث نمبر: 11547
عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَنْصَارِ ”لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ مَنْ أَحَبَّهُمْ فَأَحَبَّهُ اللَّهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَأَبْغَضَهُ اللَّهُ“ قَالَ قُلْتُ لَهُ أَنْتَ سَمِعْتَ الْبَرَاءَ قَالَ إِيَّايَ يُحَدِّثُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کے بارے میں فرمایا: اہل ایمان ان سے محبت رکھتے ہیں اور منافق ان سے بغض رکھتے ہیں، جو کوئی ان سے محبت کرے گا، اللہ اس سے محبت کرے گا اور جو کوئی ان سے بغض رکھے گا،اللہ تعالیٰ اس سے بغض رکھے گا۔ حدیث کے راوی شعبہ نے اپنے شیخ سے کہا: کیا آپ نے خود یہ حدیث سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا:جی سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے ہی مجھے بیان کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … انصار سے محبت اور بغض کا معاملہ ان کے چند افراد کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ تمام انصار کے لیے ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11547
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه الترمذي: 3900، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18777»
حدیث نمبر: 11548
عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُوَيْطِبٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ تَعَالَى وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ مَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِي وَلَا يُؤْمِنْ بِي مَنْ لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
رباح بن عبد الرحمن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری دادی نے مجھے اپنے باپ (سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ ) سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کا وضو نہیں اس کی کوئی نماز نہیں اور جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا، (یعنی بسم اللہ نہیں پڑھی) اس کا کوئی وضو نہیں اور جو شخص میں (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر ایمان نہیں لایا، وہ اللہ تعالیٰ پرایمان نہیں لا سکے گا اور جس بندے نے انصار سے محبت نہ کی، وہ مجھ پر ایمان نہیں لا سکے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11548
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابي ثفال المري، أخرجه الترمذي: 25 مختصرا ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27147 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27688»
حدیث نمبر: 11549
عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا عَاصِبًا رَأْسَهُ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ ”أَمَّا بَعْدُ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ فَإِنَّكُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ تَزِيدُونَ وَأَصْبَحَتِ الْأَنْصَارُ لَا تَزِيدُ عَلَى هَيْئَتِهَا الَّتِي هِيَ عَلَيْهَا الْيَوْمَ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا فَأَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری،یہ کعب ان تین میں سے ایک ہیں جن کی توبہ قبول ہوئی تھی، سے مروی ہے کہ اس کو کسی صحابی نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سر پر کپڑا باندھے باہر تشریف لائے اور اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: اما بعد! اے مہاجرین کی جماعت! تمہاری تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور انصار آج اپنی پہلی سی تعداد میں نہیں ہیں،یہ انصار میرے خاص اور راز دان لوگ ہیں، جن کی طرف آکر میں نے پناہ لی، پس تم ان کے معزز شخص کا اکرام کرتے رہنا اور ان میں سے کوتاہی کرنے والے سے درگزر کرنا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11549
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16172»
حدیث نمبر: 11550
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ لَمَّا رَهِقُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي سَبْعَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ ”مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَهُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ“ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَلَمَّا أَرْهَقُوهُ أَيْضًا قَالَ ”مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنِّي وَهُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ“ حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبَيْهِ ”مَا أَنْصَفْنَا إِخْوَانَنَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر چڑھ آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سات انصاریوں اور دو قریشیوں کے ہمراہ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان مشرکین کو ہم سے کون ہٹائے گا، وہ اس عمل کے نتیجہ میں جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ جواباً ایک انصاری آگے بڑھا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کرتے ہوئے دشمن سے لڑتا رہا، یہاں تک کہ وہ شہید ہوگیا۔ جب مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر پھر چڑھ آئے تو آپ نے پھر فرمایا: کون ہے جو ان مشرکین کو ہم سے ہٹائے اور دور رکھے، اس عمل کے نتیجہ میں وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ یہاں تک کہ ساتوں انصاری شہید ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دو قریشی ساتھیوں سے فرمایا: ہم نے اپنے ان بھائیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا معنییہ ہے کہ قریشیوں نے انصاریوں سے انصاف نہیں کیا کہ انصاری ہییکے بعد دیگرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کرنے کے لیے نکلتے رہے اور جام شہادت نوش کرتے گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11550
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1789، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14056 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14102»
حدیث نمبر: 11551
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ زِيَارَةَ الْأَنْصَارِ خَاصَّةً وَعَامَّةً فَكَانَ إِذَا زَارَ خَاصَّةً أَتَى الرَّجُلَ فِي مَنْزِلِهِ وَإِذَا زَارَ عَامَّةً أَتَى الْمَسْجِدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاص و عام انصار کی زیارت و ملاقات کے لیے کثرت سے تشریف لے جایا کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی خاص آدمی کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتے تو اس کے گھر تشریف لے جاتے او ر جب عام لوگوں سے ملاقات کرنا ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف رکھتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11551
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الرجل الراوي عن ابي بكر بن ابي موسي الاشعري ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19563 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19792»
حدیث نمبر: 11552
عَنْ أَبِي عُقْبَةَ وَكَانَ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ فَارِسَ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقُلْتُ خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْفَارِسِيُّ فَبَلَغَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”هَلَّا قُلْتَ خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِيُّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو عقبہ رضی اللہ عنہ ، جو کہ ایک فارسی غلام تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں غزوۂ احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا، میں نے ایک مشرک پر زبردست قسم کا وار کرتے ہوئے کہا: لے مزہ چکھ، میں ایک فارسی لڑکا ہوں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے یوں کیوں نہ کہا کہ لے مزہ چکھ، میں ایک انصاری لڑکا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … بہتر یہی ہے کہ اسلامی نسبت اختیار کی جائے، انصار کی طرف نسبت اسلامی نسبت ہے، جبکہ اہل فارس کافر تھے اور ان کی طرف نسبت کرنا جہالت کا کام تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11552
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الرحمن بن ابي عتبة في عداد المجھولين، اخرجه ابوداود: 5123،وابن ماجه: 2784، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22515 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22882»
حدیث نمبر: 11553
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا يَضُرُّ امْرَأَةً نَزَلَتْ بَيْنَ بَيْتَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ أَوْ نَزَلَتْ بَيْنَ أَبَوَيْهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کو کوئی تکلیف نہیں جو انصاریوں کے گھروں میں اترے یا اپنے والدین کے گھر اترے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں انصار لوگوں کے حسن اخلاق، تقوی اور پاکدامنی کو واضح کیا گیا ہے کہ کسی عورت کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ اپنے والدین کے گھر میں آباد ہے یا انصار کے گھر میں آ چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11553
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه الحاكم: 4/ 83، وابن حبان: 7267 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26207 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26737»