کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: صحابۂ کرام کے مناقب کا اجمالی تذکرہ
حدیث نمبر: 11522
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ بِالْجَابِيَةِ فَقَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَقَامِي فِيكُمْ فَقَالَ ”اسْتَوْصُوا بِأَصْحَابِي خَيْرًا ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَبْتَدِئُ بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ بَحْبَحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ لَا يَخْلُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمَا وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جابیہ کے مقام پر خطبہ دیتے ہوئے کہا: ایک دفعہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان اسی طرح کھڑے ہوئے، جیسے میں تمہارے درمیان کھڑا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اپنے صحابہ کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں،اور ان لوگوں کے بارے میں بھی جو ان کے بعد ہوں گے اور ان لوگوں کے بارے میں بھی جو (تابعین) کے بعد ہوں گے، (ان سے حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں)، اس کے بعد جھوٹ اس قدر عام ہو جائے گا کہ ایک آدمی گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دینے لگے گا، پس تم میں سے جو آدمی جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے وہ مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے کا التزام کرے، کیونکہ شیطان ہر اس آدمی کے ساتھ رہتا ہے جو اکیلا ہو اور وہ شیطان دو آدمیوں سے ذرا دور ہو جاتا ہے، تم میں سے کوئی آدمی کسی غیر محرم عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار نہ کرے، کیونکہ ایسے دو افراد کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے اور جس آدمی کو نیکی کرکے خوشی اور گناہ کرکے ناخوشی ہو وہ مومن ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں صحابہ کرام، تابعین عظام اور تبع تابعین کے فضائل و مناقب کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے ان پاکیزہ ہستیوں کا خیال رکھا جائے۔ ہمیں چاہئے کہ ان مقدس زمانوں کے لوگوں سے بتقاضۂ بشریت ہونے والی لغزشوں کو نظر انداز کر دیں اور ان پر کسی قسم کی نقطہ چینی نہ کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11522
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه الترمذي: 2165 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 114 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 114»
حدیث نمبر: 11523
عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ كَلَامٌ فَقَالَ خَالِدٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ تَسْتَطِيلُونَ عَلَيْنَا بِأَيَّامٍ سَبَقْتُمُونَا بِهَا فَبَلَغَنَا أَنَّ ذَلِكَ ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”دَعُوا لِي أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ أُحُدٍ أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَهَبًا مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَهُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ما بین کچھ تلخ کلامی سی ہوگئی، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے کہا: تم ہمارے اوپر محض اس لیے زبان درازی کرتے ہو کہ تم ہم سے کچھ دن پہلے اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ جب اس بات کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے لیے ہی میرے صحابہ کو کچھ نہ کہا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم احد پہاڑ یا کئی پہاڑوں کے برابر سونا بھی خرچ کردو تم ان کے اعمال یعنی درجوں تک نہیں پہنچ سکتے۔
وضاحت:
فوائد: … صحابۂ کرام جس زمان و مکاں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ دیا، اپنا گھر بار چھوڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنکھ کے اشارے پر جان و مال تک قربان کر دیا، بعد والے کسی دور کی قربانیوں کا ایسی نیکیوں سے موازنہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11523
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13812 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13848»
حدیث نمبر: 11524
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قُلْنَا لَوِ انْتَظَرْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ قَالَ فَانْتَظَرْنَا فَخَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ مَا زِلْتُمْ هَاهُنَا قُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْنَا نُصَلِّي مَعَكَ الْعِشَاءَ قَالَ ”أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ“ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ قَالَ وَكَانَ كَثِيرًا مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ ”النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي فَإِذَا ذَهَبَتْ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعر ی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں مغرب کی نماز ادا کی، پھر ہم نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ ہم کچھ انتظار کر لیں اور آپ کی معیت میں عشاء کی نماز ادا کرکے جائیں۔ چنانچہ ہم انتظار کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم یہیں ٹھہرے رہے ؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! بس ہم نے سوچا کہ ہم عشاء کی نماز بھی آپ کی معیت میں ادا کرلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا۔ پھر آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول بھی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر آسمان کیطرف سر اٹھایا کرتے تھے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ ستارے آسمان کے امین (نگران و محافظ)ہیں،جب یہ تارے ختم ہو جائیں گے تو آسمان پر وہ کیفیت طاری ہو جائے گی، جس کا اس کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے، یعنی آسمان پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ میں بھی اپنے صحابہ کے لیے اسی طرح امین ہوں، جب میں دنیا سے چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ فتنے اور آزمائشیں آجائیں گی جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور میرے صحابہ بھی میری امت کے لیے امین اور محافظ ہیں، جب میرے صحابہ اس دنیا سے رخصت ہوجائیں گے تو میری امت پر ان فتنوں کا دور شروع ہو جائے گا، جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ صحابۂ کرام کے زمانے میں ہی فتنوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا، لیکن ان پاکیزہ ہستیوں کا دور گزر جانے کے بعد جن بدعات، خرافات، آزمائشوں اور فتنوں کا سلسلہ شروع ہوا، اس کی دورِ صحابہ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11524
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 2531، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19566 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19795»
حدیث نمبر: 11525
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ أَذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، تم میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، تم میرے بعد انہیں سب وشتم اور طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنانا، پس جس نے ان سے محبت کی، تو دراصل اس نے میری محبت کی بنا پر ان سے محبت رکھی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو درحقیقت اس نے میرے ساتھ بعض کی بنا پر ان سے بغض رکھا اور جس نے ان کو ایذاء دی، اس نے دراصل مجھے ایذاء پہنچائی، جس نے مجھے تکلیف پہنچائی، اس نے درحقیقت اللہ تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی اور جس نے اللہ کو دکھ پہنچایا تو اللہ عنقریب اس کا مؤاخذہ کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11525
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة عبد الرحمن بن زياد او عبد الرحمن بن عبد الله، اخرجه الترمذي: 3862، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20578 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20854»
حدیث نمبر: 11526
عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَّامٍ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَحْنُ خَيْرٌ أَمْ مَنْ بَعْدَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُهُمْ أُحُدًا ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِكُمْ وَلَا نَصِيفَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا: ہم صحابہ افضل ہیں یا ہم سے بعد میں آنے والے لوگ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بعد والوں میں سے کوئی آدمی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ تمہارے ایک مد یا نصف مد تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11526
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23835 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24336»
حدیث نمبر: 11527
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے صحابہ کو سب و شتم نہ کرنا، کیونکہ ان کا مقام تو یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی آدمی جبل احد کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ ان صحابہ کے ایک مدیا نصف مد تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11527
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3673،ومسلم: 2540، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11079 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11095»
حدیث نمبر: 11528
عَنْ طَارِقِ بْنِ أَشْيَمَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”بِحَسْبِ أَصْحَابِي الْقَتْلُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا طارق بن اشیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے صحابہ کا قتل ہو جانا ہی کافی ہے ۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کسی صحابی سے خطا ہو جائے اور وہ فتنوں کے دور کے قتال میں شریک ہو جائے اور پھر وہ اس لڑائی میں قتل ہو تو اس کا قتل اس کے لیے کفارہ ہو گا۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک شاہد ذکر کرتے ہوئے کہا: سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد عنقریب فتنے ہوں گے، ان میں بہت کچھ ہو گا۔ ہم نے کہا:اگر ہم نے یہ زمانہ پایا تو ہم تو ہلاک ہو جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کے لیے قتل کا فتنہ ہی کافی ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: ان فتنوں میں لوگ جلدی جلدی فنا ہوں گے۔ (طبرانی، بزار) (صحیحہ: ۱۳۴۶)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11528
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 92، والبزار: 3263 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15971»
حدیث نمبر: 11529
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِنَّ اللَّهَ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ فَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِهِ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ يُقَاتِلُونَ عَلَى دِينِهِ فَمَا رَأَى الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ وَمَا رَأَوْا سَيِّئًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ سَيِّئٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو اس نے قلب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام انسانوں کے قلوب میں بہتر پایا، اس لیے اس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے لیے منتخب کر لیا اور ان کو رسالت کے ساتھ مبعوث کیا۔ پھر اس نے اس دل کے انتخاب کے بعدباقی بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی اوراصحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلوب کو تمام انسانوں کے قلوب سے بہتر پایا، اس لیے اس نے انہیں اپنے نبی کے وزراء ( اورساتھی) بنا دیا،جو اس کے دین کے لیے قتال کرتے ہیں۔ پس مسلمان جس بات کو بہتر سمجھیں وہ اللہ کے ہاں بھی بہتر ہی ہوتی ہے اور مسلمان جس بات کو برا سمجھیں وہ اللہ کے ہاں بھی بری ہی ہوتی ہے۔ 1
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11529
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه البزار: 130، والطبراني في الكبير : 8582 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3600 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3600»