مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: نماز عید کے بعد نفل پڑھنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 1159
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فِطْرٍ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهُمَا وَلَا بَعْدَهُمَا ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا وَسِخَابَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نکلے تو آپ نے دو رکعت پڑھی ، نہ اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد ، پھر عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے ، آپ نے انہیں صدقہ کا حکم دیا تو عورتیں اپنی بالیاں اور اپنے ہار ( بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں نکال نکال کر ) ڈالنے لگیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1159
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (964) صحيح مسلم (884 بعد ح 890)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/العیدین 8 (964)، 26 (989)، الزکاة 21 (1431)، اللباس 57 (5881)، 59 (5883)، صحیح مسلم/العیدین (884)، سنن الترمذی/الجمعة 35 (537)، سنن النسائی/العیدین 29 (1588)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 160 (1291)، (تحفة الأشراف: 5558)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/355)، سنن الدارمی/الصلاة 219 (1646)، وانظر أیضاحدیث رقم : 1142) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔