مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عید میں عورتوں کے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1136
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَيُونُسَ ، وَحَبِيبٍ ، وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ ، وَهِشَامٍ فِي آخَرِينَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَ ذَوَاتِ الْخُدُورِ يَوْمَ الْعِيدِ " قِيلَ : فَالْحُيَّضُ ؟ قَالَ : " لِيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ " قَالَ : فَقَالَتِ امْرَأَةٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لِإِحْدَاهُنَّ ثَوْبٌ كَيْفَ تَصْنَعُ ؟ قَالَ : " تُلْبِسُهَا صَاحِبَتُهَا طَائِفَةً مِنْ ثَوْبِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ` ہم پردہ نشین عورتوں کو عید کے دن ( عید گاہ ) لے جائیں ، آپ سے پوچھا گیا : حائضہ عورتوں کا کیا حکم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خیر میں اور مسلمانوں کی دعا میں چاہیئے کہ وہ بھی حاضر رہیں “ ، ایک خاتون نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر ان میں سے کسی کے پاس کپڑا نہ ہو تو وہ کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا : ” اس کی سہیلی اپنے کپڑے کا کچھ حصہ اسے اڑھا لے ۔‏‏‏‏“
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1136
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (974) صحيح مسلم (890)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الحیض 23 (324)، والصلاة 2 (351)، والعیدین 15 (974)، 20 (980)، 21 (981)، والحج 81 (1652)، صحیح مسلم/العیدین 1 (890)، والجھاد 48 (1812)، سنن الترمذی/الصلاة 271 (539)، سنن النسائی/الحیض والاستحاضہ 22 (390)، والعیدین 2 (1559)، 3 (1560)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 165 (1308)، (تحفة الأشراف: (18095، 18101، 18110، 18112، 18114)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/84، 85)، سنن الدارمی/الصلاة 223 (1650) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1137
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيَّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، بِهَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ : " وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ " وَلَمْ يَذْكُرْ : الثَّوْبَ ، قَالَ : وَحَدَّثَ عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ امْرَأَة تُحَدِّثُهُ ، عَنِ امْرَأَةٍ أُخْرَى ، قَالَتْ : قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُوسَى فِي الثَّوْبِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں ہے : حائضہ عورتیں مسلمانوں کی نماز کی جگہ سے علیحدہ رہیں ، محمد بن عبید نے اپنی روایت میں کپڑے کا ذکر نہیں کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : حماد نے ایوب سے ایوب نے حفصہ سے ، حفصہ نے ایک عورت سے اور اس عورت نے ایک دوسری عورت سے روایت کی ہے کہ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! ، پھر محمد بن عبید نے کپڑے کے سلسلے میں موسیٰ بن اسماعیل کے ہم معنیٰ حدیث ذکر کی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1137
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (974) صحيح مسلم (890)
حدیث تخریج « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 18095) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1138
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ،عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا الْخَبَرِ ، قَالَتْ : وَالْحُيَّضُ يَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ فَيُكَبِّرْنَ مَعَ النَّاسِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس طریق سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں ہے کہ انہوں نے کہا : ہمیں حکم دیا جاتا تھا ، پھر یہی حدیث بیان کی ، پھر آگے اس میں ہے کہ : انہوں نے بتایا : حائضہ عورتیں لوگوں کے پیچھے ہوتی تھیں اور لوگوں کے ساتھ تکبیریں کہتی تھیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ عیدین میں عورتوں کو لے جانا سنت ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1138
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (971) صحيح مسلم (890)
حدیث تخریج « انظر حدیث رقم : 1136، (تحفة الأشراف: 18095، 18114، 18128) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1139
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ ، وَمُسْلِمٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَامَ عَلَى الْبَابِ ، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ السَّلَامَ ، ثُمَّ قَالَ : أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُنَّ " وَأَمَرَنَا بِالْعِيدَيْنِ أَنْ نُخْرِجَ فِيهِمَا الْحُيَّضَ وَالْعُتَّقَ ، وَلَا جُمُعَةَ عَلَيْنَا ، وَنَهَانَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے انصار کی عورتوں کو ایک گھر میں جمع کیا اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ہمارے پاس بھیجا تو وہ ( آ کر ) دروازے پر کھڑے ہوئے اور ہم عورتوں کو سلام کیا ، ہم نے ان کے سلام کا جواب دیا ، پھر انہوں نے کہا : میں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں اور آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم عیدین میں حائضہ عورتوں اور کنواری لڑکیوں کو لے جائیں اور یہ کہ ہم عورتوں پر جمعہ نہیں ہے ، نیز آپ نے ہمیں جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1139
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, صححه ابن خزيمة (1722 وسنده حسن)
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10680)، وقد أخرجہ: (5/85، 6/408) (ضعیف) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔