مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: امام خطبہ دے رہا ہو اور آدمی مسجد میں داخل ہو تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1115
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ " أَصَلَّيْتَ يَا فُلَانُ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " قُمْ فَارْكَعْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص جمعہ کے دن ( مسجد میں ) آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ، تو آپ نے فرمایا : ” اے فلاں ! کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے ؟ “ ، اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اٹھ کر نماز پڑھو ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ سلیک غطفانی تھے جیسا کہ اگلی روایت میں اس کی تصریح آئی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی امام کے خطبہ دینے کی حالت میں مسجد میں آئے تو وہ دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ کر بیٹھے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1115
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (930) صحيح مسلم (875)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/التھجد 25 (1166)، والجمعة 32 (930)، 33 (931)، صحیح مسلم/الجمعة 14 (875)، سنن الترمذی/الصلاة 250 (الجمعة 15) (510)، سنن النسائی/الجمعة 16 (1396)، (تحفة الأشراف: 2511)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 87 (1113)، مسند احمد (3/297، 308، 369)، سنن الدارمی/الصلاة 96 (1406) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1116
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ،وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا : جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ لَهُ " أَصَلَّيْتَ شَيْئًا ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ تَجَوَّزْ فِيهِمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ ( مسجد میں ) آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ، تو آپ نے ان سے فرمایا : ” کیا تم نے کچھ پڑھا ؟ “ ، انہوں نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھ لو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1116
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (875)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الجمعة 14 (875)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 87 (1114)، (تحفة الأشراف: 2294، 12368)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/316) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1117
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ ، أَنَّ سُلَيْكًا جَاءَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، زَادَ : ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، قَالَ : " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزْ فِيهِمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ` سلیک رضی اللہ عنہ آئے ، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی اور اتنا اضافہ کیا کہ پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو دو ہلکی رکعتیں پڑھ لے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس ٹکڑے سے ان لوگوں کے قول کی تردید ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ یہ حکم سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم اس لئے دیا تھا کہ لوگ ان کی خستہ حالت دیکھ کر ان کا تعاون کریں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1117
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (1117)
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2339)، مسند احمد (3/297) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔