مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: امام خطبہ دے رہا ہو تو بات چیت منع ہے۔
حدیث نمبر: 1112
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قُلْتَ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نے امام کے خطبہ دینے کی حالت میں ( کسی سے ) کہا : چپ رہو ، تو تم نے لغو کیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1112
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, أخرجه النسائي (1578 وسنده صحيح) ورواه البخاري (934) ومسلم (851)
حدیث تخریج « سنن النسائی/الجمعة 22 (1402، 1403)، والعیدین 21 (1576)، (تحفة الأشراف: 13240)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 36 (394)، صحیح مسلم/الجمعة 3 (851)، سنن الترمذی/الصلاة 251 (الجمعة 16) (512)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 86 (1110)، موطا امام مالک/الجمعة 2 (6)، مسند احمد (2/244، 272، 280، 393، 396، 485، 518، 532)، سنن الدارمی/الصلاة 195 (1589) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1113
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ : رَجُلٌ حَضَرَهَا يَلْغُو وَهُوَ حَظُّهُ مِنْهَا ، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا يَدْعُو فَهُوَ رَجُلٌ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُ ، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِإِنْصَاتٍ وَسُكُوتٍ وَلَمْ يَتَخَطَّ رَقَبَةَ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا فَهِيَ كَفَّارَةٌ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا وَزِيَادَةِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، يَقُولُ : مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا سورة الأنعام آية 160 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ میں تین طرح کے لوگ حاضر ہوتے ہیں : ایک آدمی وہ جو جمعہ میں حاضر ہو کر لغو و بیہودہ گفتگو کرے ، اس میں سے اس کا حصہ یہی ہے ۱؎ ، دوسرا آدمی وہ ہے جو اس میں حاضر ہو کر اللہ سے دعا کرے تو وہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے اللہ سے دعا کی ہے اگر وہ چاہے تو اسے دے اور چاہے تو نہ دے ، تیسرا وہ آدمی ہے جو حاضر ہو کر خاموشی سے خطبہ سنے ، نہ کسی مسلمان کی گردن پھاندے ، نہ کسی کو تکلیف دے ، تو یہ اس کے لیے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن تک کے گناہوں کا کفارہ ہو گا کیونکہ اللہ فرماتا ہے : جو نیکی کرے گا تو اسے اس کا دس گنا ثواب ملے گا “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1113
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (1396), صححه ابن خزيمة (1813 وسنده حسن)
حدیث تخریج « تفرد بہ أبوداود،(تحفة الأشراف: 8668)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/181، 214) (حسن) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔