مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کسی حادثہ کے پیش آ جانے پر امام خطبہ میں رک سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 1109
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ حُبَابٍ حَدَّثَهُمْ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقْبَلَ الْحَسَنُ ، وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ وَيَقُومَانِ ، فَنَزَلَ فَأَخَذَهُمَا فَصَعِدَ بِهِمَا الْمِنْبَرَ ، ثُمَّ قَالَ : " صَدَقَ اللَّهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15 ، رَأَيْتُ هَذَيْنِ فَلَمْ أَصْبِرْ " ، ثُمَّ أَخَذَ فِي الْخُطْبَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے ، اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما دونوں لال قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر سے اتر پڑے ، انہیں اٹھا لیا اور لے کر منبر پر چڑھ گئے پھر فرمایا : ” اللہ نے سچ فرمایا ہے : «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ( التغابن : ۱۵ ) ” تمہارے مال اور اولاد آزمائش ہیں “ میں نے ان دونوں کو دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا “ ، پھر آپ نے دوبارہ خطبہ دینا شروع کر دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1109
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (6168), أخرجه الترمزي (3774 وسنده حسن)
حدیث تخریج « سنن الترمذی/المناقب 31 (3774)، سنن النسائی/الجمعة 30 (1414)، والعیدین 27 (1586)، سنن ابن ماجہ/اللباس 20 (3600)، (تحفة الأشراف: 1958)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/354) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔