مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1096
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ زُرَيْقٍ الطَّائِفِيُّ ، قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى رَجُلٍ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُقَالُ لَهُ : الْحَكَمُ بْنُ حَزْنٍ الْكُلَفِيُّ فَأَنْشَأَ ، يُحَدِّثُنَا ، قَالَ : وَفَدْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَةٍ ، أَوْ تَاسِعَ تِسْعَةٍ ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زُرْنَاكَ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا بِخَيْرٍ ، فَأَمَرَ بِنَا ، أَوْ أَمَرَ لَنَا بِشَيْءٍ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّأْنُ إِذْ ذَاكَ دُونٌ فَأَقَمْنَا بِهَا أَيَّامًا شَهِدْنَا فِيهَا الْجُمُعَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَقَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى عَصًا أَوْ قَوْسٍ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ كَلِمَاتٍ خَفِيفَاتٍ طَيِّبَاتٍ مُبَارَكَاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّكُمْ لَنْ تُطِيقُوا أَوْ لَنْ تَفْعَلُوا كُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا " . قَالَ أَبُو عَلِيٍّ : سَمِعْت أَبُو دَاوُد ، قَالَ : ثَبَّتَنِي فِي شَيْءٍ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِنَا وَقَدْ كَانَ انْقَطَعَ مِنَ الْقِرْطَاسِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شہاب بن خراش کہتے ہیں کہ` شعیب بن زریق طائفی نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ میں ایک شخص کے پاس ( جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف صحبت حاصل تھا ، اور جسے حکم بن حزن کلفی کہا جاتا تھا ) بیٹھا تو وہ ہم سے بیان کرنے لگا کہ میں ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میں اس وفد کا ساتواں یا نواں آدمی تھا ، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کی زیارت کی ہے تو آپ ہمارے لیے خیر و بہتری کی دعا فرما دیجئیے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کھجوریں ہم کو دینے کا حکم دیا اور حالت اس وقت ناگفتہ بہ تھی ، پھر ہم وہاں کچھ روز ٹھہرے رہے ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ میں بھی حاضر رہے ، آپ ایک عصا یا کمان پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے چند ہلکے ، پاکیزہ اور مبارک کلمات کے ذریعہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا : ” لوگو ! تم سارے احکام کو جن کا تمہیں حکم دیا جائے بجا لانے کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے یا تم نہیں بجا لا سکتے ، لیکن درستی پر قائم رہو اور خوش ہو جاؤ “ ۔ ابوعلی کہتے ہیں کہ میں نے ابوداؤد کو کہتے ہوئے سنا کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے کچھ کلمات مجھے ایسے لکھوائے جو کاغذ سے کٹ گئے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1096
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (1444), صححه ابن خزيمة (1452 وسنده حسن) وانظر الحديث الآتي (1145)
حدیث تخریج « تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 3419)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/212) (حسن) »
حدیث نمبر: 1097
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ إِذَا تَشَهَّدَ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا ، مِنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ ، مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّ إِلَّا نَفْسَهُ وَلَا يَضُرُّ اللَّهَ شَيْئًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ پڑھتے تو کہتے : «الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ، من يهده الله فلا مضل له ، ومن يضلل فلا هادي له ، وأشهد أن لا إله إلا الله ، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله ، أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدي الساعة ، من يطع الله ورسوله فقد رشد ، ومن يعصهما فإنه لا يضر إلا نفسه ولا يضر الله شيئا» ” ہر قسم کی حمد و ثنا اللہ ہی کے لیے ہے ، ہم اسی سے مدد ما نگتے ہیں اور اسی سے مغفرت چاہتے ہیں ، ہم اپنے نفس کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ، اور جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اللہ تعالیٰ نے انہیں برحق رسول بنا کر قیامت آنے سے پہلے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ، جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ سیدھی راہ پر ہے ، اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرے گا وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچائے گا ، اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1097
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قتادة عنعن, و أبو عياض مجهول (تقريب التهذيب: 8293), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
حدیث تخریج « تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 9636) ویأتی ہذا الحدیث فی النکاح (2119) (ضعیف) » (اس کے راوی عبدربہ مجہول ہیں)
حدیث نمبر: 1098
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ ، عَنْ تَشَهُّدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، قَالَ : وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى ، وَنَسْأَلُ اللَّهَ رَبَّنَا أَنْ يَجْعَلَنَا مِمَّنْ يُطِيعُهُ وَيُطِيعُ رَسُولَهُ وَيَتَّبِعُ رِضْوَانَهُ وَيَجْتَنِبُ سَخَطَهُ ، فَإِنَّمَا نَحْنُ بِهِ وَلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یونس سے روایت ہے کہ` انہوں نے ابن شہاب ( زہری ) سے جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی اور اس میں اتنا اضافہ کیا : «ومن يعصهما فقد غوى ‏"‏ ‏.‏ ونسأل الله ربنا أن يجعلنا ممن يطيعه ويطيع رسوله ويتبع رضوانه ويجتنب سخطه فإنما نحن به وله» ” جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہو گیا ، ہم اللہ تعالیٰ سے جو ہمارا رب ہے یہ چاہتے ہیں کہ ہم کو اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کرنے والوں اور اس کی رضا مندی ڈھونڈھنے والوں اور اس کے غصے سے پرہیز کرنے والوں میں سے بنا لے کیونکہ ہم اسی کی وجہ سے ہیں اور اسی کے لیے ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1098
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, السند مرسل, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 50
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19407، 19354) (ضعیف) (یہ حدیث مرسل ہے ) »
حدیث نمبر: 1099
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، أَنَّ خَطِيبًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا ، فَقَالَ " قُمْ أَوِ اذْهَبْ بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک خطیب نے خطبہ دیا اور یوں کہا : «من يطع الله ورسوله ومن يعصهما» تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم یہاں سے اٹھ جاؤ یا چلے جاؤ تم برے خطیب ہو ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «بئس الخطيب أنت» اس لئے فرمایا کہ «ومن يعصهما» (جو ان دونوں کی نافرمانی کرے) کے الفاظ آپ کو ناگوار لگے، کیوں کہ خطیب نے ایک ہی ضمیر میں اللہ اور رسول دونوں کو یکجا کر دیا، جس سے دونوں کے درمیان برابری ظاہر ہو رہی تھی، خطیب کو چاہئے تھا کہ وہ اللہ اور رسول دونوں کو الگ الگ ذکر کرے بالخصوص خطبہ میں ایسا نہیں کرنا چاہئے، کیوں کہ خطبہ تفصیل اور وضاحت کا مقام ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1099
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (870)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الجمعة 13 (870)، سنن النسائی/النکاح 40 (3281)، (تحفة الأشراف: 9850)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/256، 379) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1100
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ ، عَنْ بِنْتِ الْحَارِثِ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَتْ : مَا حَفِظْتُ ق إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ " . قَالَتْ : " وَكَانَ تَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَنُّورُنَا وَاحِدًا " . قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : بِنْتُ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، وقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : أُمُّ هِشَامٍ بِنْتُ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´( ام ہشام ) بنت حارث ( حارثہ بن نعمان ) بن نعمان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` میں نے سورۃ ” ق “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ( مبارک ) سے سنتے ہی سنتے یاد کی ہے ، آپ اسے ہر جمعہ کو خطبہ میں پڑھا کرتے تھے ، وہ کہتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ہمارا ایک ہی چولہا تھا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1100
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (873), وانظر الحديث الآتي (1102)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الجمعة 13 (872)، سنن النسائی/الجمعة 28 (1412)، (تحفة الأشراف: 18363)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 432، 436، 463) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1101
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سِمَاكٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا يَقْرَأُ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز درمیانی ہوتی تھی اور آپ کا خطبہ بھی درمیانی ہوتا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی چند آیتیں پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1101
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, ورواه مسلم (866) نحوه
حدیث تخریج « سنن النسائی/الجمعة 35 (1419)، صلاة العیدین 25 (1585)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 85 (1106)، (تحفة الأشراف: 2163)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/86، 88، 93، 98، 102، 106، 107) (حسن) »
حدیث نمبر: 1102
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ أُخْتِهَا ، قَالَتْ : مَا أَخَذْتُ ق إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقْرَؤُهَا فِي كُلِّ جُمُعَةٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : كَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَابْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن کی بہن عمرۃ بنت ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا وہ کہتی ہیں کہ` میں نے سورۃ ” ق “ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن سن کر یاد کیا آپ ہر جمعہ میں اسے پڑھا کرتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح اسے یحییٰ بن ایوب ، اور ابن ابی الرجال نے یحییٰ بن سعید سے ، یحییٰ نے عمرہ سے ، عمرہ نے ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان عنہا سے روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1102
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (872)
حدیث تخریج « انظر حدیث رقم : 1100، (تحفة الأشراف: 18363) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1103
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ أُخْتٍ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَتْ أَكْبَرَ مِنْهَا ، بِمَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرہ بنت عبدالرحمٰن اپنی بہن` ام ہشام رضی اللہ عنہا سے جو عمر میں ان سے بڑی تھیں ، اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1103
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (872)
حدیث تخریج « انظر حدیث رقم : 1100، (تحفة الأشراف: 18363) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔