مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جمعہ اور عید ایک دن پڑے تو کیا کرنا چاہئے؟
حدیث نمبر: 1070
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ ، قَالَ : شَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ يَسْأَلُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، قَالَ : أَشَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَكَيْفَ صَنَعَ ؟ قَالَ : صَلَّى الْعِيدَ ، ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ ، فَقَالَ : " مَنْ شَاءَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُصَلِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایاس بن ابی رملۃ شامی کہتے ہیں کہ` میں معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا اور وہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو عیدوں میں جو ایک ہی دن آ پڑی ہوں حاضر رہے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ، معاویہ نے پوچھا : پھر آپ نے کس طرح کیا ؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھی ، پھر جمعہ کی رخصت دی اور فرمایا : ” جو جمعہ کی نماز پڑھنی چاہے پڑھے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سلسلے میں وارد تمام احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ ذاتی طور پر مسلمان کو اختیار ہے کہ عید کی نماز کے بعد چاہے تو جمعہ نہ پڑھ کر صرف ظہر پڑھ لے اسی طرح جس مسجد میں جمعہ نہیں قائم ہوتا اس میں لوگ ظہر پڑہ لیں، لیکن جس مسجد میں جمعہ قائم ہوتا ہو وہاں جمعہ قائم ہو گا، کیوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیز عثمان رضی اللہ عنہ نے عام لوگوں کو جمعہ کی چھوٹ دے کر فرمایا: ’’ہم تو جمعہ پڑھیں گے‘‘۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1070
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه النسائي (1592 وسنده حسن) وابن ماجه (310 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (1464 وسنده حسن)
حدیث تخریج « سنن النسائی/العیدین 31 (1592)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 166 (1310)، (تحفة الأشراف: 3657)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/372)، سنن الدارمی/الصلاة 225 (1653) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1071
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا ابْنُ الزُّبَيْرِ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ أَوَّلَ النَّهَارِ ، ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْجُمُعَةِ " فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا فَصَلَّيْنَا وُحْدَانًا " وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِالطَّائِفِ ، فَلَمَّا قَدِمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : أَصَابَ السُّنَّةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطاء بن ابورباح کہتے ہیں` عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ہمیں جمعہ کے دن صبح سویرے عید کی نماز پڑھائی ، پھر جب ہم نماز جمعہ کے لیے چلے تو وہ ہماری طرف نکلے ہی نہیں ، بالآخر ہم نے تنہا تنہا نماز پڑھی ۱؎ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس وقت طائف میں تھے ، جب وہ آئے تو ہم نے ان سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے کہا : انہوں ( ابن زبیر رضی اللہ عنہ ) نے سنت پر عمل کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ظہر پڑھی کیونکہ جمعہ کے لئے جماعت ضروری ہے اس کے بغیر جمعہ صحیح نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1071
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (1070)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/صلاة العیدین (886)، (تحفة الأشراف: 5896) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1072
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ عَطَاءٌ : اجْتَمَعَ يَوْمُ جُمُعَةٍ وَيَوْمُ فِطْرٍ عَلَى عَهْدِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ : عِيدَانِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ ، فَجَمَعَهُمَا جَمِيعًا فَصَلَّاهُمَا رَكْعَتَيْنِ بُكْرَةً لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِمَا حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطاء کہتے ہیں` عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ اور عید دونوں ایک ہی دن اکٹھا ہو گئے تو آپ نے کہا : ایک ہی دن میں دونوں عیدیں اکٹھا ہو گئی ہیں ، پھر آپ نے دونوں کو ملا کر صبح کے وقت صرف دو رکعت پڑھ لی ، اس سے زیادہ نہیں پڑھی یہاں تک کہ عصر پڑھی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: دراصل عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما گھر سے نکلے ہی نہیں (جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے) اس سے لوگوں نے یہ سمجھا کہ انہوں نے ظہر بھی نہیں پڑھی، حالانکہ ایسی بات نہیں، آپ نے گھر میں ظہر پڑھ لی تھی، کیونکہ عید کے دن جمعہ معاف ہے ظہر نہیں۔ یہ اسلام کا عام قاعدہ ہے کہ جس سے جمعہ کی فرضیت ساقط ہے اس کے لئے ظہر پڑھنی ضروری ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1072
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, أخرجه الفريابي في العيدين (رقم: 153، نسخه أخريٰ: ص 219، وسنده صحيح) ولفظه: ’’ اجتمع يوم فطر ويوم جمعة زمن ابن الزبير فصلي ركعتين…‘‘، ابن جريج عن عطاء قوي
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5283) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1073
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى ، وَعُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْوَصَّابِيُّ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ الضَّبِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " قَدِ اجْتَمَعَ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا عِيدَانِ ، فَمَنْ شَاءَ أَجْزَأَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ ، وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ " . قَالَ عُمَرُ : عَنْ شُعْبَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے آج کے اس دن میں دو عیدیں اکٹھا ہو گئی ہیں ، لہٰذا رخصت ہے ، جو چاہے عید اسے جمعہ سے کافی ہو گی اور ہم تو جمعہ پڑھیں گے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1073
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, ابن ماجه (1311), مغيرة بن مقسم مدلس(طبقات المدلسين : 3/107) وعنعن, والحديث السابق (الأصل : 1070) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
حدیث تخریج « سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 166 (1311)، (تحفة الأشراف: 12827) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔