مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جمعہ کے دن دعا قبول ہونے کی گھڑی کون سی ہے؟
حدیث نمبر: 1048
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، أَنَّ الْجُلَاحَ مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " يَوْمُ الْجُمُعَةِ ثِنْتَا عَشْرَةَ يُرِيدُ سَاعَةً لَا يُوجَدُ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا إِلَّا أَتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَالْتَمِسُوهَا آخِرَ سَاعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ کا دن بارہ ساعت ( گھڑی ) کا ہے ، اس میں ایک ساعت ( گھڑی ) ایسی ہے کہ کوئی مسلمان اس ساعت کو پا کر اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے تو اللہ اسے ضرور دیتا ہے ، لہٰذا تم اسے عصر کے بعد آخری ساعت ( گھڑی ) میں تلاش کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1048
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (1360), أخرجه النسائي (1390 وسنده صحيح)
حدیث تخریج « سنن النسائی/الجمعة 14 (1390)، (تحفة الأشراف: 3157) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1049
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَأْنِ الْجُمُعَةِ ؟ يَعْنِي السَّاعَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " هِيَ مَا بَيْنَ أَنْ يَجْلِسَ الْإِمَامُ إِلَى أَنْ تُقْضَى الصَّلَاةُ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : يَعْنِي عَلَى الْمِنْبَرِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا : کیا تم نے اپنے والد سے جمعہ کے معاملہ میں یعنی قبولیت دعا والی گھڑی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہوئے کچھ سنا ہے ؟ میں نے کہا : ہاں ، میں نے سنا ہے ، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ وہ ( ساعت ) امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز کے ختم ہونے کے درمیان ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یعنی منبر پر ( بیٹھنے سے لے کر ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1049
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف والمحفوظ موقوف , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (853)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الجمعة 4 (853)، (تحفة الأشراف: 9078) (صحیح) » (بعض حفاظ نے اس کو ابوبردہ کا قول بتایا ہے، اور بعض نے اس کو مرفوع حدیث کے مخالف گردانا ہے، جس میں صراحت ہے کہ یہ عصر کے بعد کی گھڑی ہے، (جبکہ ابوہریرہ و جابر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں آیا ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے یہاں یہ ساعت (گھڑی) دن کی آخری گھڑی ہے، ملاحظہ ہو: فتح الباری )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔