کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانورں، اونٹوں ، اونٹنیوں، گھوڑوں اور اسلحہ وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 11513
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ بَغْلَةٌ شَهْبَاءُ فَرَكِبَهَا فَأَخَذَ عُقْبَةُ يَقُودُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعُقْبَةَ ”اقْرَأْ“ فَقَالَ وَمَا أَقْرَأُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اقْرَأْ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}“ [الفلق: 1] فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ حَتَّى قَرَأَهَا فَعَرَفَ أَنِّي لَمْ أَفْرَحْ بِهَا جِدًّا فَقَالَ ”لَعَلَّكَ تَهَاوَنْتَ بِهَا فَمَا قُمْتَ تُصَلِّي بِشَيْءٍ مِثْلِهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تحفے میں ایک سفید خچر دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہوئے، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ اس کو چلا رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: پڑھو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میںکیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} پڑھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سورت کو دہرایا،یہاں تک کہ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے اس سورت کو پڑھ لیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ وہ اس سورت سے زیادہ خوش نہیں ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لگتا ہے، تم اس کو معمولی سمجھ رہے ہو، تو نے نماز میں اس جیسی سورت نہیں پڑھی ہو گی (یعنی یہ بے مثال سورت ہے، جس کو نماز میں پڑھا جائے)۔
حدیث نمبر: 11514
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْكَبُ حِمَارًا اسْمُهُ عُفَيْرٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گدھے پر سواری کیا کرتے تھے۔ اس کا نام عفیر تھا۔
وضاحت:
فوائد: … عفیر کے معانی مٹیالہ رنگ کے ہیں، ممکن ہے کہ اس گدھے کا رنگ ایسے ہی ہو۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک گدھے کا نام یعفور تھا، یعفور کا معنی ہرن کا بچہ ہے، ممکن ہے کہ تیز چلنے کی وجہ سے اس کو یہ نام دیا گیا ہو۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک گدھے کا نام یعفور تھا، یعفور کا معنی ہرن کا بچہ ہے، ممکن ہے کہ تیز چلنے کی وجہ سے اس کو یہ نام دیا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 11515
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ إِنِّي لَآخِذَةٌ بِزِمَامِ الْعَضْبَاءِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ الْمَائِدَةُ كُلُّهَا فَكَادَتْ مِنْ ثَقْلِهَا تَدُقُّ بِعَضُدِ النَّاقَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عضباء اونٹنی کی لگام تھامے ہوئے تھی کہ آپ پر سورۂ مائدہ نازل ہوئی، اس وحی کے بوجھ سے قریب تھا کہ اونٹنی کا بازو ٹوٹ جاتا۔
وضاحت:
فوائد: … عضباء کا معنی وہ اونٹنی ہے، جس کے کان کٹے ہوئے ہوں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کے کان تو کٹے ہوئے نہیں تھے، بس کسی وجہ سے اس اونٹنی کا یہی نام منقول ہوتا چلا آ رہا تھا، بعض اہل علم نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ اس اونٹنی کے کان کٹے ہوئے ہوں۔
نزولِ وحی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بوجھ پڑتا تھا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر سوار ہوتے، یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وزن کسی انسان پر پڑا ہوتا تو وہ بھی اس بوجھ کو محسوس کرتا تھا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَـقِیْلًا} … یقینا ہم ضرور تجھ پر ایک بھاری کلام نازل کریں گے۔ (سورۂ مزمل: ۵)
نزولِ وحی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بوجھ پڑتا تھا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر سوار ہوتے، یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وزن کسی انسان پر پڑا ہوتا تو وہ بھی اس بوجھ کو محسوس کرتا تھا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَـقِیْلًا} … یقینا ہم ضرور تجھ پر ایک بھاری کلام نازل کریں گے۔ (سورۂ مزمل: ۵)
حدیث نمبر: 11516
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ سِيرِينَ صَنَعْتُ سَيْفِي عَلَى سَيْفِ سَمُرَةَ وَقَالَ سَمُرَةُ صَنَعْتُ سَيْفِي عَلَى سَيْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ حَنَفِيًّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عثمان بن سعد کاتب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے ابن سیرین نے کہا:میں نے اپنی تلوار سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی تلوار جیسی بنوائی ہے اور سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ میں نے اپنی تلوار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار جیسی بنوائی ہے، وہ تلوار (مسیلمہ کذاب کی قوم) بنو حنیفہ کی تلواروں کے ڈیزائن پر تھی۔
حدیث نمبر: 11517
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ رَأَيْتُ فِي سَيْفِي ذِي الْفَقَارِ فَلًّا فَأَوَّلْتُهُ فَلًّا يَكُونُ فِيكُمْ وَرَأَيْتُ أَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا فَأَوَّلْتُهُ كَبْشَ الْكَتِيبَةِ وَرَأَيْتُ أَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ فَأَوَّلْتُهَا الْمَدِينَةَ وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَكَانَ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذوالفقار تلوار جنگ بدر کے دن بطور نفل (یا مال غنیمت سے) کییہ وہی تلوار ہے جس کے بارے میں آپ نے احد کے دن خواب دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی اس تلوار ذوالفقار میں ایک دندانہ دیکھا ہے اس کی تعبیریہ ہے کہ تمہیں شکست ہوگی میں نے دیکھا ہے کہ میں نے مینڈھے کو پیچھے سوار کیا ہوا ہے میں نے تاویل کی ہے کہ لشکر کا بہادر شہید ہوگا میں نے دیکھا ہے کہ میں نے محفوظ زرہ پہنی ہوئی ہے میں نے اس کی تاویلیہ کی ہے کہ مدینہ محفوظ رہے گا میں نے دیکھا ہے کہ گائے ذبح کی جارہی ہے اللہ کی قسم یہ بہتر ہے۔ وہی ہوا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا تھا۔
وضاحت:
کے ذبح ہونے کی صورت میں سیدنا طلبہ بن ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت دکھائی گئی، جنہوں نے اس دن جھنڈا اٹھایا ہوا تھا اور گائے ذبح ہونے کی صورت میں حضرات صحابۂ کرام میں سے ستر آدمیوں کی شہادت کی نشاندہی کی گئی تھی اور مدینہ بہترین پناہ گاہ ثابت ہوا، شکست و شہادت کے بعد مسلمان سرخرو ہوئے تھے اور آپ کے گھر والوں میں سید الشہداء سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت مینڈھے کے ذبح ہونے کی صورت میں دکھائی گئی۔
حدیث نمبر: 11518
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ظَاهَرَ بَيْنَ دِرْعَيْنِ يَوْمَ أُحُدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے دن دو زرہیں اوپر تلے زیب تن کی تھیں۔
حدیث نمبر: 11519
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ وَقَالَ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ ”اقْتُلُوهُ“ قَالَ مَالِكٌ وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، اس وقت آپ کے سر پر خود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اتارا تو ایک آدمی نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ ابن خطل کافر کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل کر دو۔ امام مالک کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس روز احرام کی حالت میں نہیں تھے۔ واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 11520
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُكْحُلَةٌ يَكْتَحِلُ بِهَا عِنْدَ النَّوْمِ ثَلَاثًا فِي كُلِّ عَيْنٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک سرمہ دانی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوتے وقت اس سے ہر آنکھ میں تین مرتبہ سرمہ ڈالتے تھے۔
حدیث نمبر: 11521
عَنْ عَاصِمٍ قَالَ رَأَيْتُ عِنْدَ أَنَسٍ قَدَحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ضَبَّةٌ مِنْ فِضَّةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عاصم احول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک پیالہ دیکھا جس پر چاندی کا جوڑ لگا ہوا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا حرام ہے، لیکن اگر کسی ٹوٹے ہوئے برتن کو جوڑنے کے لیےیہ دھاتیں استعمال کرنی پڑ جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے، آجکل ایسے برتن کو جوڑنے کے لیے مختلف اور سستے طریقے دستیاب ہیں، لہٰذا ان ہی کا استعمال ہونا چاہیے، اس مقصد کے لیے سونے اور چاندی کے استعمال سے بچنا چاہیے، کیونکہ اب ان کا استعمال مجبوری نہیں رہا۔
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استعمال کی چند چیزوں کا ذکر اس باب میں ہے، ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں کئی چیزیں استعمال کی ہوں گی اور اصحابِ سیر و تاریخ نے ان کا ذکر بھی ہے، لیکن اب مختلف مساجد اور عجائب گھروں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام کی طرف منسوب کرکے جو چیزیں بطورِ تبرکات سجا دی گئی ہیں، ان کی نسبت کی کوئی سند نہیں ہے، بلکہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس علاقے میں رہتے تھے، اس میں ایسے تبرکات نہیں ملتے اور عرب سے دور دور کے علاقے میں پائے جاتے ہیں۔
{اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ اَفْضَلَ الصَّلوٰۃ وَازْکٰی التَّحِیَّۃِ، اَللّٰھُمَّ أَحْیِنَا عَلٰی سُنَّتِہِ وَتَوَفَّنَا عَلٰی مِلَّتِہِ وَاحْشُرْنَا فِی زُمْرَتِہِ، وَتَحْتَ لِوَائہٖوَاجْعَلْنَامِنْرُّفَقَائِہِوَاَوْرِدْنَاحَوْضَہْوَاسْقِنَا مِنَ یَّدِہِ الشَّرِیْفَۃِ شَرْبَۃً ھَنِیَئۃً مَرْیَئۃً لَا نُظْمَاُ بَعْدَھَا اَبَداً، اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِیِّیِّنَ وَاِمَامِ الْمُرْسَلِیْنَ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَالتَّابِعِیْنَ وَتَابِعِی التَّابِعِیْنَ وَمَنْ تَبِعَ ھُدَاھُمْ بِاِحْسَانٍ اِلٰییَوْمِ الدِّیْنِ، وَسَلِّمْ تَسْلِیْماً کَثِیْراً}
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استعمال کی چند چیزوں کا ذکر اس باب میں ہے، ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں کئی چیزیں استعمال کی ہوں گی اور اصحابِ سیر و تاریخ نے ان کا ذکر بھی ہے، لیکن اب مختلف مساجد اور عجائب گھروں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام کی طرف منسوب کرکے جو چیزیں بطورِ تبرکات سجا دی گئی ہیں، ان کی نسبت کی کوئی سند نہیں ہے، بلکہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس علاقے میں رہتے تھے، اس میں ایسے تبرکات نہیں ملتے اور عرب سے دور دور کے علاقے میں پائے جاتے ہیں۔
{اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ اَفْضَلَ الصَّلوٰۃ وَازْکٰی التَّحِیَّۃِ، اَللّٰھُمَّ أَحْیِنَا عَلٰی سُنَّتِہِ وَتَوَفَّنَا عَلٰی مِلَّتِہِ وَاحْشُرْنَا فِی زُمْرَتِہِ، وَتَحْتَ لِوَائہٖوَاجْعَلْنَامِنْرُّفَقَائِہِوَاَوْرِدْنَاحَوْضَہْوَاسْقِنَا مِنَ یَّدِہِ الشَّرِیْفَۃِ شَرْبَۃً ھَنِیَئۃً مَرْیَئۃً لَا نُظْمَاُ بَعْدَھَا اَبَداً، اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِیِّیِّنَ وَاِمَامِ الْمُرْسَلِیْنَ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَالتَّابِعِیْنَ وَتَابِعِی التَّابِعِیْنَ وَمَنْ تَبِعَ ھُدَاھُمْ بِاِحْسَانٍ اِلٰییَوْمِ الدِّیْنِ، وَسَلِّمْ تَسْلِیْماً کَثِیْراً}