کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض غلاموں کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11492
عَنْ سَفِينَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَعْتَقَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ أَنْ أَخْدُمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا عَاشَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو عبد الرحمن سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آزاد کیا اور مجھ پر یہ شرط عائد کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تک زندہ رہیں، میں ان کی خدمت کرتا رہوں گا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ فارسی تھے، ان کی وجہ تسمیہ کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۱۱۷۳۶) سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ اس اعتبار سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام تھے، کیونکہ انھوں نے ان کو آزاد کیا تھا، لیکن اس نسبت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام تھے کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کی شرط لگائی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11492
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه ابوداود: 3932، وابن ماجه: 2526، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22272»
حدیث نمبر: 11493
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ إِنَّ سَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَظَرَ إِلَى الْخَاتَمِ الَّذِي عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَ بِهِ وَكَانَ لِلْيَهُودِ فَاشْتَرَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا وَكَذَا الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، یہ ایک طویل حدیث ہے، اس میں ہے کہ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک پر مہر نبوت کو دیکھا اور ایمان لے آئے، یہی ہودیوں کی ملکیت میں تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو خرید لیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مناقب میں اس طویل حدیث کا ذکر آئے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11493
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24138»
حدیث نمبر: 11494
عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ ”اصْحَبْنِي كَيْمَا تُصِيبَ مِنْهَا“ قَالَ لَا حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ فَسَأَلَهُ فَقَالَ ”الصَّدَقَةُ لَا تَحِلُّ لَنَا وَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مخزوم کے ایک فرد کو صدقات کی وصولی کے لیے بھیجا تو اس نے سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے کہا: تم بھی میرے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو جاؤ تاکہ آپ کو بھی کچھ حصہ مل جائے؟ انہوں نے کہا:نہیں، جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت نہ کر لوں، نہیں جاؤں گا، پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے لیے صدقہ لینا حلال نہیں ہے اور کسی قوم کا غلام بھی اسی قوم کا فرد ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کا نام ابراہیمیا اسلم یا ثابت یا ہرمز تھا۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جس آل پر صدقہ حرام ہے، ان کے غلاموں کے لیے بھییہی حکم ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11494
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه ابوداود:1650، والترمذي: 657، والنسائي: 5/107 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27182 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27724»
حدیث نمبر: 11495
عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ أَتَيْتُ أُمَّ كُلْثُومٍ ابْنَةَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِشَيْءٍ مِنَ الصَّدَقَةِ فَرَدَّتْهَا وَقَالَتْ حَدَّثَنِي مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ مِهْرَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّا آلُ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ وَمَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عطاء بن سائب کہتے ہیں: میں سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کی خدمت میں صدقہ کی ایک چیز لے کر حاضر ہوا، لیکن انہوں نے وہ چیز واپس کر دی اور کہا: مولائے نبی سیدنامہران نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: ہم آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں ہے، نیز قوم کا غلام ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۳۴۸۰)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11495
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح بالشواھد، اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 315، وعبد الرزاق: 6942 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15708 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15799»
حدیث نمبر: 11496
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غُلَامٌ يُسَمَّى رَبَاحًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک غلام کا نام رباح تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11496
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16495 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16609»
حدیث نمبر: 11497
عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ فَصَلَّى عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الثَّانِيَةُ قَالَ ”يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ أَسْرِجْ لِي دَابَّتِي“ قَالَ فَرَكِبَ فَمَشَيْتُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ فَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ وَأَمْسَكْتُ الدَّابَّةَ وَوَقَفَ عَلَيْهِمْ أَوْ قَالَ قَامَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ ”لِيَهْنِكُمْ مَا أَنْتُمْ فِيهِ“ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام سیدنا ابومویہبہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہواکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل بقیع کے حق میں دعائے مغفرت کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ ان کے حق میں دعائیں کیں، جب دوسری رات تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو مویہبہ! میری سواری پر پلان کسو۔ اس پر آپ سوار ہوگئے اور میں بھی ساتھ ساتھ پیدل چلتا گیا، آگے جا کر آپ اپنی سواریسے نیچے اترے اور میں سواری کو پکڑے کھڑا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل بقیع کے پاس جا کھڑے ہوئے اور فرمایا: تم جس حال میں ہو تمہیںیہ حالت مبارک ہو۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مزید غلاموں کے نام درج ذیل ہیں:ـ
سیدنا اسامہ، سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا ثوبان، سیدنا ابو کتبہ اوس، سیدنا صالح حبشی معروف شقران، سیدنا رباح اسود نوبی، سیدنایسار راعی، سیدنا ابو یسار زید، سیدنا مدعم، سیدنا رفاعہ بن زید جزامی، سیدنا مامور قبطی، سیدنا واقد، سیدنا ابو واقد، سیدنا انجشہ، سیدنا شمعون بن زید، سیدنا ابو ریحانہ اور سیدنا ابو بکرہ نفیع بن حارث۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض لونڈیوں کے نام درج ذیل ہیں: سیدہ ام ایمن، سیدہ سلمیٰ ام رافع، سیدہ ماریہ اور ان کی بہن سیدہ قیصر اور سیدہ ریحانہ رضی اللہ عنہن۔ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے (۴۳) غلام اور گیارہ لونڈیاں تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11497
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة عبيد بن جبير، والحكمُ بن فصِيل مختلف فيه، اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 340، والطبراني في الكبير : 22/ 872 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15996 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16092»