کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ کی بعض ازواج کا حیلہ کرنے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان کی ایذائوں کو برداشت کرنے، ان سے درگزر کرنے اور گھر کے اندر انکساری کا رویہ اختیار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 11486
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَى وَيُحِبُّ الْعَسَلَ وَكَانَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ دَارَ عَلَى نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْهُنَّ فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ فَاحْتَبَسَ عِنْدَهَا أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَحْتَبِسُ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ فَقِيلَ لِي أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُكَّةَ عَسَلٍ فَسَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَقُلْتُ أَمَا وَاللَّهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَوْدَةَ وَقُلْتُ إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ فَإِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْكِ فَقُولِي لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ لَا فَقُولِي لَهُ مَا هَذِهِ الرِّيحُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ رِيحٌ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ فَقُولِي لَهُ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ وَسَأَقُولُ لَهُ ذَلِكَ فَقُولِي لَهُ أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى سَوْدَةَ قَالَتْ سَوْدَةُ وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ كِدْتُ أَنْ أُبَادِئَهُ بِالَّذِي قُلْتِ لِي وَإِنَّهُ لَعَلَى الْبَابِ فَرَقًا مِنْكِ فَلَمَّا دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ قَالَ ”لَا“ قُلْتُ فَمَا هَذِهِ الرِّيحُ قَالَ ”سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ“ قُلْتُ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَى صَفِيَّةَ فَقَالَتْ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَسْقِيكَ مِنْهُ قَالَ ”لَا حَاجَةَ لِي بِهِ“ قَالَ تَقُولُ سَوْدَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ قُلْتُ لَهَا اسْكُتِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میٹھی چیز اور شہد خوب مرغوب تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز ادا فرمانے کے بعد اپنی ازواج کے ہاں چکر لگایا کرتے اور ان کے پاس جایا کرتے تھے، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے اور سابقہ معمول سے ذرا زیادہ دیر تک وہاں ٹھہرے، میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو مجھے بتلایا گیا کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو ان کی قوم کی ایک عورت نے شہد کا ایک بڑا ڈبہ ہدیہ بھیجا ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس شہد میں سے پلایا ہے۔ میں نے سوچا کہ اللہ کی قسم! ہم اس سلسلہ میں ضرور کوئی پروگرام بنائیں۔ تو میں نے اس بات کا سیدہ سودہ رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا، میں نے ان سے کہا کہ اللہ کے رسول جب آپ کے پاس آکر آپ کے قریب آئیں تو کہہ دینا کہ اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہیں گے کہ نہیں، تو تم نے کہنا ہے کہ تو پھر آپ سے یہ کیسی مہک (بو) آرہی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بالکل گوارا نہ تھی کہ آپ سے کسی قسم کی بو آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے کہ مجھے حفصہ رضی اللہ عنہا نے شہد پلایا ہے۔ تو تم کہہ دینا کہ شہد کی مکھی اس درخت پر جا بیٹھی ہو گی، جب آپ میرے پاس تشریف لائیں گے تو میں بھییہی بات آپ سے کہوں گی۔ اور صفیہ! جب اللہ کے رسول آپ کے ہاں آئیں تو تم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کہنا۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو وہ بیان کرتی ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازے پر ہی تھے کہ میں تمہارے ڈر کی وجہ سے جلدی میں آپ سے وہ بات کہنے والی تھی، جو تم نے مجھ سے کہی تھی۔ بہر حال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے تو میں نے کہہ دیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: تو پھر یہ بو کیسی ہے؟ آپ نے فرمایا: مجھے تو حفصہ نے شہد پلایا ہے۔ میں نے کہا: پھر شہد کی مکھی مغافیر پر جا بیٹھی ہوگی، اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے بھی اسی طرح کہا۔ اس کے بعد جب آپ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو انہوں نے بھی آپ سے ایسی ہی بات کی۔ بعد میں جب آپ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! کیا میں آپ کووہ شہد نہ پلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، مجھے اس کی حاجت نہیں۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سبحان اللہ! ہم نے آپ کو اس شہد سے محروم کر دیا ہے۔ تو میں نے ان سے کہا: چپ رہو۔
وضاحت:
فوائد: … مغافیر ایک قسم کا پھول ہوتا ہے، جس میںبساند ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11486
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5431، 5599، 5614،ومسلم: 1474، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24820»
حدیث نمبر: 11487
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَقَدْ كَانَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ نِسَائِهِ شَيْءٌ فَجَعَلَ يَرُدُّ بَعْضَهُنَّ عَنْ بَعْضٍ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ احْثُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ وَاخْرُجْ إِلَى الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت ہو چکی تھییا نماز کی اقامت کا وقت ہو چکا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی ازواج کے مابین کوئی بحث ہو رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو ایک دوسری سے چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اتنے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کے مونہوں میں مٹی ڈالیں اور آپ نماز کے لیے تشریف لے چلیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11487
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم مطولا: 1462، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12014 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12037»
حدیث نمبر: 11488
عَنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ قَالَتْ كَانَ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اسود سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر آکر کیا کچھ کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل خانہ کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے، نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔
وضاحت:
فوائد: … امہات المؤمنین اگرچہ نبی کی بیویاں اور ساری امت میں سے نہایت نمایاں مقام کی حامل تھیں، تاہم بتقضائے بشریت ان کے مابین بھی سوکنون والی لڑائی اور ناراضگی کی نوبت آہی جاتی تھی،یہ خواتین کا ایسا طبعی معاملہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسانی کے ساتھ اس کو برداشت کر جاتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11488
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 676 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24226 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24730»