کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی ازواج کے ساتھ نرمی اور ان کے امور کا اہتمام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 11480
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَجُلٌ يَسُوقُ بِأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ فَاشْتَدَّ فِي السِّيَاقَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ سَوْقًا بِالْقَوَارِيرِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک صحابی امہات المؤمنین کے اونٹوں کو ہانکا کرتا تھا، اس کو انجشہ کہا جاتا تھا، ایک بار اس نے اونٹوں کو تیز تیز چلانا شروع کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: انجشہ! ان آبگینوں کو آرام آرام سے لے کر چلو۔
حدیث نمبر: 11481
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ وَحَادٍ يَحْدُو بِنِسَائِهِ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ قَدْ تَنَحَّى بِهِنَّ قَالَ فَقَالَ لَهُ ”يَا أَنْجَشَةُ وَيْحَكَ ارْفُقْ بِالْقَوَارِيرِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل رہے تھے اور ایک حدی خوان حدی کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں والے اونٹوں کو چلا رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے، اس سے اس نے (مزید حدی کے ذریعے) ان کو تیزی کے ساتھ چلانا شروع کر دیا، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو فرمایا: انجشہ! تجھ پر افسوس ہے، شیشوں کے ساتھ نرمی کر۔
حدیث نمبر: 11482
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى أَزْوَاجِهِ وَسَوَّاقٌ يَسُوقُ بِهِنَّ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ فَقَالَ ”وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ“ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِكَلِمَةٍ لَوْ تَكَلَّمَ بِهَا بَعْضُكُمْ لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ يَعْنِي قَوْلَهُ سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو قلابہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ازواج کے پاس آئے۔ تو ایک شتر بان (حدی خوان) ان کے اونٹوں کو ہانکے جا رہا تھا۔ اس کا نام انجشہ تھا۔ آپ نے فرمایا، انجشہ! تمہارا بھلا ہو۔ تم ان آبگینوں کو ذرا آرام سے لے چلو۔ ابوقلابہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسا لفظ بولا کہ اگر تم میں سے کوئی اور آدمی یہ لفظ بولتا تو تم اسے معیوب گردانتے۔ یعنی آپ نے اس سے کہا کہ ان آبگینوں کو آرام سے لے چلو۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں عورتوں کو شیشے سے تشبیہ دی گئی ہے، اس سے مراد عورتوں کی رقت، ضعف اور نزاکت ہے اور یہ مفہوم بھی بیان کیا گیا ہے کہ عام طور پر خواتین وفا پر دوام اختیار نہیں کر سکتیں اور بہت جلدی رضامندی کی حالت سے پھر جاتی ہیں، جیسے شیشہ جلدی ٹوٹ جاتا ہے۔
بہرحالیہ ایک بدیع استعارہ ہے، جس کے ذریعے عورتوں سے نرمی کرنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔
سیّدنا انجشہ رضی اللہ عنہا ٓپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حبشی غلام تھے، ان کی کنیت ابو ماریہ تھی۔
بہرحالیہ ایک بدیع استعارہ ہے، جس کے ذریعے عورتوں سے نرمی کرنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔
سیّدنا انجشہ رضی اللہ عنہا ٓپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حبشی غلام تھے، ان کی کنیت ابو ماریہ تھی۔
حدیث نمبر: 11483
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جَارًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَارِسِيًّا كَانَ طَيِّبَ الْمَرَقِ وَفِي رِوَايَةٍ كَانَتْ مَرَقَتُهُ أَطْيَبَ شَيْءٍ رِيحًا فَصَنَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَهُ يَدْعُوهُ فَقَالَ ”وَهَذِهِ لِعَائِشَةَ“ فَقَالَ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا“ ثُمَّ عَادَ يَدْعُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَهَذِهِ“ قَالَ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَهَذِهِ“ قَالَ نَعَمْ فِي الثَّالِثَةِ فَقَامَا يَتَدَافَعَانِ حَتَّى أَتَيَا مَنْزِلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ہمسایہ فارس کا رہنے والا تھا، وہ بہترین قسم کا شور با بناتا تھا۔ (دوسری روایت کے لفظ ہیں کہ اس کا تیار کردہ شورباانتہائی مزیدار ہوتا تھا۔) اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے شوربا تیار کیا، پھر آپ کو وہ بلانے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیایہ (یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا ) بھی؟ (یعنی ان کو بھی ساتھ لاؤں) ؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: کیایہ عائشہ بھی؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اور یہ عائشہ؟ اب کی بار اس نے کہا: جی ہاں، اس کے بعد آپ دونوں خوشی خوشی اس کے گھر گئے۔
حدیث نمبر: 11484
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَهُنَّ ”إِنَّ أَمْرَكُنَّ لَمِمَّا يُهِمُّنِي بَعْدِي وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے فرمایا کرتے تھے کہ تم ازواج کے معاملے نے مجھے اپنے بعد تمہارے بارے میں فکر مند کر رکھا ہے اور تمہاری باتوں کو وہی لوگ برداشت کر سکیں گے جو صبر کرنے والے ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … پھر سیدہ عائشہ نے ابو سلمہ سے کہا: اللہ تعالیٰ تیرے باپ کو جنت کی سلسبیل سے مشروب پلائے۔ انھوں نے واقعی صلہ رحمی کا ثبوت دیتے ہوئے امہات المؤمنین کو (ایک باغ) دیا، جو چالیس ہزار کا فروخت کیا گیا۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کا ایک شاہد یہ بھی نقل کیا ہے: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں سے فرمایا: ((اِنَّ الَّذِیْیَحْنُوْ عَلَیْکُنَّ بَعْدُ ھُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ، اَللّٰھُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِیْلِ الْجَنَّۃِ۔)) (حاکم) … (میری بیویو!) بیشک جو آدمی تم پر شفقت و مہربانی کرے گا، وہی سچا اور نیک ہو گا، اے اللہ! تو عبد الرحمن بن عوف کو جنت کی سلسبیل سے سیراب فرما دے۔
معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کا انتہائی درجے کا احترام و اکرام اور ان کے ساتھ شفقت و رافت والا معاملہ ہوناچاہئے۔ آج اگرچہ امہات المؤمنین موجود نہیں ہیں، لیکن ان کا تذکرۂ خیر کرنا اور ان کے بشری تقاضوں کو سامنے رکھ کر ان پر کیچڑ نہ اچھالنا ہمارے ایمان و ایقان کا تقاضا ہے۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کا ایک شاہد یہ بھی نقل کیا ہے: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں سے فرمایا: ((اِنَّ الَّذِیْیَحْنُوْ عَلَیْکُنَّ بَعْدُ ھُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ، اَللّٰھُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِیْلِ الْجَنَّۃِ۔)) (حاکم) … (میری بیویو!) بیشک جو آدمی تم پر شفقت و مہربانی کرے گا، وہی سچا اور نیک ہو گا، اے اللہ! تو عبد الرحمن بن عوف کو جنت کی سلسبیل سے سیراب فرما دے۔
معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کا انتہائی درجے کا احترام و اکرام اور ان کے ساتھ شفقت و رافت والا معاملہ ہوناچاہئے۔ آج اگرچہ امہات المؤمنین موجود نہیں ہیں، لیکن ان کا تذکرۂ خیر کرنا اور ان کے بشری تقاضوں کو سامنے رکھ کر ان پر کیچڑ نہ اچھالنا ہمارے ایمان و ایقان کا تقاضا ہے۔
حدیث نمبر: 11485
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْنَى عَلَيَّ فَقَالَ ”إِنَّكُنَّ لَأَهَمُّ مَا أَتْرُكُ إِلَى وَرَاءِ ظَهْرِي وَاللَّهِ لَا يَعْطِفُ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ أَوِ الصَّادِقُونَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) ابو سلمہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے اوپر جھک کر انتہائی شفقت سے فرمایا: میں اپنے بعد جو امور چھوڑ کر جاؤں گا، تم میری بیویوں کا معاملہ میرے نزدیک ان سب سے زیادہ اہم ہے۔ اللہ کی قسم! تمہارے اوپر جو لوگ شفقت کریں گے، وہ صبر اور صدق کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوں گے۔