کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پیالہ توڑنے کے واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عدل اور آپ کے اخلاق کا ظہور
حدیث نمبر: 11477
أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ قَالَ أَظُنُّهَا عَائِشَةَ فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ مَعَ خَادِمٍ لَهَا بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ قَالَ فَضَرَبَتِ الْأُخْرَى بِيَدِ الْخَادِمِ فَكُسِرَتِ الْقَصْعَةُ بِنِصْفَيْنِ قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”غَارَتْ أُمُّكُمْ“ قَالَ وَأَخَذَ الْكَسْرَتَيْنِ فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى فَجَعَلَ فِيهَا الطَّعَامَ ثُمَّ قَالَ ”كُلُوا“ فَأَكَلُوا وَحَبَسَ الرَّسُولَ وَالْقَصْعَةَ حَتَّى فَرَغُوا فَدَفَعَ إِلَى الرَّسُولِ قَصْعَةً أُخْرَى وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةَ مَكَانَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یا کسی دوسری اہلیہ کے ہاں موجود تھے، کسی دوسری ام المؤمنین نے اپنے خادم کے ہاتھ کھانے کا ایک پیالہ بھیج دیا، تو آپ جس کے گھر تھے، اس نے اس خادم کے ہاتھ پر جھپٹا مار کر پیالے کو توڑ ڈالا۔ یہ عالم دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے: تمہاری ماں کو غیرت آگئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیالے کے ٹوٹے ہوئے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا کر ایک دوسرے کے ساتھ ملایا اور کھانا اٹھا کر اس ٹوٹے ہوئے پیالے ہی میں ڈالنے لگے اور فرمایا: لو کھا لو۔ دوسرے موجود لوگوں نے کھانا کھا لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا لانے والے خادم اور پیالے کو روک لیا، جب وہ کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے اس خادم کو دوسرا پیالہ دے دیا اور ٹوٹا ہوا پیالہ رکھ لیا۔
حدیث نمبر: 11478
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ وَحَبَسَ الرَّسُولَ حَتَّى جَاءَتِ الْأُخْرَى بِقَصْعَتِهَا فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الَّتِي كُسِرَتْ قَصْعَتُهَا وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةَ لِلَّتِي كَسَرَتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، یہ حدیث گزشتہ حدیث کی طرح ہے۔ البتہ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خادم کو روک لیا،یہاں تک کہ دوسری ام المؤمنین نے اپنا پیالہ لا کر دیا تو جس ام المؤمنین کا پیالہ ٹوٹا تھا، اس کی طرف دوسرا صحیح پیالہ اس خادم کے ہاتھ بھیج دیا اور ٹوٹا ہوا ان کے پاس رہنے دیا جنہوں نے توڑا تھا۔
حدیث نمبر: 11479
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ صَانِعَةَ طَعَامٍ مِثْلَ صَفِيَّةَ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَاءً فِيهِ طَعَامٌ وَفِي لَفْظٍ وَهُوَ عِنْدِي فَمَا مَلَكْتُ نَفْسِي أَنْ كَسَرْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَفَّارَتُهُ فَقَالَ ”إِنَاءٌ كَإِنَاءٍ وَطَعَامٌ كَطَعَامٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا جیسا کھانا تیار کرتے کسی کو نہیں دیکھا، انہوں نے کھانے کا ایک پیالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ اس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تھے، میں غیرت کی وجہ سے اپنے آپ کو کنٹرول نہ کر سکی اور میں نے وہ پیالہ توڑ ڈالا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اب اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: برتن جیسا برتن اور کھانے جیسا کھانا۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں آپ کی خواہشات کا خیال رکھتیں اور آپ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہتی تھیں۔ آپ اگر کسی دوسری اہلیہ کے ہاں ہوتے تو کھانا وغیرہ ادھر ہی بھیج دیتی تھیں تاکہ آپ کھانا تناول کر لیں۔
عام عورتوں کی طرح امہات المؤمنین کو بھی آپس میں ایک دوسری پر غیرت آجاتی تھی،یہ ایسا طبعی معاملہ ہے کہ شاید ہی اس پر کنٹرول کیا جا سکے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کو زیادہ محسوس نہیں کیا، کہتے ہیں کہ ایک خاتون پورے جہاں کو اپنے اندر سما سکتی ہے، البتہ ایک سوکن کو نہیں سما سکتی۔
عام عورتوں کی طرح امہات المؤمنین کو بھی آپس میں ایک دوسری پر غیرت آجاتی تھی،یہ ایسا طبعی معاملہ ہے کہ شاید ہی اس پر کنٹرول کیا جا سکے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کو زیادہ محسوس نہیں کیا، کہتے ہیں کہ ایک خاتون پورے جہاں کو اپنے اندر سما سکتی ہے، البتہ ایک سوکن کو نہیں سما سکتی۔