کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنی ازواج کے درمیان ہر چیز میں انصاف کرنے اور¤دن کے کسی حصہ میں سب کے ہاں چکر لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 11472
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ بَعَثَتْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقِنَاعٍ عَلَيْهِ رُطَبٌ فَجَعَلَ يَقْبِضُ قَبْضَتَهُ فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ وَيَقْبِضُ الْقَبْضَةَ فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ ثُمَّ جَلَسَ فَأَكَلَ بَقِيَّتَهُ أَكْلَ رَجُلٍ يُعْلَمُ أَنَّهُ يَشْتَهِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کو کھجوروں کی ایک پلیٹ یا کھلا برتن دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا، آپ مٹھیاں بھر بھر کر کھجوریں اپنی ازواج کے ہاں بھجوانے لگے، اس کے بعد باقی کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کھائیں کہ واضح طور پر پتہ چل رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانے کی حاجت تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11472
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه ابويعلي: 2896، وابن حبان: 695 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12267 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12292»
حدیث نمبر: 11473
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ كَانَتْ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَبْتَغِي بِذَلِكَ رِضَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ر وایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، جس کا قرعہ نکلتا، اسے ساتھ لے کر جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ہر بیوی کے لئے اس کی رات اور اس کا دن تقسیم کیا کرتے تھے، لیکن سیدنا سودہ رضی اللہ عنہا اس سے مستثنیٰ تھیں، کیونکہ انہوں نے اپنا دن اور رات ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا تھا، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا مقصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا تلاش کرنا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … جب سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا عمر رسیدہ ہوئیں اور ان کو یہ شبہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو جدا کر دیں تو انھوں نے اپنا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا یہ ہبہ قبول کر لیا،یہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا کمال حکیمانہ فیصلہ تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11473
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2593، 2688 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24859 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25371»
حدیث نمبر: 11474
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ الْوَاحِدَةِ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ وَهَلْ كَانَ يُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أُعْطِيَ قُوَّةَ ثَلَاثِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات اور دن کی ایک گھڑی میں اپنی تمام بیویوں کے پاس جا کر (حق زوجیت ادا) کر لیتے تھے، اس وقت ان کی تعداد گیارہ تھی، میں نے سیدنا انس سے کہا: کیا آپ کو اتنی طاقت تھی، انہوں نے کہا: ہم آپس میں بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیس آدمیوں کی قوت عطا کی گئی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان گیارہ میں سے دو لونڈیاں تھیں، سیدہ ماریہ اور سیدہ ریحانہ رضی اللہ عنہما۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11474
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14155»
حدیث نمبر: 11475
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَى تِسْعِ نِسْوَةٍ فِي ضَحْوَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کے وقت اپنی نو ازواج کے ہاں چکر لگایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11475
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13505 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13539»
حدیث نمبر: 11476
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ يَوْمٍ إِلَّا وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا امْرَأَةً امْرَأَةً فَيَدْنُو وَيَلْمِسُ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ حَتَّى يُفْضِيَ إِلَى الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا فَيَبِيتُ عِنْدَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر روز ایک ایک کر کے اپنی تمام بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے تھے، پھر ہر ایک کے قریب ہوتے اور اس کو مسّ کرتے، البتہ جماع نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے تھے، جس کی باری ہوتی تھی، پھر اس کے پاس رات گزارتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی درج بالا تینوں احادیث کتاب النکاح میں گزر چکی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11476
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابن ابي الزناد،و ھو عبد الرحمن، قد تفرد به، وھو ممن لا يحتمل تفرده، أخرجه ابوداود: 2135 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25274»