کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پانچویں زوجہ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا
حدیث نمبر: 11450
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ وَكَانَ أَتَى النَّجَاشِيَّ وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ وَكَانَ رَحَلَ إِلَى النَّجَاشِيِّ فَمَاتَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ وَإِنَّهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ زَوَّجَهَا إِيَّاهُ النَّجَاشِيُّ وَمَهَرَهَا أَرْبَعَةَ آلَافٍ ثُمَّ جَهَّزَهَا مِنْ عِنْدِهِ وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ شَرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ وَجِهَازُهَا كُلُّهُ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ وَلَمْ يُرْسِلْ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ وَكَانَ مُهُورُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ مِائَةِ دِرْهَمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عروہ سے روایت ہے، وہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ وہ عبید اللہ بن جحش کی زوجیت میں تھیں، وہ نجاشی کے ہاں گیا تھا اور وہیں (مرتد ہو کر) مر گیا۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا حبشہ ہی میں تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا، ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نکاح نجاشی نے کیا تھا اور اسی نے آپ کی طرف سے ان کو چار ہزار دیناربطور مہر ادا کئے تھے۔ پھر اس نے ان کے سفر کی تیاری کرکے ان کو شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں روانہ کیا تھا۔ ان کی مکمل تیاری اور سازو سامان نجاشی کی طرف سے تھا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی چیز نہیںبھیجی تھی۔ باقی ازواج کے مہر چار سو درہم تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نام رملہ تھا، سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں،یہ بعثت سے سترہ ماہ قبل پیدا ہوئی تھیں، عبید اللہ بن جحش سے ان کی شادی ہوئی، پھر یہ میاں بیوی دونوں مسلمان ہو گئے اور ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے، وہاں عبید اللہ تو نصرانی ہو کر مر گیا، لیکن سیدہ اسلام پر قائم رہیں، پھر نجاشی نے ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نکاح کر دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11450
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، اخرجه ابوداود: 2107، 2108،والنسائي: 6/119 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27408 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27953»