کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چوتھی زوجہ محترمہ ام المؤمنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا
حدیث نمبر: 11446
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ مَاتَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَدَفَنَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ لَيْلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال رات کو ہوا تھا اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے رات کو ہی ان کی تدفین کر دی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … عبد اللہ بن زبیر، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ولادت نبوت کے چوتھے سال کوہوئی اور وفات (۱۸) رمضان (۵۷یا۵۸) سن ہجری کو ہوئی، بوقت وفات آپ کی عمر ۶۶ برس تھی، آپ کی نماز جنازہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ولادت نبوت کے چوتھے سال کوہوئی اور وفات (۱۸) رمضان (۵۷یا۵۸) سن ہجری کو ہوئی، بوقت وفات آپ کی عمر ۶۶ برس تھی، آپ کی نماز جنازہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔
حدیث نمبر: 11447
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ أَوْ حُذَيْفَةَ شَكَّ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ قَالَ فَلَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ قَالَ سَأَنْظُرُ فِي ذَلِكَ فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ فَلَقِينِي فَقَالَ مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا قَالَ عُمَرُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ ابْنَةَ عُمَرَ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا فَكُنْتُ أَوْجَدُ عَلَيْهِ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ فَخَطَبَهَا إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ فَلَقِينِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَيَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَيَّ حَفْصَةَ فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ شَيْئًا حِينَ عَرَضْتَهَا عَلَيَّ إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهَا وَلَمْ أَكُنْ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ تَرَكَهَا لَنَكَحْتُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میری بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سیدنا خنیس بن حذافہ یا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد بیوہ ہوگئی،یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے اور غزوئہ بدر میں حاضر ہوئے تھے اور انھوں نے مدینہ میں وفات پائی تھی، میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ملا اور ان پر حفصہ کو پیش کیا اور میں نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو میں حفصہ سے تمہارا نکاح کر دیتا ہوں؟ انہوں نے کہا: میں اس بارے میں غور کروں گا، میں نے کچھ دنوں تک انتظار کیا، پھر وہ مجھے ملے اور کہا: میں ان دنوں شادی کا ارادہ نہیں رکھتا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور میں نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو میں اپنی بیٹی حفصہ کا تم سے نکاح کر دیتا ہوں، انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، اس وجہ سے ان پر مجھے عثمان سے بھی زیادہ افسوس ہوا، بہرحال میں چند دن ٹھہرا رہا ، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے میری بیٹی کے نکاح کا پیغامآگیا اور میں نے اس کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کر دیا، بعد میں جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھے ملے تو انہوں نے کہا: جب تم نے مجھ پر حفصہ کو پیش کیا تھا اور میں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا تو تم مجھ سے ناراض ہوئے ہو گے؟ میں نے کہا: جی بالکل، انھوں نے کہا: مجھے آپ کی پیشکش کا جواب دینے میں صرف ایک چیز رکاوٹ تھی کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے ہوئے سنا تھا، یہ ایک راز تھا اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راز افشا نہیں کرنا چاہتا تھا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ رشتہ نہ کرتے تو میں حفصہ سے نکاح کر لیتا۔
وضاحت:
فوائد: … کتنی بڑی بات ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اورسیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو عظیم سمجھ کر ان پر اپنی بیٹی پیش کی، لیکن ان کو کیا پتہ ہے کہ ان کی بیٹی ام المومنین بننے والی ہے، یہ سب شریعت کا پاس و لحاظ کرنے کی برکتیں ہیں۔ غور کریں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کس انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز کی حفاظت کی، وہ کس قدر گہرائی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان و عظمت کو سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 11448
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ وَكَانَتْ تَحْتَ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ لَقِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عُثْمَانَ فَعَرَضَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا لِي فِي النِّسَاءِ حَاجَةٌ وَسَأَنْظُرُ فَلَقِيَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَرَضَهَا عَلَيْهِ فَسَكَتَ فَوَجَدَ عُمَرُ فِي نَفْسِهِ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَطَبَهَا فَلَقِيَ عُمَرُ أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ عَرَضْتُهَا عَلَى عُثْمَانَ فَرَدَّنِي وَإِنِّي عَرَضْتُهَا عَلَيْكَ فَسَكَتَّ عَنِّي فَلَأَنَا عَلَيْكَ كُنْتُ أَشَدَّ غَضَبًا مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ وَقَدْ رَدَّنِي فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّهُ قَدْ كَانَ ذَكَرَ مِنْ أَمْرِهَا وَكَانَ سِرًّا فَكَرِهْتُ أَنْ أُفْشِيَ السِّرَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ، سیدنا خنیس رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں، جب وہ بیوہ ہوگئیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو حفصہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کی پیش کش کی۔ لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے بیویوں کی حاجت نہیں ہے، تاہم میں اس بارے میں سوچوں گا۔ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ملے اور انہیں بھی حفصہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کی پیش کش کی۔ لیکن وہ خاموش رہے (اور کوئی جواب ہی نہیں دیا)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے متعلق ناراضگی آگئی، اس کے بعد جلد ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حفصہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کا پیغام بھیج دیا، اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے جا کر ملے اور کہا: میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو حفصہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کی پیش کش کی تھی تو انہوں نے انکار کر دیا تھا، اس کے بعد میں نے آپ کو حفصہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کی پیش کش کی تو آپ خاموش رہے اور مجھے واپسی جواب تک نہ دیا۔ تو مجھے عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ آپ پر غصہ آیا، کیونکہ انہوں نے واضح طور پر انکار تو کر دیا تھا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا:دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنے کا تذکرہ کیا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ بات ابھی تک راز تھی، اس لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز کو افشاء کرنا جائز نہ سمجھا۔ (اور خاموش رہا)۔
حدیث نمبر: 11449
عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ثُمَّ ارْتَجَعَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عاصم بن عمرسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام المؤمنین سیدہ حفصہ بنت عمر کو طلاق دی تھی اور پھر رجوع کر لیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کا ایک درج ذیل شاہد بھی بیان کیا: قیس بن زید کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی، ان کے دو ماموں قدامہ اور عثمان، جو مظعون کے بیٹے تھے، ان کے پاس گئے، وہ رونے لگ گئیں اور انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیر ہو جانے کی وجہ سے مجھے طلاق نہیں دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آئے اور کہا: ((قَالَ لِیْ جِبْرِیْلُ علیہ السلام: رَاجِعْ حَفْصَۃَ، فَاِنَّھَا صَوَّامَۃٌ قَوَّامَۃُ، وَاِنَّھَا زُوْجَتُکَ فِی الْجَنَّۃِ۔)) … جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: حفصہ سے رجوع کر لو، وہ تو بہت روزے رکھنے والی اور بہت قیام کرنے والی ہے اور جنت میں آپ کی بیوی ہے۔ (ابو نعیم نے اس کوالحلیۃ: ۲/ ۵۰ میں اور امام حاکم نے روایت کیا ہے اور یہ مرسل ہے۔)
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آدمی کا اپنی بیوی کو طلاق دینا جائز ہے، اگرچہ وہ روزے رکھنے والی اور قیام کرنے والی ہو۔ کبھی کبھار تو ایسے ہوتا ہے کہ میاں بیوی آپس میں شیر و شکر نہیں ہو پاتے اور بیوی اپنے خاوند کی اطاعت کے سارے تقاضے پورے نہیں کر پاتی، نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتا ہے اور بسا اوقات بعض ایسے داخلی امور طلاق کا سبب بن جاتے ہیں کہ دوسرے لوگ جن پر مطلع نہیں ہو سکتے۔ ان وجوہات کی بنا پر طلاق کو قاضی کی موافقت یا مخالفت پر موقوف کر دینااس وقت کی سب سے بڑی کم عقلی اور بری بات ہے۔ اکثر حاکموں، قاضیوں اور خطیبوں کی زبانوں پر یہ حدیث رواں ہے: ((اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَی اللّٰہِ الطَّلَاقُ۔)) … اللہ تعالیٰ کو حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسند طلاق ہے۔ جبکہ یہ ضعیف ہے، میں نے (ارواء الغلیل: ۲۰۴۰) وغیرہ میں اس کی وضاحت کی ہے۔
(صحیحہ: ۲۰۰۷)
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آدمی کا اپنی بیوی کو طلاق دینا جائز ہے، اگرچہ وہ روزے رکھنے والی اور قیام کرنے والی ہو۔ کبھی کبھار تو ایسے ہوتا ہے کہ میاں بیوی آپس میں شیر و شکر نہیں ہو پاتے اور بیوی اپنے خاوند کی اطاعت کے سارے تقاضے پورے نہیں کر پاتی، نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتا ہے اور بسا اوقات بعض ایسے داخلی امور طلاق کا سبب بن جاتے ہیں کہ دوسرے لوگ جن پر مطلع نہیں ہو سکتے۔ ان وجوہات کی بنا پر طلاق کو قاضی کی موافقت یا مخالفت پر موقوف کر دینااس وقت کی سب سے بڑی کم عقلی اور بری بات ہے۔ اکثر حاکموں، قاضیوں اور خطیبوں کی زبانوں پر یہ حدیث رواں ہے: ((اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَی اللّٰہِ الطَّلَاقُ۔)) … اللہ تعالیٰ کو حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسند طلاق ہے۔ جبکہ یہ ضعیف ہے، میں نے (ارواء الغلیل: ۲۰۴۰) وغیرہ میں اس کی وضاحت کی ہے۔
(صحیحہ: ۲۰۰۷)