کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے جبریل علیہ السلام کو دیکھنے، اُن کا اِن کوسلام کہنے اور ان کے دیگر فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 11439
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَعْرَفَةِ فَرَسٍ وَهُوَ يُكَلِّمُ رَجُلًا قُلْتُ رَأَيْتُكَ وَاضِعًا يَدَيْكَ عَلَى مَعْرَفَةِ فَرَسِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ وَأَنْتَ تُكَلِّمُهُ قَالَ ”وَرَأَيْتِ“ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ ”ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ“ قَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ جَزَاهُ اللَّهُ خَيْرًا مِنْ صَاحِبٍ وَدَخِيلٍ فَنِعْمَ الصَّاحِبُ وَنِعْمَ الدَّخِيلُ قَالَ سُفْيَانُ الدَّخِيلُ الضَّيْفُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک گھوڑے کی گردن پر ہاتھ رکھے ہوئے ایک آدمی سے باتیں کرتے دیکھا،میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو دحیہ کلبی کے گھوڑے کی گردن پر ہاتھ رکھے ہوئے ان سے باتیں کرتے دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو وہ جبریل علیہ السلام تھے اور وہ تمہیں سلام کہہ رہے تھے۔ میں نے جواباً کہا:وَعَلَیْہِ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ،اللہ تعالیٰ اس ساتھی اور مہمان کو جزائے خیر دے، وہ بہترین ساتھی او ربہترین مہمان ہے۔ امام احمد کے شیخ امام سفیان بن عینیہ نے الدخیل کا معنی مہمان بیان کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11439
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف مجالد الھمداني، أخرجه الطبراني في الكبير : 23/ 95 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24462 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24966»
حدیث نمبر: 11440
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ“ فَقُلْتُ عَلَيْكَ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ تَرَى مَا لَا نَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) ام المؤمنین سیدۂ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! یہ جبریل علیہ السلام ہیں اور وہ تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔ میں نے کہا:عَلَیْکَ وَعَلَیْہِ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ،اے اللہ کے رسول! آپ وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11440
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 3768 ، ومسلم: 2447 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24857 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25369»
حدیث نمبر: 11441
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ کی باقی تمام عورتوں پر فضیلت ایسے ہے، جیسے سارے کھانوں پر ثریدکی فضیلت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11441
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2446، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13821»
حدیث نمبر: 11442
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ کو باقی تمام عورتوں پر اسی طرح فضیلت حاصل ہے، جیسے ثرید کو باقی سارے کھانوں پر۔
وضاحت:
فوائد: … ثرید ایک قسم کا زود ہضم اور بابرکت کھانا ہوتا ہے جسے دوسرے کھانوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔ یہی معاملہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہے کہ وہ مسلم خواتین میں اعلی مقام رکھتی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11442
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه النسائي: 7/ 68 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25774»
حدیث نمبر: 11443
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ غَيْرُ مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ وَآسِيَةَ امْرَأَةِ فِرْعَوْنَ وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مردوں میں سے بہت سے لوگوں کو درجۂ کمال حاصل ہوا ہے، البتہ عورتوں میں سے صرف مریم بنت عمران اور آسیہ زوجۂ فرعون ہی درجۂ کمال تک پہنچی ہیں اور عائشہ رضی اللہ عنہا کو باقی تمام عورتوںپر اسی طرح فضیلت ہے جیسے ثریدکو باقی سارے کھانوں پر۔
وضاحت:
فوائد: … مردوں میں بڑے بڑے باکمال اور کثیر تعداد میں افراد گزرے ہیں، جیسے انبیاء و رسل، صالحین، شہید، پرہیزگار، مجاہدین اور ذاکرین وغیرہ، لیکن خواتین میںایسا کمال کم عورتوںکے نصیبے میں آیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11443
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5418، ومسلم: 2431 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19668 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19904»