کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ذہانت و فہم کی شدت و کثرت اور اشعار، تاریخ، طب اور شہرۂ آفاق فقہ سے واقفیت کا بیان
حدیث نمبر: 11437
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ كَانَ عُرْوَةُ يَقُولُ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّتَاهُ لَا أَعْجَبُ مِنْ فَهْمِكِ أَقُولُ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتُ أَبِي بَكْرٍ وَلَا أَعْجَبُ مِنْ عِلْمِكِ بِالشِّعْرِ وَأَيَّامِ النَّاسِ أَقُولُ ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ وَكَانَ أَعْلَمَ النَّاسِ أَوْ مِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ وَلَكِنْ أَعْجَبُ مِنْ عِلْمِكِ بِالطِّبِّ كَيْفَ هُوَ وَمِنْ أَيْنَ هُوَ قَالَ فَضَرَبَتْ عَلَى مَنْكِبِهِ وَقَالَتْ أَيْ عُرَيَّةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْقَمُ عِنْدَ آخِرِ عُمْرِهِ أَوْ فِي آخِرِ عُمْرِهِ فَكَانَتْ تَقْدَمُ عَلَيْهِ وُفُودُ الْعَرَبِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ فَتَنْعَتُ لَهُ الْأَنْعَاتَ وَكُنْتُ أُعَالِجُهَا لَهُ فَمِنْ ثَمَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عروہ سے مروی ہے کہ وہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہا کرتے تھے: اماں جان! میں آپ کی ذہانت اور سمجھ داری پر تعجب نہیں کرتا، کیونکہ میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کی دختر ہیں۔ (اس لیے سمجھ دار ہونا تعجب انگیز نہیں)، مجھے آپ کے علم اشعار اور تاریخی معلومات پر بھی تعجب نہیں، میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی دختر ہیں، جو کہ اشعار اور تاریخ کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھتے تھے۔ مجھے تو آپ کی طبی معلومات پر تعجب ہے کہ یہ آپ کو کیسے حاصل ہوئیں؟ تو انہوں نے میری بات سن کر میرے کاندھے پر اپنا ہاتھ مار کر کہا: اے عُرَیَّۃُ! آخری عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار رہتے تھے تو آپ کی خدمت میں اطراف و اکناف سے عرب و فود آیا کرتے تھے اوروہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے مختلف دوائیں اور نسخے بیان کرتے اور میں آپ کا علاج معالجہ کیا کرتی تھی۔ مجھے یہ معلومات اس طرح حاصل ہوئیں۔
وضاحت:
فوائد: … عروہ کی تصغیر عُرَیَّۃُ، پیار کی وجہ سے ایسے کہا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11437
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «خبر صحيح، اخرجه الطبراني في الكبير : 3/ 295،والبزار: 2662 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24380 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24884»
حدیث نمبر: 11438
عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ عَنْ لَمِيسَ أَنَّهَا قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ لَهَا الْمَرْأَةُ تَصْنَعُ الدُّهْنَ تَتَحَبَّبُ إِلَى زَوْجِهَا فَقَالَتْ أَمِيطِي عَنْكِ تِلْكَ الَّتِي لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهَا قَالَتْ وَقَالَتْ امْرَأَةٌ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّهْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنِّي لَسْتُ بِأُمِّكُنَّ وَلَكِنِّي أُخْتُكُنَّ قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْلِطُ الْعِشْرِينَ بِصَلَاةٍ وَنَوْمٍ فَإِذَا كَانَ الْعَشْرُ شَمَّرَ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ وَشَمَّرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
لمیس سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ایک عورت خاوند کے ہاں محبت حاصل کرنے کے لئے تیل لگاتی ہے کہ چہرہ زیادہ صاف ہوجائے تو کیایہ لگا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا: اسے خود سے دور رکھو، اللہ تعالیٰ اس خاتون کی طرف نہیں دیکھتے، جو یہ لگاتی ہے۔ ایک اور عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے اماں! سیدہ نے کہا: میں تمہاری ماں نہیں ہوں، تمہاری بہن ہوں، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رمضان کے پہلے) بیس دنوں میں نماز بھی ادا کرتے اور سوتے بھی تھے، لیکن جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو تہبند مضبوط کرلیتے اور عبادت کے لیے کمر بستہ ہوجاتے۔
وضاحت:
فوائد: … وقار، احترام، اکرام اور نکاح کے حرام ہونے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں ماؤں کی طرح ہیں، چونکہ نکاح کا حکم تو مردوں کے لیے ہے، اس لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے آپ کو خواتین کی بہن ظاہر کر رہی ہیں،یہ روایت ضعیف ہے، بہرحال امہات المؤمنین کا یہ حکم نسب کی وجہ سے نہیں ہے۔
عورت کا چہرے پر تیل، کریم اور پاؤڈر وغیرہ لگانا درست ہے، جس سے زینت میں اضافہ ہو، ہاں اگر ان میں کوئی ایسے کیمیکل ہوں، جن سے چہرے کے بال بھی صاف ہو جائیں تو وہ ناجائز ہو گا، باقی اس قسم کے مسائل پہلے گزر چکے ہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا انتہائی ذہین، سمجھ دار، اشعار اور علم تاریخ کی عالمہ ہونے کے ساتھ ساتھ علم طب کی معلومات سے بھی بہر ہ ور تھیں، جب مختلف وفود آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے مختلف دوائوں اور نسخوں کا ذکر کرتے، تو آپ کے علاج معالجہ کی خدمات سیدہ رضی اللہ عنہا ادا کیا کرتی تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11438
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي ويزيدَ بنِ مرة، ولجھالة لميس ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25649»