کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: امت کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برکتوںمیں سے ایک برکت یہ بھی ہے کہ ان کی وجہ سے تیمم کی رخصت کا حکم نازل ہوا
حدیث نمبر: 11435
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً فَهَلَكَتْ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رِجَالًا فِي طَلَبِهَا فَوَجَدُوهَا فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّيَمُّمَ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ لِعَائِشَةَ جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہا سے ایک ہار بطورِ استعارہ لیا تھا، لیکن وہ گم ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ افراد کو اس کو تلاش کرنے کے لیے بھیجا، ان کو وہ مل گیا، لیکن نماز نے ان کو اس حال میں پا لیا کہ ان کے پاس پانی نہیں تھا، پس انھوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف یہ شکایت کی، پس اللہ تعالیٰ نے تیمم کی رخصت نازل کر دی، سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ تعالیٰ تم کو جزائے خیر دے، جب بھی تمہارا کوئی ایسا معاملہ بنتا ہے، جس کو تم ناپسند کرتی ہو، اللہ تعالیٰ اس میں تمہارے لیے اور مسلمانوں کے لیے خیر و بھلائی بنا دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 11436
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِتُرْبَانَ بَلَدٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ بَرِيدٌ وَأَمْيَالٌ وَهُوَ بَلَدٌ لَا مَاءَ بِهِ وَذَلِكَ مِنَ السَّحَرِ انْسَلَّتْ قِلَادَةٌ لِي مِنْ عُنُقِي فَوَقَعَتْ فَحُبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِالْتِمَاسِهَا حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ وَلَيْسَ مَعَ الْقَوْمِ مَاءٌ قَالَتْ فَلَقِيتُ مِنْ أَبِي مَا اللَّهُ بِهِ عَلِيمٌ مِنَ التَّعْنِيفِ وَالتَّأْفِيفِ وَقَالَ فِي كُلِّ سَفَرٍ لِلْمُسْلِمِينَ مِنْكِ عَنَاءٌ وَبَلَاءٌ قَالَتْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ الرُّخْصَةَ بِالتَّيَمُّمِ قَالَتْ فَتَيَمَّمَ الْقَوْمُ وَصَلَّوْا قَالَتْ يَقُولُ أَبِي حِينَ جَاءَ مِنَ اللَّهِ مَا جَاءَ مِنَ الرُّخْصَةِ لِلْمُسْلِمِينَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ يَا بُنَيَّةُ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ مَاذَا جَعَلَ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ فِي حَبْسِكِ إِيَّاهُمْ مِنَ الْبَرَكَةِ وَالْيُسْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زوجۂ نبی ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ واپس آرہے تھے۔ جب ہم مدینہ منورہ سے چند میل کے فاصلے پر سحری کے وقت ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں پانی کا نام و نشان تک نہ تھا، میری گردن سے ہار اتر کر گر گیا۔ اس کی تلاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رکنا پڑا یہاں تک کہ فجر طلوع ہوگئی، کسی کے پاس پانی نہ تھا، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس موقعہ پر مجھے اپنے والد کی طرف سے کس قدر ڈانٹ پڑی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہر سفر میں تمہاری وجہ سے مسلمانوں کو مشکل اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ اس موقع پر اللہ نے تیمم کی رخصت کا حکم نازل فرما دیا۔ اور لوگوں نے تیمم کرکے نماز ادا کی، جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے رخصت کا یہ حکم آیا تو میرے ابا جان نے کہا: بیٹی! اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا تھا کہ تم اس قدر با برکت ہو۔ تمہارے ہار کی تلاش میں مسلمانوں کو یہاں روکے جانے کے نتیجہ میں ان کے لیے اللہ نے کیا برکت اور آسانی رکھ دی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ تیمم کی رخصت محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، لیکن جو آدمی اس رخصت کے نزول کا سبب بنا، اس کو مبارکباد دی جا رہی ہے۔