کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت پر دیگر ازواج کی غیرت نیز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دیگر ازواج پر غلبہ کا بیان
حدیث نمبر: 11425
سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ امْرَأَةِ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَتْ عِنْدَنَا أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ جُنْحِ اللَّيْلِ قَالَتْ فَذَكَرْتُ شَيْئًا صَنَعَهُ بِيَدِهِ قَالَتْ وَجَعَلَ لَا يَفْطَنُ لِأُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ وَجَعَلْتُ أُومِئُ إِلَيْهِ حَتَّى فَطِنَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةُ أَهَكَذَا الْآنَ أَمَا كَانَتْ وَاحِدَةٌ مِنَّا عِنْدَكَ إِلَّا فِي خِلَابَةٍ كَمَا أَرَى وَسَبَّتْ عَائِشَةَ وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاهَا فَتَأْبَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”سُبِّيهَا“ فَسَبَّتْهَا حَتَّى غَلَبَتْهَا فَانْطَلَقَتْ أُمُّ سَلَمَةَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ إِنَّ عَائِشَةَ سَبَّتْهَا وَقَالَتْ لَكُمْ وَقَالَتْ لَكُمْ فَقَالَ عَلِيٌّ لِفَاطِمَةَ اذْهَبِي إِلَيْهِ فَقُولِي إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَنَا وَقَالَتْ لَنَا فَأَتَتْهُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ“ فَرَجَعَتْ إِلَى عَلِيٍّ فَذَكَرَتْ لَهُ الَّذِي قَالَ لَهَا فَقَالَ أَمَا كَفَاكِ إِلَّا أَنْ قَالَتْ لَنَا عَائِشَةُ وَقَالَتْ لَنَا حَتَّى أَتَتْكَ فَاطِمَةُ فَقُلْتَ لَهَا ”إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہمارے ہاں تشریف فرما تھیں، رات کے کسی حصے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک کام کا ذکر کیا، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے کیا (جیسے میاں بیوی آپس میں کرتے ہیں) ۔آپ کو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی موجود گی کا علم نہ تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اشارے سے سمجھانے لگی یہاں تک کہ آپ کو بات سمجھ آگئی۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا اب یہ کچھ ہونے لگا ہے؟ کیا ہم میں سے کوئی زوجہ آپ کی نظروں میں دھوکے میں ہے، جیسا کہ میں دیکھ رہی ہوں اور انہوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بھی برا بھلا کہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو روکتے رہے، مگر وہ نہ رکیں۔ بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اب تم بولو۔ جب وہ بولیں تو ان پر غالب آگئیں، پھر ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئیں اور ان سے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے برا بھلا کہا ہے اور انہوں نے آپ لوگوں کے متعلق بھی اس قسم کی باتیں کی ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سید فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا کر کہو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمارے متعلق اس قسم کی باتیں کی ہیں۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر سای بات بتلائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: رب کعبہ کی قسم! وہ تمہارے باپ کی محبوبہ ہے۔ یہ سن کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کا ان سے ذکر کیا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکوہ کے طور پر کہا کیا آپ کی طرف سے اتنا ہی کافی نہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمارے متعلق اس قسم کی باتیں کیں اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے ان کا ذکر بھی کیا (اور آپ نے پھر ان باتوں کا کوئی نوٹس نہیں لیا)، صرف اتنا کہا کہ رب کعبہ کی قسم! وہ تو تمہارے باپ کی محبوبہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11425
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف علي نكارة في متنه، علي بن زيد بن جدعان ضعيف، وام محمد امرأة والد علي بن زيد مجھولة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24986 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25500»
حدیث نمبر: 11426
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَزْهَرُ قَالَ أَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ امْرَأَةِ أَبِيهِ قَالَتْ وَكَانَتْ تَغْشَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَتْ عِنْدَنَا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَذَكَرَتْ نَحْوَ حَدِيثِ سُلَيْمِ بْنِ أَخْضَرِ إِلَّا أَنَّ سُلَيْمًا قَالَ أُمُّ سَلَمَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند)ام محمد سے مروی ہے، جبکہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا جایا کرتی تھیں، انھوں نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ہمارے ہاں تشریف فرما تھیں۔ اس سے آگے انہوں نے اسی طرح حدیث بیان کی جیسے سلیم بن اخضر نے بیان کی ہے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ سلیم کی روایت میں سیدہ زینب بنت جحش کی بجائے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11426
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25501»
حدیث نمبر: 11427
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اجْتَمَعْنَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلْنَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ لَهَا قُولِي لَهُ إِنَّ نِسَاءَكَ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ قَالَتْ فَدَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ لَهُ إِنَّ نِسَاءَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَتُحِبِّينِي“ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ ”فَأَحِبِّيهَا“ فَرَجَعَتْ إِلَيْهِنَّ فَأَخْبَرَتْهُنَّ مَا قَالَ لَهَا فَقُلْنَ إِنَّكِ لَمْ تَصْنَعِي شَيْئًا فَارْجِعِي إِلَيْهِ فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبَدًا قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَتْ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَقًّا فَأَرْسَلْنَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ عَائِشَةُ هِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ قَالَتْ ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيَّ تَشْتُمُنِي فَجَعَلْتُ أُرَاقِبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنْظُرُ إِلَى طَرْفِهِ هَلْ يَأْذَنُ لِي فِي أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا فَلَمْ يَتَكَلَّمْ قَالَتْ فَشَتَمَتْنِي حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَا يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا فَاسْتَقْبَلْتُهَا فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ أَفْحَمْتُهَا قَالَتْ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ“ قَالَتْ عَائِشَةُ وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً خَيْرًا مِنْهَا وَأَكْثَرَ صَدَقَةً وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ وَأَبْذَلَ لِنَفْسِهَا فِي كُلِّ شَيْءٍ يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ زَيْنَبَ مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ غَرَبٍ حَدٍّ كَانَ فِيهَا تُوشِكُ مِنْهَا الْفَيْئَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج نے اکٹھے ہو کر مشورہ کیا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا اور ان سے کہا کہ آپ جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہیں کہ آپ کی ازواج ابو قحافہ کی بیٹی کے بارے میں آپ سے عدل کا مطالبہ کرتی ہیں۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں گئی تو آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی چادر میں ان کے ساتھ تھے۔ انہوں نے جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ آپ کی ازواج نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے، وہ ابو قحافہ کی بیٹی کے بارے میں آپ سے عدل کا مطالبہ کرتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیاتمہیں مجھ سے محبت ہے؟ زہری نے کہا: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تم بھی اس عائشہ سے محبت رکھو۔ دوسری روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹی! جو کچھ مجھے پسند ہے کیا تمہیں پسند نہیں ہے؟ سیدہفاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: کیوں نہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم بھی ان سے یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت رکھو۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کی بات سن کر واپس آگئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جواب سے انہیں مطلع کیا، ان سب نے کہا: تم نے تو کچھ بھی نہیں کیا؟ تم دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جاؤ، لیکن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! اس بارے میں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بالکل نہیں جاؤں گی۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی تھیں۔ اس کے بعد ازواج نے ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو (تیار کرکے) بھیجا۔ ازواج مطہرات میں صرف وہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مد مقابل تھیں۔ انہوں نے جا کر کہا: آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے، وہ آپ سے ابو قحافہ کی دختر کے بارے میں عدل و مساوات کا مطالبہ کرتی ہیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: وہ یہ کہتے ہی میری طرف متوجہ ہوئیں اور مجھے براہ راست برا بھلا کہنے لگیں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کرنے اور ان کی آنکھ کی طرف دیکھنے لگی کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ان سے بدلہ لینے کی اجازت دیتے ہیں؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ بھی نہ فرمایا، انہوں نے مجھے اس قدر کوسا کہ مجھے یقین ہو گیا کہ اب اگر میں ان سے بدلہ لوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گراں نہ گزرے گا۔ چنانچہ میں نے ان کا رخ کیا اور جلد ہی ان پر غالب آگئی،یہ صورت حال دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: آخر یہ ابو بکر کی بیٹی ہے۔ دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں: میری باتیں سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبسم کیا اور فرمایا: یہ تو ابو بکر کی بیٹی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ازواج مطہرات میں سے میں نے کسی کو ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر بہتر زیادہ صدقہ کرنے والی، زیادہ صلہ رحمی کرنے والی اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے سعی کرنے والی ان سے بڑھ کر کسی کو نہیں پایا، ان میں صرف ایک خامی تھی کہ انہیں جوش اور غصہ بہت جلد آجاتا تھا، لیکن پھر جلد ہی اس کو ختم کر دیتی تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11427
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه النسائي: 7/ 67 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25174 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25689»
حدیث نمبر: 11428
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا عَلِمْتُ حَتَّى دَخَلَتْ عَلَيَّ زَيْنَبُ بِغَيْرِ إِذْنٍ وَهِيَ غَضْبَى ثُمَّ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْسِبُكَ إِذَا قَلَبَتْ لَكَ بُنَيَّةُ أَبِي بَكْرٍ ذُرَيِّعَيْهَا ثُمَّ أَقْبَلَتْ إِلَيَّ فَأَعْرَضْتُ عَنْهَا حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”دُونَكِ فَانْتَصِرِي“ فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا حَتَّى رَأَيْتُهَا قَدْ يَبِسَ رِيقُهَا فِي فَمِهَا مَا تَرُدُّ عَلَيَّ شَيْئًا فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے پتہ ہی نہ چل سکا حتیٰ کہ ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا غصے میں بھری ہوئی بلا اجازت آدھمکیں اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میں سمجھتی ہوں کہ جب ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی آپ کے سامنے اپنے ہاتھوں اور کلائیوں کے اشارے کرتی ہے تو آپ اسی کی بات مانتے ہیں۔ اس کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہوئیں اور میں ان کی باتیں خاموشی سے سنتی رہی، میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ یہاں تک کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم بھی کچھ کہو اور بدلہ لو۔ چنانچہ میں نے ان کی طرف رخ کیا۔ (یعنی ایسی جوابی کاروائی کی) میں نے دیکھا کہ ان کا منہ خشک ہو گیا اور وہ مجھے کچھ نہ کہہ سکیں۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11428
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 1981، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24620 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25127»
حدیث نمبر: 11429
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَلَّمَنِي صَوَاحِبِي أَنْ أُكَلِّمَ رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَأْمُرَ النَّاسَ فَيُهْدُوا لَهُ حَيْثُ كَانَ فَإِنَّهُمْ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدِيَّتِهِ يَوْمَ عَائِشَةَ وَإِنَّا نُحِبُّ الْخَيْرَ كَمَا تُحِبُّهُ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ صَوَاحِبِي كَلَّمْنَنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ لِتَأْمُرَ النَّاسَ أَنْ يُهْدُوا لَكَ حَيْثُ كُنْتَ فَإِنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ وَإِنَّمَا نُحِبُّ الْخَيْرَ كَمَا تُحِبُّ عَائِشَةُ قَالَتْ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُرَاجِعْنِي فَجَاءَنِي صَوَاحِبِي فَأَخْبَرْتُهُنَّ أَنَّهُ لَمْ يُكَلِّمْنِي فَقُلْنَ لَا تَدَعِيهِ وَمَا هَذَا حِينَ تَدَعِينَهُ قَالَتْ ثُمَّ دَارَ فَكَلَّمْتُهُ فَقُلْتُ إِنَّ صَوَاحِبِي قَدْ أَمَرْنَنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ تَأْمُرُ النَّاسَ فَلْيُهْدُوا لَكَ حَيْثُ كُنْتَ فَقَالَتْ لَهُ مِثْلَ تِلْكَ الْمَقَالَةِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَسْكُتُ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ”يَا أُمَّ سَلَمَةَ لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا نَزَلَ عَلَيَّ الْوَحْيُ وَأَنَا فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِي غَيْرَ عَائِشَةَ“ فَقَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَسُوءَكَ فِي عَائِشَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج نے مجھ سے کہا کہ میں ان کی نمائندگی کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہوں کہ آپ لوگوں کو حکم دیں کہ آپ جہاں کہیں بھی ہوں یعنی جس بیوی کے ہاں ہوں، لوگ اپنے تحائف اُدھر ہی بھیج دیا کریں۔ لوگ اپنے ہدایا اور تحائف بھیجنے کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کی انتظار کیا کرتے تھے۔ ،جس طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس قسم کی چیزوں کو کو پسند کرتی ہیں، ہم بھی پسند کرتی ہیں۔ سو میں نے جا کر کہا: اللہ کے رسول! میری صاحبات یعنی آپ کی ازواج نے مجھ سے کہا ہے کہ میں آپ سے اس بارے میں بات کروں کہ آپ لوگوں کو یہ حکم دیں کہ آپ جہاں کہیں بھی ہوا کریں، وہ اپنے تحائف آپ کی خدمت میں بھیج دیا کریں۔ لوگ اپنے تحائف بھیجنے کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کی انتظار کرتے رہتے ہیں۔ ہم بھی بھلائی کو اسی طرح پسند کرتی ہیں، جیسے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پسند کرتی ہیں۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:میری بات سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے اور مجھے کچھ جواب نہ دیا، جب میری صاحبات میر ے پاس آئیں تو میں نے انہیں بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو مجھے جواب میں کچھ نہیں فرمایا۔ انھوں نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح نہ چھوڑو اور آپ سے اس بارے میں دوبارہ بات کرو۔ تمہارے خاموش رہنے کا کیا فائدہ ؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس کے بعد میں دو بارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کے لیے گئی اور میں نے پھر یہی بات کی اور عرض کیا کہ میری سوکنوں نے مجھ سے کہا ہے کہ میں آپ سے یہ بات کروں کہ آپ لوگوں کو حکم فرمائیں کہ آپ جہاں کہیں بھی یعنی کسی زوجہ کے ہاں ہوں، لوگ اپنے تحائف ادھر ہی بھیج دیا کریں۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات دو یا تین بار کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر بار خاموش رہتے۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلمہ! تم عائشہ کے بارے میں ایسی باتیں کرکے مجھے ایذا مت پہنچاؤ۔ اللہ کی قسم! عائشہ کا تویہ مقام اور مرتبہ ہے کہ اس کے بستر کے سوا میری کسی بھی دوسری زوجہ کے بستر میں مجھ پر کبھی وحی نازل نہیں ہوئی۔ یہ سن کر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ تعالیٰ سے اس بات سے پناہ چاہتی ہوں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کوئی بات کرکے آپ کا دل دکھاؤں۔
وضاحت:
فوائد: … امہات المؤمنین اگرچہ اس امت کی نہایت ہی افضل خواتین تھیں، تاہم بسا اوقات بشری تقاضوں کے پیش نظر ان کے درمیان بھی سوتنوں والی کیفیت پیدا ہو جاتی اور وہ ایک دوسری کو کوسنے لگتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی تمام ازواج میں سے سب سے زیادہ قلبی لگائو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11429
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2580 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26512 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27047»