کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دل لگی اور ان کو خوش کرنے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11410
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ وَيَجِيءُ صَوَاحِبِي فَيَلْعَبْنَ مَعِي فَإِذَا رَأَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْقَمَعْنَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُدْخِلُهُنَّ عَلَيَّ فَيَلْعَبْنَ مَعِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں اپنی گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی اور میری سہیلیاں بھی آکر میرے ساتھ مل کر کھیلتی تھیں، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتیں تو چلی جاتیں، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ان کو میرے پاس بھیجتے، پس وہ میرے پاس آ کر کھیلتی تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نو برس میں شادی ہوئی تھی، انھوں نے کل دس سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں گزارے، چونکہ وہ نوعمر تھیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو عمر کے تقاضے پورے کرنے کا موقع دیتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11410
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6130، ومسلم: 2440 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24802»
حدیث نمبر: 11411
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَهَا ”إِنِّي أَعْرِفُ غَضَبَكِ إِذَا غَضِبْتِ وَرِضَاكِ إِذَا رَضِيتِ“ قَالَتْ وَكَيْفَ تَعْرِفُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”إِذَا غَضِبْتِ قُلْتِ يَا مُحَمَّدُ وَإِذَا رَضِيتِ قُلْتِ يَا رَسُولَ اللَّهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے فرمایا کرتے تھے: تم جب ناراض یا خوش ہوتی ہو تو میں تمہاری ناراضی یا خوشی کو جان جاتا ہوں۔ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کیسے جان جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم ناراض ہوتی ہو تو یوں کہتی ہو: اے محمد اور جب تم راضی ہوتی ہو تو کہتی ہو: اے اللہ کے رسول۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11411
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «حديث غير محفوظ بھذه السياقة، وانظر الحديث الآتي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24513»
حدیث نمبر: 11412
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى“ قَالَتْ فَقُلْتُ مِنْ أَيْنَ تَعْلَمُ ذَاكَ قَالَ ”إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَإِنَّكِ تَقُولِينَ لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى تَقُولِينَ لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام“ قُلْتُ أَجَلْ وَاللَّهِ مَا أَهْجُرُ إِلَّا اسْمَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا: تم جب مجھ سے خوش یا ناراض ہوتی ہو تو مجھے پتہ چل جاتا ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم راضی ہوتی ہو تویوں کہتی ہو: محمد کے رب کی قسم۔ اور جب تم ناراض ہو تی ہو تو یوں کہتی ہو: ابراہیم کے رب کی قسم۔ میں نے عرض کیا: بالکل ٹھیک ہے، لیکن اللہ کی قسم میں صرف آپ کا نام ترک کرتی ہوں (دل میں آپ کی محبت اور مقام وہی رہتا ہے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11412
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 5228، ومسلم: 2439 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24318 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24822»
حدیث نمبر: 11413
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ وَرَجُلٌ يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَيَقُولُ هَذِهِ امْرَأَتُكَ فَأَقُولُ إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُمْضِهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دو مرتبہ مجھے خواب میں دکھائی گئیں، کوئی آدمی تمہیں ایک سفید ریشمی ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے تھا، وہ کہتا تھا کہ یہ آپ کی بیوی ہے۔ میں کہتا تھا کہ اگر یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا کرے گا ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11413
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5125، 7012،ومسلم: 2438، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24142 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24643»
حدیث نمبر: 11414
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ لِكَيْ أَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ ثُمَّ يَقُومُ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا، جبکہ حبشی جنگی ہتھیاروں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لئے اپنی چادر سے پر دہ کر رہے تھے، تاکہ میں ان کے کھیل کو دیکھ سکوں، پھر آپ کھڑے رہتے تھے، یہاں تک کہ میں خود واپس پھرتی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح بھی اپنی بیویوں کا دل بہلانے کی کوشش کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11414
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري:5190، ومسلم: 892 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26630»
حدیث نمبر: 11415
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَقْنِي عَلَى مَنْكِبَيْهِ لِأَنْظُرَ إِلَى زَفْنِ الْحَبَشَةِ حَتَّى كُنْتُ الَّتِي مَلِلْتُ فَانْصَرَفْتُ عَنْهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری ٹھوڑی اپنے کندھوں پر رکھوائی تاکہ میں حبشیوں کے جنگی کرتب دیکھ لوں، یہاں تک کہ انہیں دیکھ دیکھ کر میں ہی تھک کر پیچھے ہٹ گئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11415
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25366»
حدیث نمبر: 11416
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ الْحَبَشَةَ لَعِبُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِي فَنَظَرْتُ مِنْ فَوْقِ مَنْكِبِهِ حَتَّى شَبِعْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حبشیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دکھانے کے لیے جنگی کھیلوں کا مظاہر پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلا لیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے کے اوپر سے دیکھتی رہی،یہاں تک کہ میں نے جی بھر کر یہ منظر دیکھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11416
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26487»
حدیث نمبر: 11417
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”دَعْهُمْ يَا عُمَرُ فَإِنَّهُمْ بَنُو أَرْفِدَةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیا ن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے، وہاں حبشی لوگ نیزوں سے کھیل رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹ دیا۔لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر! ان کو رہنے دو، یہ بنو ارفدہ ہیں، (یعنی ایسا کرنا ان کے معمولات میں سے ہے۔)
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی (صحیح بخاری: ۹۵۰)کی روایت کے مطابق یہ عید کا دن تھا اور عید کے دن کھیلنا ویسے بھی جائز ہے، جب تک کھیل کسی حرام کام پر مشتمل نہ ہو۔ رہا مسئلہ حبشی لوگوں کا تو ان کا کھیلنا محض کھیل نہیں تھا، بلکہ وہ جنگی آلات کے ذریعے جنگی مہارت کا اظہار کر رہے تھے، جو کہ مطلوب ِ شریعت ہے۔
بنوارفدہ، حبشی لوگوں کا لقب تھا، یہ لوگ عید کے روز دوسرے صحابہ کی بہ نسبت کھیل کود کا زیادہ شوق رکھتے تھے۔
مسجد کے تقدس کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں زجرو توبیخ کی، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت کر دی کہ مسجد میں اس قسم کے امور جائز ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: مہلب کہتے ہیں: مسلمانوں کی جماعت کے معاملات مسجد کے ساتھ معلق ہیں، اس لیے جن امور کا تعلق دین اور اہل دین کی منفعت سے ہو، نہ کہ فردِ واحد کی ذات سے، ان کا مسجد میں سرانجام دینا جائز ہے۔
(فتح الباری: ا/ ۷۲۱)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11417
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2901، ومسلم: 893 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10967 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10980»
حدیث نمبر: 11418
أَنَا ابْنُ أَبِي الزَّنَّادِ عَنْ أَبِي الزَّنَّادِ قَالَ قَالَ لِي عُرْوَةُ إِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ لِتَعْلَمَ يَهُودُ أَنَّ فِي دِينِنَا فُسْحَةً ”إِنِّي أُرْسِلْتُ بِحَنِيفِيَّةٍ سَمْحَةٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (عمر! ان کو کھیلنے دو) تاکہ یہودیوں کو پتہ چل جائے کہ ہمارے دین میں کافی وسعت ہے، بے شک مجھے آسان دین و شریعت دے کر مبعوث کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11418
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25962 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26489»