کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد،اہل بیت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج امہات المؤمنین کا تذکرہ سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11369
عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَمْشِي كَأَنَّ مَشْيَتَهَا مَشْيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”مَرْحَبًا بِابْنَتِي“ ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا فَبَكَتْ فَقُلْتُ لَهَا اسْتَخَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثِهِ ثُمَّ تَبْكِينَ ثُمَّ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا فَضَحِكَتْ فَقُلْتُ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حُزْنٍ فَسَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ فَقَالَتْ مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا فَقَالَتْ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيَّ فَقَالَ ”إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يُعَارِضُنِي بِالْقُرْآنِ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً وَإِنَّهُ عَارَضَنِي بِهِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ وَلَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ حَضَرَ أَجَلِي وَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِي لُحُوقًا بِي وَنِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ“ فَبَكَيْتُ لِذَلِكَ ثُمَّ قَالَ ”أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوْ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ؟“ قَالَتْ فَضَحِكْتُ لِذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس طرح چلتی ہوئی تشریف لائیں، گویا ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چال جیسی تھی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیاری بیٹی کو خوش آمدید۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنی داہنییا بائیں جانب بٹھا لیااور ان سے راز دار انہ طور پر کوئی بات کی تو وہ رونے لگیں۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ) میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو آپ کے ساتھ بطور خاص بات کی اور تم رونے لگ گئیں؟ اس کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے راز دارانہ طور پر کوئی بات کی تو وہ مسکرا دیں۔ میں نے کہا کہ میں نے آج تک غم اور خوشی کو اس قدر اکٹھا کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ سے کیا بات کہی ہے؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز کو فاش نہیں کروں گی،یہاں تک کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو گیا تو میں نے دوبارہ اس کی بابت ان سے دریافت کیا تو اب کی بار انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے چپکے سے کہا: جبریل علیہ السلام ہر سال میرے ساتھ قرآن مجید کا دور ایک بار کیا کرتے تھے، لیکن اس سال قرآن مجید کا دور دو بار کیا ہے، میرا خیال ہے کہ میری وفات کا وقت قریب آچکا ہے اور میرے اہل بیت میں سے تم ہی سب سے پہلے مجھ سے آملو گی، میں تمہارے لیے بہترین پیش رو ہوں۔ یہ سن کر میں رونے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تم (آخرت میں ) اس امت یا اہل ایمان کی خواتین کی سردار بنو؟ یہ بات سن کر میں مسکرادی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئی تھیں، صفر (۲) سن ہجری میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ان کی شادی ہوئی، ان کے بچوں کے نام سیدنا حسن، سیدنا حسین، سیدہ ام کلثوم، سیدہ زینب اور ایک قول کے مطابق سیدنا محسن ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آل رسول کا داماد بننے کا شرف حاصل کرنے کے لیے اپنے دورِ خلافت میں چالیس ہزار درہم کا حق مہر دے کر سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے شادی کی تھی۔
حدیث نمبر: 11370
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں میں سے سیدنا حسن بن علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 11371
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عَلِيًّا ذَكَرَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا وَيُنْصِبُنِي مَا أَنْصَبَهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کی باتیں کیں، جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جس بات سے اسے دکھ پہنچتا ہے، مجھے بھی اس سے دکھ پہنچتا ہے اور جو بات اسے غمگین کرتی ہے، مجھے بھی اس بات سے رنج ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ابو جہل کییہ بیٹی مسلمان تھی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ان سے نکاح کرنا جائز تھا، چونکہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تکلیف اور پریشانی ہو سکتی تھی، جیسا کہ سوکنوں کے مسائل ہوتے ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی کا دفاع کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی کے لیے اس نکاح کو حرام نہیں قرار دیا تھا۔
حدیث نمبر: 11372
عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُ إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحٌ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ قَالَ الْمِسْوَرُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ ”أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَحَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ بَضْعَةٌ مِنِّي وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ يَفْتِنُوهَا وَإِنَّهَا وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ وَابْنَةُ عَدُوِّ اللَّهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا“ قَالَ فَتَرَكَ عَلِيٌّ الْخِطْبَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
علی بن حسین بن علی بن ابی طالب سے مروی ہے کہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے ان کو بتلایا کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام بھجوایا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دختر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ان کی زوجیت میں تھیں، جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات سنی تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں آکر عرض کی کہ آپ کی قوم باتیں بنائے گی کہ آپ اپنی بیٹیوں کے حق میں کسی کے ساتھ غصہ نہیں کرتے ،اب دیکھیں ناں کہ یہ علی رضی اللہ عنہ ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کرنے کی تیاریوں میں ہیں۔یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبۂ شہادت پڑھا اور پھر فرمایا: میں نے اپنی ایک بیٹی کا نکاح ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ سے کیا، پس اس نے میرے ساتھ کی ہوئی بات پوری کی، بے شک فاطمہ بنت محمد میرے جگر کا گوشہ ہے، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ لوگ اسے رنجیدہ اورغمگین کریں، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دختر اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کبھی بھی ایک آدمی کی زوجیت میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنا پروگرام ختم کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بردبار تھے، ذاتی مسائل میں غصہ نہیں کرتے تھے، اس مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خاطر غصے کااظہار کیا، جبکہ یہ واقعہ بھی فتح مکہ کے بعد کا ہے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد میں سے صرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا باقی رہ گئی تھیں، اس سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنی ماں اور بہنوں کی فوتگیوں کا غم بھی لاحق ہو چکا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی خوشنودی کازیادہ لحاظ رکھا۔ سیدنا ابو العاص رضی اللہ عنہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے خاوند تھے، حافظ ابن حجر نے کہا: ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر یہ پابندی لگائی ہو کہ وہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں دوسری شادی نہ کریں۔
قریشیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد سیدنا ابو العاص رضی اللہ عنہ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دیں، لیکن انھوں نے انکار کر دیا اور اپنی بیوی سے حسن سلوک والا رویہ اپنائے رکھا۔
قریشیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد سیدنا ابو العاص رضی اللہ عنہ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دیں، لیکن انھوں نے انکار کر دیا اور اپنی بیوی سے حسن سلوک والا رویہ اپنائے رکھا۔
حدیث نمبر: 11373
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَقَالَ هَلْ لَكَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا قَالَ فَقُلْتُ لَهُ لَا قَالَ هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ وَأَيْمُ اللَّهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ لَا يُخْلَصُ إِلَيْهِ أَبَدًا حَتَّى تَبْلُغَ نَفْسِي إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ فَقَالَ ”إِنَّ فَاطِمَةَ بَضْعَةٌ مِنِّي وَأَنَا أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا“ قَالَ ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ فَأَحْسَنَ قَالَ ”حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَوَفَى لِي وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَابْنَةُ عَدُوِّ اللَّهِ مَكَانًا وَاحِدًا أَبَدًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
علی بن حسین نے بیان کیا کہ جب یہ لوگ شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے بعد یزید بن معاویہ کے ہاں سے مدینہ منورہ آئے تو سیدنا مسور بن مخرمہ نے آکر ان سے ملاقات کی اور کہا: میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیں۔ میں نے ان سے کہا:جی کوئی نہیں ہے۔ مسور نے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والی تلوار عنایت کر سکتے ہیں؟مجھے اندیشہ ہے کہ اس تلوار کے بارے میں لوگ آپ پر حاوی ہوجائیں گے۔ اللہ کی قسم! اگر آپ وہ تلوار مجھے عنایت فرمائیں گے تو جب تک میں زندہ رہوں گا، اس وقت تک کسی کو نہیں پہنچنے دوں گا، جبکہ تک وہ مجھے ختم نہیں کر دے گا، بے شک سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں ابو جہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام بھیجا تھا۔ اس موقع پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے سناجبکہ میں ان دنوں بالغ ہو چکا تھا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، مجھے اندیشہ ہے کہ اسے دین کے بارے میں مشکلات میں ڈال دیا جائے گا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عبد شمس سے تعلق رکھنے والے اپنے داماد (ابو العاص رضی اللہ عنہ )کا ذکر کیا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی خوب تعریف کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے میرے ساتھ جو عہد وپیماں کیا اسے پورا کیا، ہاں ہاں میں کسیحلال کو حرام یا حرام کو حلال نہیں کرتا، لیکن اللہ کی قسم! رسول اللہ کی دختر اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ (یعنی ایک آدمی کی زوجیت میں) کبھی اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے وضاحت ہو گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اس نکاح کو حرام نہیں قرار دے رہے تھے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پریشانی سے بچانا تھا۔
حدیث نمبر: 11374
عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ ”إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي فِي أَنْ يَنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَلَا آذَنُ لَهُمْ“ ثُمَّ قَالَ ”لَا آذَنُ فَإِنَّمَا ابْنَتِي بَضْعَةٌ مِنِّي يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے اجازت طلب کی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کر دیں، میں انہیں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: میں انہیں اس کی اجازت نہیں دیتا، میری بیٹی میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جو بات اسے رنجیدہ کرتی ہے، اس سے مجھے بھی رنج ہوتا ہے اور جس بات سے اسے دکھ ہوتا ہے، مجھے بھی اس سے دکھ پہنچتا ہے۔
حدیث نمبر: 11375
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَعَثَ إِلَيْهِ حَسَنُ بْنُ حَسَنٍ يَخْطُبُ ابْنَتَهُ فَقَالَ لَهُ قُلْ لَهُ فَلْيَأْتِنِي فِي الْعَتَمَةِ قَالَ فَلَقِيَهُ فَحَمِدَ الْمِسْوَرُ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ أَمَّا بَعْدُ وَاللَّهِ مَا مِنْ نَسَبٍ وَلَا سَبَبٍ وَلَا صِهْرٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ سَبَبِكُمْ وَصِهْرِكُمْ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”فَاطِمَةُ مُضْغَةٌ مِنِّي يَقْبِضُنِي مَا قَبَضَهَا وَيَبْسُطُنِي مَا بَسَطَهَا وَإِنَّ الْأَنْسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَنْقَطِعُ غَيْرَ نَسَبِي وَسَبَبِي وَصِهْرِي“ وَعِنْدَكَ ابْنَتُهَا وَلَوْ زَوَّجْتُكَ لَقَبَضَهَا ذَلِكَ قَالَ فَانْطَلَقَ عَاذِرًا لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنامسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حسن بن حسن نے ان سے ان کی دختر کا رشتہ طلب کیا، اس نے جواباً یہ پیغام بھیجا کہ حسن بن حسن آج رات خود مجھ سے ملو۔ جب ان کی ان سے ملاقات ہوئی تو سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے پہلے تو اللہ کی حمد و ثناء کی اورپھر کہا: اللہ کی قسم! مجھے تمہاری رشتہ داری اور دامادی سے بڑھ کر دوسری کوئی چیز محبوب نہیں ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جس بات سے وہ رنجیدہ ہو میں بھی اس سے رنجیدہ خاطر ہوتا ہوںاور جس بات سے وہ خوش ہو مجھے بھی اس سے خوشی ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے تعلق، رشتہ داری اور دامادی کے علاوہ باقی تمام رشتہ داریاں قیامت کے دن منقطع ہو جائیں گی۔ تمہارے نکاح میں ان (یعنی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ) کی ایک دختر موجود ہیں۔ اگر میں تمہارے ساتھ اپنی دختر کا نکاح کروں تو اس سے ان کا دل دکھے گا، چنانچہ وہ انہیں اس بارے میں معذور سمجھ کر چلے گئے۔
حدیث نمبر: 11376
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَفَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَائِهِمْ إِلَّا مَا كَانَ لِمَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حسن اور حسین رضی اللہ عنہما جنتی نوجوانوں کے سردار اور فاطمہ جنتی خواتین کی سردار ہوں گی، ما سوائے مریم بنت عمران کے۔