کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نفلی روزوں کا بیان
حدیث نمبر: 11364
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ الْأَيَّامَ يَسْرُدُ حَتَّى يُقَالَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ الْأَيَّامَ حَتَّى لَا يَكَادُ أَنْ يَصُومَ إِلَّا يَوْمَيْنِ مِنَ الْجُمُعَةِ إِنْ كَانَا فِي صِيَامِهِ وَإِلَّا صَامَهُمَا وَلَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ الشُّهُورِ مَا يَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَصُومُ لَا تَكَادُ أَنْ تُفْطِرَ وَتُفْطِرُ حَتَّى لَا تَكَادُ أَنْ تَصُومَ إِلَّا يَوْمَيْنِ إِنْ دَخَلَا فِي صِيَامِكَ وَإِلَّا صُمْتَهُمَا قَالَ ”أَيُّ يَوْمَيْنِ؟“ قَالَ قُلْتُ يَوْمُ الْإِثْنَيْنِ وَيَوْمُ الْخَمِيسِ قَالَ ”ذَانِكَ يَوْمَانِ تُعْرَضُ فِيهِمَا الْأَعْمَالُ عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ وَأَحَبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ“ قَالَ قُلْتُ وَلَمْ أَرَكَ تَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ قَالَ ”ذَاكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ وَهُوَ شَهْرٌ يُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کئی کئی دن تک مسلسل روزے رکھتے یہاں تک کہ کہاجاتا کہ لگتا ہے کہ اب آپ ناغہ نہیں کریں گے، لیکن کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طویل عرصہ تک ہفتہ کے دو دنوں کے سوا کوئی روزہ نہ رکھتے اور آپ جس قدر نفلی روزے ماہ شعبان میں رکھتے اتنے روزے دوسرے کسی مہینہ میں نہیں رکھتے تھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ روزے رکھنے لگتے ہیں تو چھوڑتے ہی نہیں اور اگر ترک کرنے لگتے ہیں تو ہفتہ میں دو دنوں کے سوا روزے رکھتے ہی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کون سے دو دن ؟ میں نے عرض کیا: سوموار اور جمعرات کا دن۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دو دنوں میںانسانوں کے اعمال اللہ رب العالمین کے حضور پیش کیے جاتے ہیں اور مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرے اعمال اللہ کے سامنے جب پیش کیے جائیں تو میں روزے کی حالت میں ہوں۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ جتنے نفلی روزے ماہ شعبان میں رکھتے ہیںاتنے روزے دوسرے کسی اور مہینے میں نہیں رکھتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رجب اور رمضان کے درمیان والا یعنی شعبان ایسا مہینہ ہے کہ لوگ اس سے غفلت برتتے ہیں، جبکہ اس مہینے میں اعمال اللہ رب العالمین کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال اللہ کے حضور اس حال میں پیش کیے جائیں تو میں روزے سے ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11364
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه النسائي: 4/ 201 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21753 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22096»
حدیث نمبر: 11365
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا حَتَّى يُفْطِرَ مِنْهُ وَلَا أَفْطَرَهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن شقیق سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزوں کی بابت دریافت کیا،انہوں نے کہا: میرے علم کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس مہینے بھی (نفلی) روزے رکھے اس میں سے کچھ دن ناغہ بھی کیا اور جس مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزوں کا ناغہ کیا، اس میں کچھ نہ کچھ روزے بھی ضرور رکھے ہیں، وفات تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہی معمول رہا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11365
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 738 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24334 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24838»
حدیث نمبر: 11366
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ وَكَانَ يَقْرَأُ كُلَّ لَيْلَةٍ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعض اوقات تو اس قدرکثرت سے روزے رکھتے کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنے لمبے عرصے کے لیے روزے چھوڑ دیتے کہ ہمیں یہ خیال آنے لگتا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر رات کو سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ زمر کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … تمام مسائل کی وضاحت ان سے متعلقہ ابواب میں ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11366
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه الترمذي: 2920، 3405، والنسائي: 4/ 199، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24908 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25420»