کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام اللیل اور وتر وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 11359
عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَسَأَلَهُ عَنِ الْوِتْرِ فَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُكَ بِأَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ ائْتِ عَائِشَةَ فَسَلْهَا ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ فَأَخْبِرْنِي بِرَدِّهَا عَلَيْكَ قَالَ فَأَتَيْتُ عَلَى حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ فَاسْتَلْحَقْتُهُ إِلَيْهَا فَقَالَ مَا أَنَا بِقَارِبِهَا إِنِّي نَهَيْتُهَا أَنْ تَقُولَ فِي هَاتَيْنِ الشِّيعَتَيْنِ شَيْئًا فَأَبَتْ فِيهِمَا إِلَّا مُضِيًّا فَأَقْسَمْتُ عَلَيْهِ فَجَاءَ مَعِي فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَقَالَتْ حَكِيمٌ وَعَرَفَتْهُ قَالَ نَعَمْ أَوْ بَلَى قَالَتْ مَنْ هَذَا مَعَكَ قَالَ سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قَالَ ابْنُ عَامِرٍ قَالَ فَتَرَحَّمَتْ عَلَيْهِ وَقَالَتْ نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِي قِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ {يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ} قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ قِيَامَ اللَّيْلِ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ وَأَمْسَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَاتِمَتَهَا فِي السَّمَاءِ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ فَصَارَ قِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَطَوُّعًا مِنْ بَعْدِ فَرِيضَةٍ فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ ثُمَّ بَدَا لِي وِتْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكْعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ فَيَجْلِسُ وَيَذْكُرُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو وَيَسْتَغْفِرُ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَقْعُدُ فَيَحْمَدُ رَبَّهُ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا شَغَلَ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ بِنَوْمٍ أَوْ وَجْعٍ أَوْ مَرَضٍ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلَا قَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا فَقَالَ صَدَقَتْ أَمَا لَوْ كُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّى تُشَافِهَنِي مُشَافَهَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زرارہ بن اوفی سعد بن ہشام سے روایت کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے اور ان سے وتر کے متعلق سوالات کیے۔ انہوں نے جواب دیا:کیا میں تجھے یہ نہ بتلاؤں کہ روئے زمین پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وتروں کے متعلق سب سے زیادہ علم کسے ہے؟سعد نے کہا: جی بتایئے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ان سے دریافت کرو۔ پھر واپس آکر مجھے بھی ان کے جواب سے مطلع کرنا۔ ابن ہشام کہتے ہیں: ان کی بات سن کر میں حکیم بن افلح کے ہاں گیا اور ان کو بھی اپنے ساتھ ام المؤمنین کے ہاں لے جانا چاہا تو انہوں نے کہا کہ میں ان کے ہاں نہیں جاؤں گا۔ میں نے انہیں ان (سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین ہونے والی جنگ جمل کے) دوگروہوں کے متعلق کسی قسم کی بات کرنے سے منع کیا تھا لیکن انہوں نے میری بات نہیں مانی، بلکہ وہ خود سیاست میں نکل آئیں۔ ابن ہشام کہتے ہیں: لیکن جب میں نے ان کو قسم دی تو وہ میرے ساتھ چلے آئے، ہم ان کے ہاں گئے۔ انہوں نے حکیم کو پہچان کر پوچھا: حکیم ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے پوچھا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ حکیم نے جواب دیا: یہ سعد بن ہشام ہے۔ انہوں نے پوچھا: ہشام کون؟ حکیم نے بتایا کہ عامر کا بیٹاتو انہوں نے عامر کے حق میں رحمت کی دعا کی اور کہا: عامر بہت اچھا آدمی تھا۔ میں نے (حکیم نے) عرض کی:ام المؤمنین! آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق سے آگاہ فرمائیں۔ انہوں نے کہا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ کہنے لگیں: قرآن ہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق ہے۔ یہ سن کر میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام اللیل کی بات یاد آگئی۔ میں نے عرض کی: اے ام المؤمنین! آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام اللیل کے متعلق آگاہ فرمائیں۔ انہوں نے کہا: کیا تم سورۂ مزمل نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں پڑھتا ہوں۔ کہنے لگیں:اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے شروع والے حصے میں قیام اللیل فرض کیا تھا،۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب ایک سال تک اس قدر طویل قیام کرتے رہے کہ ان کے پاؤں سوج جاتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخری حصہ کو بارہ ماہ تک آسمانوں پر رو کے رکھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخر میں اس حکم کی تخفیف نازل فرمائی۔ قیام اللیل جو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فرض تھا، اس کے بعد وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے نفل قرار پایا۔ اس کے بعد میں نے پھر اٹھنے کا ارادہ کیا تو مجھے یاد آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وتر کے بارے میں تو پوچھ لوں۔ میں نے عرض کی: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کینماز وتر کے متعلق بھی آگاہ فرما دیں۔ انہوں نے کہا: ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیتے، اللہ تعالیٰ کو جب منظور ہوتا وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رات کے کسی حصہ میں بیدار کر دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسواک کرتے، پھر وضو کرتے، پھر مسلسل آٹھ رکعات یوں پڑھتے کہ آٹھویں میں (تشہد کے لیے) بیٹھ جاتے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے دعائیں اور استغفار کرتے،پھر سلام نہ پھیرتے اور کھڑے ہو کر نویں رکعت ادا کرتے۔ پھر بیٹھ کر (آخری تشہد میں) اللہ کی حمد اور اس کا ذکر کرتے اور دعائیں کرتے۔ پھر اس قدر مناسب آواز سے سلام پھیرتے کہ ہمیں سلام کی آواز سنائی دے جاتی۔ پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں ادا کرتے۔ بیٹے! اس طرح کل گیارہ رکعات ہوتیں۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وزن بڑھ گیا (اور عمر زیادہ ہونے لگی) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سات وتر ادا کرتے اور سلام کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعات ادا فرماتے۔ بیٹے! یہ اس طرح نو رکعات ہو گئیں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کبھی کسی وقت میں نماز ادا فرماتے تو اس وقت میں نماز ادا کرنے پر دوام فرماتے۔ اور کبھی نیندیا خرابی طبع یا بیماری کی وجہ سے قیام اللیل نہ کر سکتے تو دن کے وقت بارہ رکعات ادا فرماتے۔ میرے علم میں ایسا کوئی واقعہ نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات میں سارا قرآن پڑھا ہو یا صبح تک قیام کیا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کبھی بھی پورا مہینہ مسلسل روزے نہیں رکھے۔ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جا کر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کی حدیث ان کو سنائی توکہنے لگے: انہوں نے بالکل درست بیان کیاہے۔ اگر میں ان کے ہاں جاتا ہوتا تو میں خودان کی خدمت میں حاضر ہوتا تاکہ وہ براہ راست مجھے بیان فرمائیں۔
وضاحت:
فوائد: … نماز وتر اور قیام اللیل کی تمام کیفیات ان سے متعلقہ ابواب میں گزر چکی ہیں۔
حدیث نمبر: 11360
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ دَخَلَ الْمَنْزِلَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهُمَا رَكْعَتَيْنِ أَطْوَلَ مِنْهُمَا ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ لَا يَفْصِلُ فِيهِنَّ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ يَرْكَعُ وَهُوَ جَالِسٌ وَيَسْجُدُ وَهُوَ قَاعِدٌ جَالِسٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عشاء ادا کرنے کے بعد گھر تشریف لاتے تو دو رکعتیں ادا فرماتے، پھر ان سے زیادہ طویل دو رکعتیں ادا فرماتے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین وتر ادا کرتے اور ان میں کوئی فاصلہ نہیں کرتے تھے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر دو رکعتیں ادا فرماتے اور ان کے رکوع و سجود بھی بیٹھ کر ہی ادا کر لیتے۔
حدیث نمبر: 11361
عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فَقَالَتْ يَنَامُ أَوَّلَهُ وَيَقُومُ آخِرَهُ وَفِي رِوَايَةٍ كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اسود کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کی بابت دریافت کیا، انہوں نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے ابتدائی حصہ میں سو جاتے اور آخری حصہ میں قیام فرمایا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رات کے ہر حصے میں قیام کرنا ثابت ہے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ترجیحیہی ہوتی تھی کہ رات کے آخری حصے میں قیام کیا جائے، کیونکہیہ وقت افضل ہوتا ہے۔تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 11362
عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ قَالَتْ كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ يُسَبِّحُ ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا مَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَرْقُدُ مِثْلَ مَا صَلَّى ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ مِنْ نَوْمَتِهِ تِلْكَ فَيُصَلِّي مِثْلَ مَا نَامَ وَصَلَاتُهُ الْآخِرَةُ تَكُونُ إِلَى الصُّبْحِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یعلی بن مملک سے مروی ہے کہ انہوں زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں دریافت کیا: انہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد نوافل ادا فرماتے، اس کے بعد رات کو جس قدر اللہ توفیق دیتا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ادا فرماتے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جائے نماز سے ہٹ کرتقریباً اتنی دیر سو جاتے جتنی دیر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیام کیا ہوتا۔ پھر نیند سے بیدار ہو کر اتنی ہی دیر پھر قیام کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کا یہ سلسلہ صبح تک جاری رہتا۔
حدیث نمبر: 11363
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى قَالَتْ لَا إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبَةٍ قَالَ قُلْتُ أَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا قَالَتْ بَعْدَ مَا حَطَمَهُ النَّاسُ قَالَ قُلْتُ أَكَانَ يَقْرَأُ السُّورَةَ فَقَالَتْ الْمُفَصَّلَ قَالَ قُلْتُ أَكَانَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ قَالَتْ مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ وَلَا أَعْلَمُهُ أَفْطَرَ شَهْرًا كُلَّهُ حَتَّى يُصِيبَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ قَالَ يَزِيدُ يَقْرِنُ وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز ادا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں،ہاں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپس تشریف لاتے تو پڑھ لیتے۔ میں نے پوچھا: کیانبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ عمر والے ہوگئے تو بیٹھ کر نماز ادا کیا کرتے تھے۔ میں نے پوچھا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورتوں کوملا کر پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مفصل سورتیں پڑھاکرتے تھے۔ میں نے سوال کیا: آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پورا مہینہ بھی روزے رکھاکرتے تھے؟ انہوں نے کہا: میرے علم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کبھی بھی پورا مہینہ روزے نہیں رکھے اور میرے علم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی پورا مہینہ روزوں کا ناغہ بھی نہیں کیا۔وفات تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ معمول رہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ماہ کچھ نہ کچھ روزے ضروررکھا کرتے تھے۔ یزید کی روایت میں یقرأ کی بجائے یقرن کا لفظ ہے۔ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مفصل سورتیں ملا کر پڑھا کرتے تھے)۔
وضاحت:
فوائد: … ان تمام مسائل کی وضاحت ان سے متعلقہ ابواب میں ہو چکی ہے۔
حَطَمَہُ النَّاسُ: لوگوں نے اسے بوڑھا کر دیا،یعنی وہ آدمی لوگوں کے مسائل و مشاکل حل کرنے کی وجہ سے وقت سے پہلے بوڑھا ہو گیا۔
حَطَمَہُ النَّاسُ: لوگوں نے اسے بوڑھا کر دیا،یعنی وہ آدمی لوگوں کے مسائل و مشاکل حل کرنے کی وجہ سے وقت سے پہلے بوڑھا ہو گیا۔