کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لباس اور زینت کا بیان
حدیث نمبر: 11334
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَعْجَبَ قَالَ عَفَّانُ أَوْ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحِبَرَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
قتادہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کون سا لباس سب سے زیادہ پسند تھا؟ انہوں نے جواب دیا: یمن کی سوتی اور دھاری دار چادر۔
وضاحت:
فوائد: … یہیمن کا سب سے پسندیدہ اور قیمتی کپڑا ہوتا تھا، یہ نرم ہوتا تھا اور خوبصورتی اور مضبوطی سے بنا جاتا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسد اطہر بھی نرم اور خوبصورت تھا، اس لیےیہ لباس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے زیادہ موافق تھا، ایسا لباس جلدی میلا بھی نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11334
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5812،ومسلم: 2079، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12404»
حدیث نمبر: 11335
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَمِيصٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لباس میں سب سے زیادہ پسندیدہ لباس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں قمیص کا پہننا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … قمیص بہت باپردہ اور خوبصورت لباس ہے، ایک دفعہ پہن کر آدمی بے فکر ہو جاتا ہے، یہ لباس نہ دوڑنے سے متاثر ہوتا ہے اور نہ اس سے کوئی کام کرنے میں حرج محسوس ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11335
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4026، والترمذي: 1763 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26695 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27230»
حدیث نمبر: 11336
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُضْطَبِعًا بِرِدَاءٍ حَضْرَمِيٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضر موت کی تیار شدہ چادر سے اضطباع کیا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11336
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، اخرجه ابوداود: 1883،والترمذي: 859، وابن ماجه: 2954، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17952 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18116»
حدیث نمبر: 11337
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُضْطَبِعًا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ بِبُرْدٍ لَهُ نَجْرَانِيٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند)سیدنایعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجران کی تیار شدہ چادر سے اضطباع کر رکھا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11337
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18119»
حدیث نمبر: 11338
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ مُضْطَبِعٌ بِبُرْدٍ لَهُ حَضْرَمِيٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(تیسری سند) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت حضر موت کی تیار شدہ چادر سے اضطباع کیا ہوا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اضطباع: دائیں بغل سے چادر وغیرہ نکال کر بائیں کندھے پر ڈالنا، جیسے احرام والا آدمی پہلے طواف میں کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11338
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18120»
حدیث نمبر: 11339
عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا جَعَلَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةً سَوْدَاءَ مِنْ صُوفٍ فَذَكَرَ سَوَادَهَا وَبَيَاضَهَا فَلَبِسَهَا فَلَمَّا عَرِقَ وَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ قَذَفَهَا وَكَانَ يُحِبُّ الرِّيحَ الطَّيِّبَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اون کی سیاہ رنگ کی چادر بنائی، پھر انھوں نے اس چادر کی سیاہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفیدی کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ چادر پہن لی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اون کی بو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اتار کر پھینک دیا، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاکیزہ اور اچھی خوشبو پسند کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11339
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4074، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25003 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25517»
حدیث نمبر: 11340
عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّمِيمِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْنَاهُ جَالِسًا فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناابو رمثہ تمیمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کعبہ کے سائے میں بیٹھے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سبز رنگ کی دو دھاری دار چادریں زیب ِ تن کر رکھی تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … بُرْد دھاری دار کپڑے کو کہتے ہیں،یعنی اس کپڑے پر سبز رنگ کی دھاریاں تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11340
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 721 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17633»
حدیث نمبر: 11341
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أَبِي لَوْ شَهِدْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ حَسِبْتَ أَنَّ رِيحَنَا رِيحُ الضَّأْنِ إِنَّمَا لِبَاسُنَا الصُّوفُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کاش کہ تم وہ منظر دیکھتے کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوتے اور بارش ہونے لگتی، تو تم گمان کرتے کہ ہماری بو بھیڑوں والی بو ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا لباس اون کاہوتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ مکروہ اور ناپسندیدہ بو ہوتی ہے، جو صحابۂ کرام کو بڑی ناپسند تھی لیکن لباس کے سلسلے میں کوئی اور چارۂ کار نہیں تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11341
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه ابوداود: 4033، الترمذي: 2479،وابن ماجه: 3758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19758 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19996»
حدیث نمبر: 11342
عَنْ أَبِي عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا أَسْمَاءُ جُبَّةً مَزْرُورَةً بِالدِّيبَاجِ فَقَالَتْ فِي هَذِهِ كَانَ يَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَدُوَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے اسماء ابو عمر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہا نے ہمارے سامنے ایک جبہ رکھا، جس میں ریشم کے بٹن تھے، انھوں نے کہا: یہ وہ جبہ ہے، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دشمن سے بھی ملاقات کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … زینتیا کسی عام ضرورت کے لیے چار انگلیوں کے بقدر ریشم استعمال کیا جا سکتا ہے
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11342
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة، أخرجه ابن ماجه: 2819، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27483»
حدیث نمبر: 11343
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرَى عَضَلَةُ سَاقِهِ مِنْ تَحْتِ إِزَارِهِ إِذَا اتَّزَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چادر باندھتے تو چادر کے نیچے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پنڈلی کا موٹا گوشت دکھائی دیا کرتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … ازار اور شلوار کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ وہ کم از کم ٹخنوں سے اوپر ہو اور افضل یہ ہے کہ تہبند وغیرہ نصف پنڈلی تک رکھا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11343
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، صالح مولي التوأمة قد اختلط، وزھير بن محمد روي عنه بعد الاختلاط ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8706 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8691»
حدیث نمبر: 11344
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا صُنِعَ بِالْيَمَنِ وَكِسَاءً مِنَ الَّتِي تُدْعَى الْمُلَبَّدَةَ قَالَ بَهْزٌ تَدْعُونَ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ فِي هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گیا، انہوں نے ہمیںیمن میں تیار ہونے والی ایک موٹی سی چادر اور ایک ایسی چادر نکال کر دکھائی جسے تم لوگ مُلَبَّدَۃ کہتے ہو اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دو چادریں زیب تن کئے ہوئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … مُلَبَّدَۃ سے مراد وہ کپڑا ہے، جس کو پیوند لگایا گیا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11344
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 5818، ومسلم: 2080 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24997 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25511»
حدیث نمبر: 11345
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِصَابَةٌ دَسِمَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیاہ رنگ کی پگڑی باندھی ہوئی تھی۔ ! رَسِمَۃٌ کا معروف معنی چکناہٹ والی ہے۔ ممکن ہے کہ تیل کے استعمال کی وجہ سے پگڑی کو تیل لگ گیا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11345
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 927، 3628، 3800، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2074»
حدیث نمبر: 11346
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا ، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کالے رنگ کی پگڑی باندھی ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11346
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1359(انظر)18734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18941»
حدیث نمبر: 11347
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناجابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر سیاہ پگڑی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11347
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1358، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14904 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14966»
حدیث نمبر: 11348
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ نِعَالُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهَا قِبَالَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوتوں کے سامنے کی جانب دو دھاگے تھے، جن کے ساتھ وہ تسمہ باندھتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11348
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3107، 5858، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13568 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13603»
حدیث نمبر: 11349
عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَعْرَابِيٌّ لَنَا قَالَ رَأَيْتُ نَعْلَ نَبِيِّكُمْ مَخْصُوفَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مطرف بن شخیرسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ایک بدّو نے ہمیں بتایا اور کہا: میں نے تمہارے نبی کا جوتا دیکھا ہے، جس کو مرمت کیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11349
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20058 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20317»
حدیث نمبر: 11350
عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا أَرْكَبُ الْأُرْجُوَانَ وَلَا أَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ وَلَا أَلْبَسُ الْقَمِيصَ الْمُكَفَّفَ بِالْحَرِيرِ“ قَالَ وَأَوْمَأَ الْحَسَنُ إِلَى جَيْبِ قَمِيصِهِ وَقَالَ أَلَا وَطِيبُ الرِّجَالِ رِيحٌ لَا لَوْنَ لَهُ أَلَا وَطِيبُ النِّسَاءِ لَوْنٌ لَا رِيحَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نہ سرخ رنگ کی ریشم کی چادر پر سوار ہوں گا، نہ عصفر بوٹی سے رنگا کپڑا پہنوں گا اور نہ ایسی قمیص پہنوں گا، جس کے گریبان اور آستینوں پر ریشم لگا ہوا ہو۔ ساتھ ہی حسن نے اپنی قمیص کے گریبان کیطرف اشارہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: خبردار!مردوں کی خوشبو وہ ہے، جس کی مہک ہو لیکن اس میں رنگ نہ ہو اورعورتوں کی خوشبو وہ ہے، جس میں رنگ ہو اور خوشبو کی مہک نہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۱۶۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11350
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره دون قوله: ’ولا البس القميص المكفف بالحرير فقد صح ما يخالفه، وھذا اسناد لم يمسع الحسن البصري من عمران، أخرجه ابوداود: 4048، وأخرجه مختصرا الترمذي: 2788 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19975 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20217»
حدیث نمبر: 11351
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ إِذَا فَرَقْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ صَدَعْتُ فَرْقَهُ عَنْ يَافُوخِهِ وَأَرْسَلْتُ نَاصِيَتَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالوں کی مانگ نکالا کرتی تھی تو آپ کے سر کی چوٹی سے بالوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی تھی اور پیشانی کے بال آپ کی آنکھوں کے درمیانیعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر چھوڑ دیتی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۲۲۰) والا باب
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11351
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، أخرجه ابوداود: 4189،و ابن ماجه: 3633 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26887»
حدیث نمبر: 11352
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذُكِرَ الْمِسْكُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”هُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کستوری کا ذکر کیا گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سب سے عمدہ خوشبو ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11352
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11289»
حدیث نمبر: 11353
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِأَيِّ شَيْءٍ طَيَّبْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بِأَطْيَبِ الطِّيبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عروہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کونسی خوشبو لگاتی تھیں؟ انھوں نے کہا: سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11353
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1189، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24105 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24606»
حدیث نمبر: 11354
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”حُبِّبَ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا النِّسَاءُ وَالطِّيبُ وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں سے میرے نزدیک پسندیدہ چیزیں بیویاں اور خوشبو ہے اور نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک رکھ دی گئی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۱۵۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11354
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه النسائي: 7/ 61، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:12283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12318»
حدیث نمبر: 11355
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْتَحِلُ بِالْإِثْمَدِ كُلَّ لَيْلَةٍ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ وَكَانَ يَكْتَحِلُ فِي كُلِّ عَيْنٍ ثَلَاثَةَ أَمْيَالٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر رات کو سونے سے پہلے اثمد سرمہ ڈالا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر آنکھ میں تین سرمچو ڈالتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11355
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن، أخرجه الترمذي في الشمائل : 49 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3320»
حدیث نمبر: 11356
عَنْ أَبِي رِمْثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَكَانَ شَعْرُهُ يَبْلُغُ كَتِفَيْهِ أَوْ مَنْكِبَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہندی اور کتم بوئی کے ساتھ بال رنگتے تھے، آپ کے بال کندھوں تک پہنچتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … کتم: یمن میں پائی جانے والی ایک بوٹی ہے، یہ سرخی مائل سیاہ رنگ نکالتی ہے، جبکہ مہندی کا رنگ سرخ ہوتا ہے، اگر کتم اور مہندی کو ملایا جائے تو سیاہی اور سرخی کا درمیانہ رنگ نکلتا ہے، جس کو ہم (رضی اللہ عنہما صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رضی اللہ عنہا رحمتہ اللہ علیہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہا own)کہتے ہیں۔
خلاصہیہ ہے کہ داڑھی اور سر کے بالوں کو وہ رنگ نہیں لگایا جا سکتا جو واضح طور پر کالا نظر آتا ہو، مزید دیکھیں حدیث نمبر (۸۲۰۱) والا باب اور اس سے اگلا باب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11356
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 726، والبيھقي في دلائل النبوة : 1/ 238 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17636»
حدیث نمبر: 11357
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْدُلَهَا ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب تک چاہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بالوں کو سیدھا چھوڑے رکھا، پھر مانگ نکالنا شروع کر دی۔
وضاحت:
فوائد: … عادات میں جب تک نہی نہ آئے، جواز قائم رہتا ہے، چونکہ مانگ نکالنے سے نہی وارد نہیں ہوئی، لہذا مانگ نکالنا جائز ہے اور نہ نکالنا بھی جائز ہے، کیونکہ نکالنے کا حکم بھی وارد نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مانگ نکالنا بھی ثابت ہے اور نہ نکالنا بھی، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس کی بابت شریعت نے کوئی مخصوص حکم نہیں دیا، حالات کے تحت دونوں میں سے کسی کو بھی اختیار کیا جا سکتا ہے، ایسے مسائل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اہل کتاب کی موافقت کرنا ان کی تالیف قلبی کے لیے تھا کہ شاید وہ اسلام کی طرف مائل ہو جائیں، مگر جب محسوس ہوا کہ ان کی موافقت مفید نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی موافقت چھوڑ دی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اہل کتاب کی موافقت اس لیے بھی پسند تھی کہ وہ کم از کم، دعوے کی حد تک ہی سہی، سماوی دین پر عمل پیرا ہونے کے دعویدار تھے، اس کے برعکس مشرکین تو پکے بت پرست تھے۔ مانگ درمیان میںنکالنی چاہیے کیونکہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارکہ درمیان سے مانگ نکالنا ہی تھی۔ واللہ اعلم۔
مزید دیکھیں حدیث نمبر (۸۲۲۵) والا باب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11357
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين غير حماد بن خالد فمن رجال مسلم، والصواب في ھذا الحديث الارسال، أخرجه الحاكم: 2/ 606 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13254 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13287»