کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند اور بستر کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11326
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَنَامُ عَيْنِي وَلَا يَنَامُ قَلْبِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری آنکھ سوجاتی ہے اور میرا دل نہیں سوتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11326
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، اخرجه ابن خزيمة: 48، وابن حبان: 6386، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7417 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7411»
حدیث نمبر: 11327
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَلَا سَمَرَ بَعْدَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عشاء سے قبل سوتے نہیں تھے اورعشاء کے بعد بات چیت نہیں کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … نمازِ عشاء کے بعد گپ شپ اور بات چیت کرنا مکروہ ہے، کسی شرعی عذر کے بغیر عشاء کے بعد وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے، الا یہ کہ خیر اور علم شرعی والی مجلس ہو یا دنیا کی کوئی اہم ضرورت ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11327
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه ابن ماجه: 702، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26810»
حدیث نمبر: 11328
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا كُنْتُ أَلْقَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ السَّحَرِ وَفِي رِوَايَةٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَّا وَهُوَ عِنْدِي نَائِمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سحری کے وقت یا رات کے آخری حصہ میں اپنے ہاں سویا ہوا پاتی۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے مختلف حصوں میں قیام کرتے تھے، رات کے بالکل آخری میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر آرام کر کے نمازِ فجر ادا کرتے تھے۔
جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کے بارے فرمایا: افضل قیام قیام داؤد ہے، وہ آدھی رات آرام کرتے پھر ایک تہائی رات قیام کرتے، پھر آخری چھٹا حصہ آرام کرتے۔ اسی طرح رات کا آخری حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی آرام فرماتے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11328
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 742، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25061 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25575»
حدیث نمبر: 11329
عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ وَكَانَتْ يَمِينُهُ لِطَعَامِهِ وَطُهُورِهِ وَصَلَاتِهِ وَثِيَابِهِ وَكَانَتْ شِمَالُهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ وَكَانَ يَصُومُ الْإِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زوجۂ رسول سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بستر پر دراز ہوتے تو اپنا دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھ لیتے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دایاں ہاتھ(اور دائیں جانب) کھانا کھانے، وضوء کرنے، نماز پڑھنے اور کپڑے پہننے کے لیے مخصوص تھا اور بایاں ہاتھ (اور بائیں جانب) باقی کاموں کے لیے مخصوص تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوموار اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11329
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، اخرجه ابوداود: 32، والنسائي: 4/ 203، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26461 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26993»
حدیث نمبر: 11330
عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا آوَى إِلَى فِرَاشِهِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ وَقَالَ ”رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ“ ثَلَاثًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بستر پر تشریف لاتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں رخسار کے نیچے رکھ لیتے اور تین بار یہ دعا پڑھتے: رَبِّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ (اے میرے رب! تو جس دن اپنے بندوں کو اٹھائے گا، اس دن مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11330
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، اخرجه ابويعلي: 7034، والنسائي في الكبري : 10599 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26462 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26994»
حدیث نمبر: 11331
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ ضِجَاعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَنَامُ عَلَيْهِ بِاللَّيْلِ مِنْ أَدَمٍ مَحْشُوًّا لِيفًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس پر رات کو سویا کرتے تھے، چمڑے کا تھا، اس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11331
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6456،ومسلم: 2082، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24209 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24713»
حدیث نمبر: 11332
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوِ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَرَ مِنْ هَذَا فَقَالَ ”مَا لِي وَلِلدُّنْيَا مَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم پر اثر کیا ہوا تھا، اسی حالت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، یہ منظر دیکھ کر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اگرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے ذرا نرم بستر بنوالیں تو بہتر ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے دنیا سے کیا تعلق؟ میری اور دنیا کی مثال اس سوار کی سی ہے، جو سخت گرمی میں سفر کرے اور دن کے کسی وقت کسی درخت کے سائے میں آرام کرے ۔پھر اسے وہیں چھوڑ کر آگے روانہ ہو جائے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سادگی اور دنیوی آسائشوں اور ساز و سامان سے دوری تھی، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخرت کا کوئی پہلو متأثرنہ ہو سکے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11332
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه ابن حبان: 6352، والطبراني: 11898، والحاكم: 4/ 309، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2744 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2744»
حدیث نمبر: 11333
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى سَرِيرٍ مُرْمَلٍ بِشَرِيطٍ وَتَحْتَ رَأْسِهِ وَسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَدَخَلَ عُمَرُ فَانْحَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْحِرَافَةً فَلَمْ يَرَ عُمَرُ بَيْنَ جَنْبِهِ وَبَيْنَ الشَّرِيطِ ثَوْبًا وَقَدْ أَثَّرَ الشَّرِيطُ بِجَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَكَى عُمَرُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا يُبْكِيكَ يَا عُمَرُ“ قَالَ وَاللَّهِ إِلَّا أَنْ أَكُونَ أَعْلَمَ أَنَّكَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَهُمَا يَعْبَثَانِ فِي الدُّنْيَا فِيمَا يَعْبَثَانِ فِيهِ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْمَكَانِ الَّذِي أَرَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ“ قَالَ بَلَى قَالَ ”فَإِنَّهُ كَذَلِكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجور کے تنوں سے بنی ہوئی چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے۔ چند صحابہ اسی عالم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں آئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تشریفلائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلو بدلا تو عمر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو اور چار پائی کے بان کے درمیان کوئی کپڑا نظر نہ آیا۔ اور بان کے نشانات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو پر ثبت تھے۔ یہ منظر دیکھ کر عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: عمر! تجھے کس چیز نے رلایا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس لیے رو رہا ہوں کہ میں جانتا ہوں کہ آپ اللہ کے ہاں کسریٰ اور قیصر کے مقابلے میں بہت زیادہ معزز ہیں۔ وہ دنیا میں خوب عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں اور اللہ کے رسول! آپ کی وہ حالت ہے جو میں دیکھ رہا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ نے فرمایا: تو پھر بات ایسے ہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11333
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 2782، وابن حبان: 6362 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12417 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12444»