کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: کھانے سے متعلقہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ وَلَا يَطَأُ عَقِبَيْهِ رَجُلَانِ قَالَ عَفَّانُ عَقِبَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی ٹیک لگا کر کھانا کھایا ہو اور دو افراد نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایڑھیوں کا نہیں روندا۔
وضاحت:
فوائد: … ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((لَاتَأْکُلْ مُتَّکِئاً۔)) تو ٹیک لگا کر نہ کھا۔
(ملاحظہ ہو: سلسلہ صحیحہ: ۳۱۲۲)
دوسرے جملے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے سامنے اور آگے نہیں چلتے تھے۔
صحابۂ کرام کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے چلنے کہ وجہ اس حدیث میں مذکور ہے: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کَانَ أَصْحَابُہٗیَمْشُوْنَ أَمَامَہٗإِذَاخَرَجَوَیَدَعُوْنَ ظَھْرَہٗلِلْمَلَائِکَۃِ۔ (ابن ماجہ،صحیحہ: ۴۳۶) … صحابۂ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے چلتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے تھے۔
جبکہ سیدنا جابر کی دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: ((اِمْشُوْا اَمَامِیْ وَخَلُّوْا ظَھْرِیْ لِلْمَلَائِکَۃِ۔)) (صحیحہ: ۱۵۵۷، الحلیۃ لابی نعیم: ۷/۱۱۷) … میرے آگے چلا کرو اور میری پشت کو فرشتوں کے لیے خالی چھوڑ دیا کرو۔
(ملاحظہ ہو: سلسلہ صحیحہ: ۳۱۲۲)
دوسرے جملے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے سامنے اور آگے نہیں چلتے تھے۔
صحابۂ کرام کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے چلنے کہ وجہ اس حدیث میں مذکور ہے: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کَانَ أَصْحَابُہٗیَمْشُوْنَ أَمَامَہٗإِذَاخَرَجَوَیَدَعُوْنَ ظَھْرَہٗلِلْمَلَائِکَۃِ۔ (ابن ماجہ،صحیحہ: ۴۳۶) … صحابۂ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے چلتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے تھے۔
جبکہ سیدنا جابر کی دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: ((اِمْشُوْا اَمَامِیْ وَخَلُّوْا ظَھْرِیْ لِلْمَلَائِکَۃِ۔)) (صحیحہ: ۱۵۵۷، الحلیۃ لابی نعیم: ۷/۱۱۷) … میرے آگے چلا کرو اور میری پشت کو فرشتوں کے لیے خالی چھوڑ دیا کرو۔
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِذَا لَمْ يَشْتَهِهِ تَرَكَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی کھانے کا عیب نہیں نکالا، اگر چاہا تو کھا لیااور اگر نہ چاہا تو نہیں کھایا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن اخلاق کی اعلی مثال تھی، کھانے کا عیب نکالنے سے تیار کرنے والے کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور اس کا دل ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ نبی ٔ مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو کسی کا دل توڑنے والے نہیں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے خون کے پیاسوں کا دل مول لے لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا أَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ وَلَا فِي سُكُرُّجَةٍ وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ قَالَ قُلْتُ لِقَتَادَةَ فَعَلَامَ كَانُوا يَأْكُلُونَ قَالَ عَلَى السُّفَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دسترخوان پر کھاتے تھے، نہ چھوٹے چھوٹے برتنوں میں اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پتلی بڑی روٹی بنائی جاتی تھی۔ میں نے جناب قتادہ سے کہا: تو پھر وہ کس چیز پر کھانا کھایا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: بس عام سے دسترخوان پر (جو زیادہ تر چمڑے کا گولائی کی شکل میں ہوتا تھا)۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سادہ سا کھانا سادے سے انداز میں تناول فرما لیتے اور بس، اب دورِ حاضر میں جو اہتمام کھانے پینے کے لیے ہوتا ہے، عصرِ نبوی میں اس قسم کا اہتمام عبادت کے لیے ہوتا تھا، جو چیز اس وقت اصل تھی، وہ ہمارے دور میں فرع بن گئی اور اُس دور کی فرعی چیز ہمارے لیے اصل بن گئی۔
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامِهِ وَصَلَاتِهِ وَكَانَتْ شِمَالُهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دائیں ہاتھ کھانے اور نماز وغیرہ کے لیے ہوتا تھا اور بائیاں ہاتھ دوسرے (مکروہ) امور کے لیے۔
وضاحت:
فوائد: … مکروہ سے امور سے مراد استنجا کرنا، لیٹرین میں داخل ہونا، کپڑا اتارنا، ناک صاف کرنا وغیرہ ہے، بائیں ہاتھ اور بائیں طرف سے یہ کام کرنے چاہئیں۔
حدیث نمبر: 11323
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِذَا لَمْ يَشْتَهِهِ تَرَكَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا اگر تمنا ہوتی تو کھالیتے اور اگر تمنانہ ہوتی تو سکوت فرمالیتے۔
حدیث نمبر: 11324
عَنْ يُونُسَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا أَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ وَلَا فِي سُكُرُّجَةٍ وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ قَالَ قُلْتُ لِقَتَادَةَ فَعَلَامَ كَانُوا يَأْكُلُونَ قَالَ عَلَى السُّفَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی میز پر یا چھوٹی پیالیوں میں کھانا نہیں کھایا اور نہ ہی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے باریک روٹی پکائی گئی، راوی کہتے ہیں میں نے قتادہ سےپوچھا کہ پھر وہ کس چیز پر رکھ کر کھانا کھاتے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ دستر خوانوں پر۔
حدیث نمبر: 11325
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامِهِ وَصَلَاتِهِ وَكَانَتْ شِمَالُهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا داہنا ہاتھ کھانے اور ذکر اذکار کے لئے تھا اور بایاں ہاتھ دیگر کاموں کے لئے۔