کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کی معیشت کا بیان اس موضوع سے متعلقہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی احادیث
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا شَبِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ بُرٍّ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین دن لگاتار گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے، یہاں تک کہ وفات پا گئے۔
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ مَا يُوقِدُونَ فِيهِ نَارًا لَيْسَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْمَاءُ إِلَّا أَنْ نُؤْتَى بِاللَّحْمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ ایسے بھی ہوتا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کا ایک ایک مہینہ گزر جاتا، لیکن وہ آگ تک نہیں جلاتے تھے، بس کھجور اور پانی کے علاوہ کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا تھا، البتہ بعض اوقات گوشت آ جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَمُرُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هِلَالٌ وَهِلَالٌ وَهِلَالٌ مَا يُوقَدُ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِهِ نَارٌ قُلْتُ يَا خَالَةُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعِيشُونَ قَالَتْ عَلَى الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک چاند، دوسرا چاند اور تیسرا چاندگزر جاتا (یعنی دو تین تین ماہ گزر جاتے تھے) کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھروں میں سے کسی گھر میں آگ نہیں جلائی جاتی تھی۔ عروہ بن زبیر نے کہا: اے خالہ جان! تو پھر تم لوگ کس چیز پر گزارا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: دو سیاہ رنگ کی چیزیںیعنی کھجور اور پانی۔
وضاحت:
فوائد: … مدینہ منورہ کی زیادہ تر کھجوریں سیاہ رنگ کی ہوتی تھیں، البتہ پانی کا تو کوئی رنگ نہیں ہوتا، دراصل تغلیبی طور پر ان دو چیزوں کے لفظ اَسْوَدَان استعمال کیا گیا ہے، لیکن سورج اور چاند کو قَمَرَیْن اور دودھ اور پانی کو اَبْیَضَان کہہ دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ مَا رَأَى مُنْخُلًا وَلَا أَكَلَ خُبْزًا مَنْخُولًا مُنْذُ بَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى أَنْ قُبِضَ قُلْتُ كَيْفَ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ قَالَتْ كُنَّا نَقُولُ أُفٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ چھاننی دیکھی اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھانے ہوئے آٹے کی روٹی کھائی، بعثت سے لے کر وفات تک یہی کیفیت رہی۔ عروہ کہتے ہیں: میں نے کہا: تو پھر آپ لوگ جو کیسے کھاتے تھے (یعنی چھاننے کے بغیر جو کی روٹی کیسے کھاتے تھے)؟ انھوں نے کہا: بس آٹے پر پھونک مار کر چھلکا اڑا دیتی تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … سادگی اور دنیا کو غالب نہ آنے دینا اسی میں ہے کہ چھانی ہوئے آٹے کی روٹی نہ کھائی جائے۔ اُفّ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم پسے ہوئی جو کے آتے پر پھونک مارتی تھیں، جو چھلکا اڑ جاتا تھا، تو ٹھیک، وگرنہ ہم اس کو گوندھ لیتے تھے۔
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسرے صحابہ سے اس موضوع سے متعلقہ مروی احادیث والے باب میں یہ حدیث موجو دہے، چند احادیث کے بعد یہ باب آ رہا ہے۔
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسرے صحابہ سے اس موضوع سے متعلقہ مروی احادیث والے باب میں یہ حدیث موجو دہے، چند احادیث کے بعد یہ باب آ رہا ہے۔
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ أَرْسَلَ إِلَيْنَا آلُ أَبِي بَكْرٍ بِقَائِمَةِ شَاةٍ لَيْلًا فَأَمْسَكْتُ وَقَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَتْ أَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَطَعْتُ قَالَتْ تَقُولُ لِلَّذِي تُحَدِّثُهُ هَذَا عَلَى غَيْرِ مِصْبَاحٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّهُ لَيَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ الشَّهْرُ مَا يَخْتَبِزُونَ خُبْزًا وَلَا يَطْبُخُونَ قِدْرًا قَالَ حُمَيْدٌ فَذَكَرْتُ لِصَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ فَقَالَ لَا بَلْ كُلُّ شَهْرَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک رات کو آلِ ابو بکر نے بکری کی ٹانگ ہماری طرف بھیجی، میں نے اس کو پکڑا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کاٹا، یا معاملے ایسے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکڑا اور میں نے کاٹا، ہمارے پاس وہ تیل نہیں ہوتا تھا، جس سے چراغ جلایا جاتا تھا، (اگر وہ ہوتا تو ہم سالن تیار کرتے)، آل محمد پر ایسا مہینہ بھی گزرتا تھا کہ وہ نہ اس میں کوئی روٹی پکاتے تھے اور نہ ہنڈیا تیار کرتے تھے۔ حمید راوی کہتے ہیں: جب میں نے یہ حدیث صفوان بن محرز کو بیان کی تو انھوں نے کہا: نہیں، ایک ایک ماہ نہیں، بلکہ دو دو ماہ تک ایسا معاملہ ہو جاتاتھا۔
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ شَبِعَ النَّاسُ مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ الْمَاءِ وَالتَّمْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب لوگوں نے دو سیاہ چیزوں پانی اور کھجور سے سیر ہونا شروع کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتقال فرما گئے۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی فتوحات کی وجہ سے لوگوں کے رزق میں وسعت پیدا ہو گئی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات تک اپنی حالت میں تبدیلی پیدا نہیں کی۔
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوْقَ الْوَفْرَةِ وَدُونَ الْجُمَّةِ وَأَيْمُ اللَّهِ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنْ كَانَ لَيَمُرُّ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ مَا يُوقَدُ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَارٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ اللُّحَيْمُ وَمَا هُوَ إِلَّا الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ إِلَّا أَنَّ حَوْلَنَا أَهْلَ دُورٍ مِنَ الْأَنْصَارِ جَزَاهُمُ اللَّهُ خَيْرًا فِي الْحَدِيثِ وَالْقَدِيمِ فَكُلُّ يَوْمٍ يَبْعَثُونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِغَزِيرَةِ شَاتِهِمْ يَعْنِي فَيَنَالُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ اللَّبَنِ وَلَقَدْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَفِّي مِنْ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا قَرِيبٌ مِنْ شَطْرِ شَعِيرٍ فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَيَّ لَا يَفْنَى فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ فَلَيْتَنِي لَمْ أَكُنْ كِلْتُهُ وَأَيْمُ اللَّهِ لَا كَانَ ضِجَاعُهُ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهُ لِيفٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال وفرہ سے زیادہ اور جُمّہ سے کم تھے، اے میرے بھانجے! اللہ کی قسم ہے، آل محمد کا پورا مہینہ اس طرح گزر جاتا ہے کہ گھر میں آگ جلانے تک کی نوبت نہیں آتی تھا، بس کبھی کبھار تھوڑا بہت گوشت (بطورِ ہدیہ) آ جاتا تھا، نہیں تو پانی اور کھجور سے ہی گزارا کرنا پڑتا تھا، البتہ ہمارے ارد گرد انصاری لوگوں کے گھر تھے، اللہ تعالی ان کو دنیا و آخرت میں جزائے خیر دے، وہ روزانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف زیادہ دودھ والی بکری بھیج دیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا دودھ پی لیتے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے تو میری الماری میں نصف (وسق) جو کے تھے، میں ان سے کھاتی رہا، جب کافی عرصہ ہو گیا اور وہ ختم نہیں ہو رہے تھے تو میں نے ان کو ماپ لیا، پس وہ ختم ہو گئے، کاش میں ان کو نہ ماپتی، اللہ کی قسم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بچھونا چمڑے کا ہوتا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوتی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … عربی میں سر کے لمبے بالوں کے لیے تین لفظ استعمال کیے جاتے ہیں: جُمّہ: وہ بال جو کندھوں تک ہوں یا کندھوں کو چھو رہے ہوں۔
وَفْرَہ: وہ بال جو کانوں کے برابر تک ہوں۔
لِمَّہ: جو کانوں اور کندھوں کے درمیان ہوں۔
پیارے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک بالوں کے بارے میں مختلف احادیث میں تینوں الفاظ عام استعمال کیے گئے ہیں، ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کٹنگ کرواتے وقت کانوں کے نچلے حصے کے برابر بال کاٹ لیتے ہوں، جب وہ بڑھتے بڑھتے کندھوں کو لگنے لگتے تو پھر کاٹ دیتے ہوں۔
وَفْرَہ: وہ بال جو کانوں کے برابر تک ہوں۔
لِمَّہ: جو کانوں اور کندھوں کے درمیان ہوں۔
پیارے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک بالوں کے بارے میں مختلف احادیث میں تینوں الفاظ عام استعمال کیے گئے ہیں، ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کٹنگ کرواتے وقت کانوں کے نچلے حصے کے برابر بال کاٹ لیتے ہوں، جب وہ بڑھتے بڑھتے کندھوں کو لگنے لگتے تو پھر کاٹ دیتے ہوں۔
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ مِنَ الدُّنْيَا ثَلَاثَةٌ الطَّعَامُ وَالنِّسَاءُ وَالطِّيبُ فَأَصَابَ اثْنَتَيْنِ وَلَمْ يُصِبْ وَاحِدَةً أَصَابَ النِّسَاءَ وَالطِّيبَ وَلَمْ يُصِبِ الطَّعَامَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دنیا کی تین چیزیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند تھیں: کھانا، عورتیں اور خوشبو، دو چیزیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مل گئیں،یعنی عورتیں اور خوشبو، البتہ تیسری چیز کھانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ مل سکی۔
وضاحت:
فوائد: … کھانے سے مراد کھانے میں وسعت ہے۔
اس موضوع سے متعلقہ درج ذیل روایت صحیح ہے: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حُبِّبَ إِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا النِّسَائُ وَالطِّیْبُ وَجُعِلَ قُرَّۃُ عَیْنِی فِی الصَّلَاۃِ۔)) … دنیا میں سے عورتوں اور خوشبو کو میرے لیے محبوب بنا دیا گیا ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ (مسند احمد: ۱۲۲۹۳، اس حدیث کا معنی و مفہوم کے لیے حدیث نمبر ۶۸۳۳ کی شرح ملاحظہ فرمائیں)
اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیوی کی آسائشیں اللہ تعالی کی نعمت ہیں، لیکن اس نعمت سے بڑے لوگوں کو دھوکہ ہوا ہے، اس کا انداز آخرت کے نتائج سے پہلے نہیں ہو سکتا، نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں آسائشوں کو ترجیح نہیں دی تاکہ اخروی منازل و مراتب متاثر نہ ہوں۔
قارئین کرام! ہم یہاں بڑا اہم نکتہ بیان کرنا چاہتے ہیں، وہ یہ ہے کہ دین کا کام کرنے کے لیے خلوص اور محنت کی ضرورت ہے، دنیا کے اسباب و وسائل کی نہیں، نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے پاس دنیوی نعمتیں نہیں تھیں، لیکن دین کا کام سب سے زیادہ اُن ہستیوں نے ہیسرانجام دیا، تبلیغِ دین کی رغبت رکھنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی مسجد اور محلہ سے دین کی تبلیغ شروع کر دیں، لیکن حکمت اور دانائی کے ساتھ اور دنیوی وسائل کی کمی کا شکوہ نہ کریں، تنخواہ اور کفالت میں زیادتی کا مطالبہ اور بات ہے، لیکن کم تنخواہ کا یہ مطلب نہیں کہ دینی خدمت میں کمی آ جائے۔
فَمِنْ ذَالِکَ مَا رُوِیَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث
اس موضوع سے متعلقہ درج ذیل روایت صحیح ہے: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حُبِّبَ إِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا النِّسَائُ وَالطِّیْبُ وَجُعِلَ قُرَّۃُ عَیْنِی فِی الصَّلَاۃِ۔)) … دنیا میں سے عورتوں اور خوشبو کو میرے لیے محبوب بنا دیا گیا ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ (مسند احمد: ۱۲۲۹۳، اس حدیث کا معنی و مفہوم کے لیے حدیث نمبر ۶۸۳۳ کی شرح ملاحظہ فرمائیں)
اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیوی کی آسائشیں اللہ تعالی کی نعمت ہیں، لیکن اس نعمت سے بڑے لوگوں کو دھوکہ ہوا ہے، اس کا انداز آخرت کے نتائج سے پہلے نہیں ہو سکتا، نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں آسائشوں کو ترجیح نہیں دی تاکہ اخروی منازل و مراتب متاثر نہ ہوں۔
قارئین کرام! ہم یہاں بڑا اہم نکتہ بیان کرنا چاہتے ہیں، وہ یہ ہے کہ دین کا کام کرنے کے لیے خلوص اور محنت کی ضرورت ہے، دنیا کے اسباب و وسائل کی نہیں، نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے پاس دنیوی نعمتیں نہیں تھیں، لیکن دین کا کام سب سے زیادہ اُن ہستیوں نے ہیسرانجام دیا، تبلیغِ دین کی رغبت رکھنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی مسجد اور محلہ سے دین کی تبلیغ شروع کر دیں، لیکن حکمت اور دانائی کے ساتھ اور دنیوی وسائل کی کمی کا شکوہ نہ کریں، تنخواہ اور کفالت میں زیادتی کا مطالبہ اور بات ہے، لیکن کم تنخواہ کا یہ مطلب نہیں کہ دینی خدمت میں کمی آ جائے۔
فَمِنْ ذَالِکَ مَا رُوِیَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ نَاوَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كِسْرَةً مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ فَقَالَ ”هَذَا أَوَّلُ طَعَامٍ أَكَلَهُ أَبُوكِ مِنْ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا پکڑایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین دن ہو گئے ہیں، اب یہ پہلی چیز ہے، جو تیرے باپ کو کھانے کے ملی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سبحان اللہ! نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تین دن فاقہ میں گزر گئے، سچ ہے کہ اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دنیوی آسائشوں کو پسند نہیں کیا تھا۔
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللَّهِ وَمَا يَخَافُ أَحَدٌ وَلَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثُونَ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَمَا لِي وَلَا لِبِلَالٍ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا شَيْءٌ يُوَارِيهِ إِبْطُ بِلَالٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالی کی راہ میں بہت ڈرایا گیا، اتنا کسی کو نہیں ڈرایا گیا اور مجھے اللہ تعالی کے راستے میں اتنی تکلیف دی گئی کہ اتنی تکلیف کسی کو نہیں دی گئی، ایسے ایسے تیس تیس شب و روز بھی گزرے ہیں کہ میرے لیے اور بلال کے لیے کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی تھی، جس کو کوئی جاندار کھا سکے، ما سوائے اس چیز کے، جس کو بلال کی بغل چھپا لیتی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی بعض اوقات سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اپنی بغل میں کوئی چیز چھپا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے لے آتے تھے۔
نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ڈرتے اور گھبراتے نہیں تھے، البتہ دشمنوں نے ڈرانے دھمکانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رکھی تھی۔
جسمانی اذیتوں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف ہوتی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبر و شکر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔
نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ڈرتے اور گھبراتے نہیں تھے، البتہ دشمنوں نے ڈرانے دھمکانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رکھی تھی۔
جسمانی اذیتوں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف ہوتی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبر و شکر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ دُعِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ قَالَ وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ ذَاتَ يَوْمِ الْمِرَارِ وَهُوَ يَقُولُ ”وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَصْبَحَ عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ حَبٍّ وَلَا صَاعُ تَمْرٍ“ وَإِنَّ لَهُ يَوْمَئِذٍ لَتِسْعَ نِسْوَةٍ وَلَقَدْ رَهَنَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ أَخَذَ مِنْهُ طَعَامًا فَمَا وَجَدَ لَهَا مَا يَفْتَكُّهَا بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دن جو کی روٹی اور ایسے سالن کے لیے دعوت دی گئی، جس سے زیادہ دیر تک پڑا رہنے کی وجہ سے بد بو آ رہی تھی اور میں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دن میں کئی بار فرماتے ہوئے سنا کہ اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے، آل محمد کے پاس اناج اور کھجور کا ایک صاع بھی نہیں ہے۔ جبکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نو بیویاں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں ایکیہودی کے پاس اپنی زرہ گروی رکھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اناج ادھار لیا تھا، اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (قرض واپس کرنے کے لیے) اتنا مال نہیں تھا کہ وہ زرہ چھڑا سکیں۔
وضاحت:
فوائد: … بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پاکیزہ آل کو اس دور کا بہت اچھا کھانا بھی مل جاتا تھا، لیکن زندگی کی زیادہ حصہ فقر و فاقہ کی نظر ہی رہتا تھا۔
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ قَالَ فَقَالَ يَوْمًا كُلُوا فَمَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا وَلَا شَاةً سَمِيطًا قَطُّ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ حَتَّى لَحِقَ بِرَبِّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جناب ِ قتادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آتے، جبکہ ان کا روٹی بنانے والا باورچی ان کے پاس کھڑا ہوتا، ایک دن انھوں نے کہا: کھاؤ، میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پتلی بڑی چپاتی اور بال اتار کر بھونی ہوئی بکری دیکھی ہو، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے پروردگار سے جا ملے۔
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجْتَمِعْ لَهُ غَدَاءٌ وَلَا عَشَاءٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ إِلَّا عَلَى ضَفَفٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تنگی اور قلت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس روٹی اور گوشت والا دوپہر کا کھانا اور شام کا کھانا جمع نہیں ہوا۔
وضاحت:
فوائد: … ضَفَف کے مزید دو معانی بھی کیے گئے ہیں: ایک لوگوں کا اجتماع اور اکٹھ، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علیحدہ کھانا نہیں کھاتے تھے، بلکہ لوگوں کے ساتھ تناول فرماتے تھے اور دوسرا معنییہ ہے کہ کھانے والوں کے تعداد کھانے کی مقدار سے زیادہ ہوتی تھی۔