کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: انبیاء میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مثال اور اس امر کا بیان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں
حدیث نمبر: 11115
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَثَلِي فِي النَّبِيِّينَ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَحْسَنَهَا وَأَكْمَلَهَا وَتَرَكَ فِيهَا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ لَمْ يَضَعْهَا فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِالْبُنْيَانِ وَيَعْجَبُونَ مِنْهُ وَيَقُولُونَ لَوْ تَمَّ مَوْضِعُ هَذِهِ اللَّبِنَةِ فَأَنَا فِي النَّبِيِّينَ مَوْضِعُ تِلْكَ اللَّبِنَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انبیاء میں میری مثال اس آدمی کی مانند ہے، جو ایک انتہائی خوبصورت مکمل گھر بنائے اور اس میں صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑدے، لوگ اس گھر کے چکر لگا لگا کر تعجب کا اظہار کریں اور کہیں: کاش کہ اس اینٹ کی جگہ بھی پوری ہوتی، پس قیصرِ نبوت میں اس اینٹ والی خالی جگہ کو میں پر کرنے والا ہوں۔ !
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11115
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه 3613 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21243 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21563»
حدیث نمبر: 11116
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ وَزَادَ فِيهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فَأَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْأَنْبِيَاءَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس اینٹ کی جگہ پر آیا ہوں اور میں نے آکر انبیاء کے سلسلہ کو مکمل کر دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11116
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2287، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14888 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14949»
حدیث نمبر: 11117
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَوْقَدَ نَارًا فَجَعَلَ الْفَرَاشُ وَالْجَنَادِبُ يَقَعْنَ فِيهَا قَالَ وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا قَالَ وَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ وَأَنْتُمْ تَفَلَّتُونَ مِنْ يَدَيْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اور دوسرے انبیاء کی مثال اس آدمی کی مانند ہے، جس نے آگ جلائی اور پتنگے اور پروانے آگ میں گرنے لگے اور وہ انہیں ہٹانے لگا، پس میں تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ پکڑ کر تم کو آگ سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گھستے ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11117
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2285، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14887 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14948»
حدیث نمبر: 11118
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”طَعَامُ الِاثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةِ وَالثَّلَاثَةِ كَافِي الْأَرْبَعَةِ إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ جَعَلَ الْفَرَاشُ وَالدَّوَابُّ تَتَقَحَّمُ فِيهَا فَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ وَأَنْتُمْ تَوَاقَعُونَ فِيهَا وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَكْمَلَهُ وَأَجْمَلَهُ فَجَعَلَ النَّاسُ يُطِيفُونَ بِهِ يَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا بُنْيَانًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِلَّا هَذِهِ الثُّلْمَةَ فَأَنَا تِلْكَ الثُّلْمَةُ“ وَقِيلَ لِسُفْيَانَ مَنْ ذَكَرَ هَذِهِ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو آدمیوں کا کھانا تین کے لیے اور تین آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کے لیے کافی ہے میری اور لوگوں کی مثال ایسے ہے، جیسے کوئی آدمی آگ جلائے، جب آگ خوب روشن ہو جائے تو پتنگے اور پروانے آکر آگ میں گرنے لگیں، میں بھی تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ پکڑ کر آگ سے بچانے کی کوشش کرتا ہوں، لیکن تم چھڑا چھڑا کے آگ میں جاتے ہو، انبیاء کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے ایک مکمل خوبصورت گھر بنایا، لوگ اس کے گرد گھوم گھوم کر اسے دیکھتے اور کہتے ہیں کہ ہم نے اس سے بڑھ کر کوئی خوبصورت گھر نہیں دیکھا۔ اس میں صرف یہ تھوڑی سی کمی ہے، پس میں اس کمی کو پورا کرنے والا ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11118
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3535، ومسلم: 2286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7322 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7318»
حدیث نمبر: 11119
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ“ قَالَ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ قَالَ قَالَ ”وَلَكِنِ الْمُبَشِّرَاتُ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ قَالَ ”رُؤْيَا الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ وَهِيَ جُزْءٌ مِنْ أَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رسالت اور نبوت کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے، میرے بعد کوئی رسول یا نبی نہیں آئے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں پر شاق گزری تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (نبوت ورسالت کا سلسلہ تو بہرحال ختم ہو چکا ہے) تاہم خوش خبریوں کا سلسلہ باقی ہے۔ صحابہ نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! خوشخبریوں سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان آدمی کا خواب، جو کہ نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔
وضاحت:
فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امتیازی خصوصیات میں سے ایک خصوصیتیہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نبی نہیں آئے گا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَا کَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّـبِیّٖنَ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلِــیْمًا۔} … محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں اور لیکن وہ اللہ کا رسول اور تمام نبیوں کا ختم کرنے والا ہے اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ (سورۂ احزاب: ۴۰)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11119
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الترمذي: 2272 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13860»