حدیث نمبر: 11108
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ كُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّينَ وَخَطِيبَهُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ وَلَا فَخْرَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا تو میں انبیاء کا امام اور ان کا خطیب ہوں گا اور میں ان کی سفارش کرنے والا ہوں گا، جبکہ مجھے اس پر فخر نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جب انبیائے کرام اللہ تعالیٰ کے پاس آئیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف سے بات کریں گے، حدیث نمبر (۱۰۳۲۲) سے اس حدیث کی وضاحت ہو گی۔
حدیث نمبر: 11109
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”فَضَّلَنِي رَبِّي عَلَى الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَوْ قَالَ عَلَى الْأُمَمِ بِأَرْبَعٍ“ قَالَ ”أُرْسِلْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَجُعِلَتِ الْأَرْضُ كُلُّهَا لِي وَلِأُمَّتِي مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيْنَمَا أَدْرَكَتْ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي الصَّلَاةُ فَعِنْدَهُ مَسْجِدُهُ وَعِنْدَهُ طَهُورُهُ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ يَقْذِفُهُ فِي قُلُوبِ أَعْدَائِي وَأَحَلَّ لَنَا الْغَنَائِمَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے رب نے مجھے باقی انبیاء (یا باقی امتوں) پر چار چیزوں میں فضیلت دی ہے، مجھے سب لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، ساری روئے زمین میرے لیے اور میری امت کے لیے سجدہ گاہ اور ذریعۂ طہارت بنا دی گئی ہے، جس آدمی کے لیے جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے اس کی مسجد اور ذریعۂ طہارت اس کے پاس ہی ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے رعب ودبدبہ کے ذریعہ میری نصرت کی ہے، میں ابھی دشمن سے ایک ماہ کی مسافت پر ہوتا ہوں کہ اللہ میرے دشمنوں کے دلوں میںمیرا دبدبہ ڈال دیتا ہے اور اس نے ہمارے لیے اموالِ غنیمت کو حلال کیا ہے۔
حدیث نمبر: 11110
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَالِبٍ عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَيِّدُ وُلْدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: قیامت کے دن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساری اولادِ آدم کے سردار ہوں گے۔
حدیث نمبر: 11111
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيَّ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کو اتنے معجزات اور نشانیاں عطا کی گئی ہیں کہ لوگ اس پر ایمان لاتے رہے، جو چیز مجھے عطا کی گئی ہے، وہ وحی ہے، اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے، مجھے امید ہے کہ روز قیامت میرے فرمانبرداروں کی تعداد سب سے زیادہ ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … ہر نبی کو اس کے زمانے کے مطابق معجزات اور خارق عادت امور عطا کیے گئے، جن سے ان کی تصدیق ہوتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی مختلف معجزات عطا کیے گئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید ہے، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد والے افراد کو بھی حیران و ششدر کیے رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والوں کی اکثریت قرآن مجید سے متأثر ہوئی، اب پندرہویں صدی جاری ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہونے والے کلام اور خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کا اعجاز قائم ہے اور قائم رہے گا۔
حدیث نمبر: 11112
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أُوتِيتُ بِمَقَالِيدِ الدُّنْيَا عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ مِنْ سُنْدُسٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ( مجھے ایسا منظر دکھایا گیا گویا کہ) ایک خوبصورت گھوڑا ہے، اس پر نفیس قسم کا ریشم ہے، اور اس پر دنیا بھر کے خزانوں کی چابیاں رکھی ہوئی ہیں اور وہ مجھے عطا کی گئی ہیں۔
حدیث نمبر: 11113
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِكُمْ يَوْمٌ لَأَنْ يَرَانِي ثُمَّ لَأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَمِثْلِهِمْ مَعَهُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اوپر ضرور ایک ایسا دن آئے گا کہ تم مجھے دیکھنا چاہو گے مگر نہیں دیکھ سکو گے، اس وقت مجھے دیکھنا اور میرا دیدار کرنا اسے اہل و مال سے اور ساتھ اتنے ہی اور سے بھی زیادہ محبوب ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد اگر کسی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار کرنے کا موقع دے دیا جائے، اگرچہ وہ ایک لمحہ کے لیے ہو، تو یہ اعزاز اس کو اس کے اہل و مال سے زیادہ محبوب ہو گا۔
حدیث نمبر: 11114
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ فَاسْأَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ“ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَسِيلَةُ قَالَ ”أَعْلَى دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ لَا يَنَالُهَا إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم مجھ پر درود بھیجو تو تم اللہ سے میرے لیے مقامِ وسیلہ کی دعا بھی کیا کرو۔ دریافت کیا گیا: اللہ کے رسول! وسیلہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک انتہائی اعلیٰ مقام ہے، جو پوری کائنات میں صرف ایکآدمی کو ملے گا، مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں گا۔
وضاحت:
فوائد: … اذان کے بعد والی دعا میں وسیلہ مقام کا ذکر ہے۔