کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: خطبۃ الحاجہ یعنی نکاح اور دیگر مواقع پر دئیے جانے والے خطبہ کے الفاظ وعبارات کا بیان
حدیث نمبر: 11083
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَّمَنَا خُطْبَةَ الْحَاجَةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ [آل عمران: 102] يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا [النساء: 1] يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا [الأحزاب: 70-71] ثُمَّ تَذْكُرُ حَاجَتَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبۂ حاجت کی تعلیم دی، اور وہ خطبہ یہ تھا: تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں، ہم اس سے مدد طلب کرتے ہیں، ہم اس سے بخشش مانگتے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں اپنی جانوں کے شرور سے، اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے اور وہ جسے گمراہ کردے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے،میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان تین آیات کی تلاوت کرتے تھے: {یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْ اتَّقُوْا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ۔ یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَنِسَائً، وَاتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَائَ لُوْنَ بِہِ وَالْأَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا۔ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَقُوْلُوْا قُوْلًا سَدِیْدًایُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا} اے ایماندارو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں ہر گزر موت نہ آئے، مگر اسلام کی حالت میں۔ (سورۂ آل عمران:۱۰۲) اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، جس نے تمہیں پیدا کیا ایک جان سے اور پیدا کیا اس سے اس کی بیوی کو اور پھیلا دیئے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں۔ تم ڈرو اس اللہ سے جس کے ساتھ تم آپس میں سوال کرتے ہو اور رشتہ داریوں کو توڑنے سے بچو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہیں۔ (سورۂ نسائ: ۱) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور کہو بات سیدھی وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے، وہ بڑی کامیابی کو پا لیتا ہے۔ (سورۂ احزاب: ۷۰) پھر تم اپنی حاجت و ضرورت کا ذکر کرو۔
وضاحت:
فوائد: … نکاح کرنے سے پہلے نکاح خواں کو چاہیے کہ وہ یہ خطبہ پڑھے اور ان تین آیات کا مختصر سا مفہوم بیان کر دے۔
ہمارے ہاں عید، نکاح، شادی اور خوشی کی دوسری تقریبات کو محض لطف اندوزی، تفریحِ طبع اور ہنسی مذاق کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسے موقعوں پر شرعی حدود کا خیال نہ رکھنا، بے پردگی اور مرد و زن کا شدید اختلاط،بینڈ باجے بجانا، ناچنا، عریانی و فحاشی والے گانے گانا اور ایسے گندے کلام کو لاؤڈ سپیکروں میں پیش کرنا، مردوں کا سونے کا زیور پہننا، پٹاخے چلانا وغیرہ وغیرہ، ان امور کو شرارتی لڑکوں اور لڑکیوں کا حق سمجھا جاتا ہے۔
لیکن شریعت کا مزاج کچھ اور ہے، جیسے عیدین جیسی عظیم خوشی کا آغاز مخصوص نماز اور خطبے سے ہوتا ہے، اسی طرح شادی کے موقع پر نکاح سے پہلے مذکورہ بالا خطبہ پڑھ کر تقوی اور خوفِ الٰہی کا درس دیا جاتا ہے اور پھر خوشی کے موقعوں کے لیے شریعت نے خوشی کے طریقوں کی بھی وضاحت کر دی ہے، ان ہی تک محدود رہناچاہیے۔
لیکنیہ خطبہ نکاح کے لیے شرط نہیں ہے، اس کے بغیر بھی نکاح درست ہو گا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس خطبہ کے بغیر نکاح پڑھایا ہے، بہرحال ہر ممکن حد تک اس کا اہتمام ہونا چاہیے، اگر جلدی ہو یا کوئی اور مجبوری ہو تو اس کے بغیر بھی نکاح پڑھایا جا سکتا ہے۔
ہمارے ہاں عید، نکاح، شادی اور خوشی کی دوسری تقریبات کو محض لطف اندوزی، تفریحِ طبع اور ہنسی مذاق کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسے موقعوں پر شرعی حدود کا خیال نہ رکھنا، بے پردگی اور مرد و زن کا شدید اختلاط،بینڈ باجے بجانا، ناچنا، عریانی و فحاشی والے گانے گانا اور ایسے گندے کلام کو لاؤڈ سپیکروں میں پیش کرنا، مردوں کا سونے کا زیور پہننا، پٹاخے چلانا وغیرہ وغیرہ، ان امور کو شرارتی لڑکوں اور لڑکیوں کا حق سمجھا جاتا ہے۔
لیکن شریعت کا مزاج کچھ اور ہے، جیسے عیدین جیسی عظیم خوشی کا آغاز مخصوص نماز اور خطبے سے ہوتا ہے، اسی طرح شادی کے موقع پر نکاح سے پہلے مذکورہ بالا خطبہ پڑھ کر تقوی اور خوفِ الٰہی کا درس دیا جاتا ہے اور پھر خوشی کے موقعوں کے لیے شریعت نے خوشی کے طریقوں کی بھی وضاحت کر دی ہے، ان ہی تک محدود رہناچاہیے۔
لیکنیہ خطبہ نکاح کے لیے شرط نہیں ہے، اس کے بغیر بھی نکاح درست ہو گا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس خطبہ کے بغیر نکاح پڑھایا ہے، بہرحال ہر ممکن حد تک اس کا اہتمام ہونا چاہیے، اگر جلدی ہو یا کوئی اور مجبوری ہو تو اس کے بغیر بھی نکاح پڑھایا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 11084
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَيْنِ خُطْبَةَ الْحَاجَةِ وَخُطْبَةَ الصَّلَاةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ أَوْ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دو قسم کے خطبات سکھائے، ایک خطبۂ حاجت اور دوسرا خطبۂ نماز،خطبۂ حاجت یہ ہیں: بیشک ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، ہم اس سے مدد طلب کرتے ہیں، … … ۔ پھر مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت ذکر کی۔
وضاحت:
فوائد: … خطبۂ نماز سے مراد نماز میں پڑھا جانے والا تشہد ہے۔
حدیث نمبر: 11085
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَلَّمَ رَجُلًا فِي شَيْءٍ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے کسی چیز کے بارے میں بات کی تو فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَحْمَدُہ، وَنَسْتَعِیْنُہ، مَنْ یَّہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہُ، وَمَنْ یُضْلِلْ فَلَا ھَادِیَ لَہُ وَأَشْھَدُ أَّنْ لَّا إِلٰہُ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ پھر اپنی بات پیش کی۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم میں مفصل حدیثیوں بیان کی گئی ہے: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: أَنَّ ضِمَادًا قَدِمَ مَکَّۃَ وَکَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوء َۃَ وَکَانَ یَرْقِی مِنْ ہٰذِہِ الرِّیحِ فَسَمِعَ سُفَہَائَ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ،یَقُولُونَ إِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ فَقَالَ: لَوْ أَنِّی رَأَیْتُ ہٰذَا الرَّجُلَ لَعَلَّ اللّٰہَ یَشْفِیہِ عَلٰییَدَیَّ، قَالَ فَلَقِیَہُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! إِنِّی أَرْقِی مِنْ ہٰذِہِ الرِّیحِ وَإِنَّ اللّٰہَ یَشْفِی عَلٰییَدِی مَنْ شَاء َ فَہَلْ لَکَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہُ وَنَسْتَعِینُہُ مَنْ یَہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہُ وَمَنْ یُضْلِلْ فَلَا ہَادِیَ لَہُ وَأَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ أَمَّا بَعْدُ۔)) قَالَ فَقَالَ: أَعِدْ عَلَیَّ کَلِمَاتِکَ ہٰؤُلَائِ۔ فَأَعَادَہُنَّ عَلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ فَقَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْکَہَنَۃِ وَقَوْلَ السَّحَرَۃِ وَقَوْلَ الشُّعَرَاء ِ فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ کَلِمَاتِکَ ہٰؤُلَاء ِ وَلَقَدْ بَلَغْنَ نَاعُوسَ الْبَحْرِ، قَالَ فَقَالَ: ہَاتِ یَدَکَ أُبَایِعْکَ عَلَی الْإِسْلَامِ، قَالَ فَبَایَعَہُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((وَعَلٰی قَوْمِکَ۔)) قَالَ وَعَلٰی قَوْمِی قَالَ فَبَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سَرِیَّۃً فَمَرُّوا بِقَوْمِہِ فَقَالَ صَاحِبُ السَّرِیَّۃِ لِلْجَیْشِ: ہَلْ أَصَبْتُمْ مِنْ ہٰؤُلَاء ِ شَیْئًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَصَبْتُ مِنْہُمْ مِطْہَرَۃً فَقَالَ رُدُّوہَا فَإِنَّ ہٰؤُلَاء ِ قَوْمُ ضِمَادٍ۔ … ضماد مکہ مکرمہ آیا،یہ قبیلہ ازد شنوء ۃسے تعلق رکھتا تھا، یہ آدمی جنوں کے اثر سے دم کرتا تھا، جب اس نے مکہ کے بیوقوف لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجنون اور پاگل ہو گیا ہے تو اس نے کہا: اگر میں اس آدمی کو دیکھ لوں،ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو میرے ہاتھ پر شفا دے دے، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملا اور کہا: میں جنوں کے اثر کا دم کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے، میرے ہاتھ پر شفا دیتا ہے، کیا آپ کو اس کی رغبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً یہ خطبہ پڑھا: إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّہِ نَحْمَدُہُ وَنَسْتَعِینُہُ مَنْ یَہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہُ وَمَنْ یُضْلِلْ فَلَا ہَادِیَ لَہُ وَأَشْہَدُ أَنْ لَا
إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ أَمَّا بَعْدُ۔ اس نے کہا: جناب! یہ کلمات دوبارہ دوہرانا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار یہ کلمات دوہرائے، پھر اس نے کہا: میں نے کاہنوں کا کلام، جادو گروں کی باتیں اور شعراء کے اشعار سنے ہیں، لیکن اس قسم کا کلام میں نے نہیں سنا، یہ کلمات تو سمندر کے وسط یا گہرائی تک پہنچ گئے ہیں، پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں، میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بیعت لے لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور تیری قوم۔ اس نے کہا: جی میری قوم بھی۔ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جہادی لشکر روانہ کیا، جب وہ اس قوم کے پاس سے گزرے تو امیرِ لشکر نے مجاہدین سے کہا: کیا تم نے ان لوگوں کی تو کوئی چیز نہیں لی؟ ایک بندے نے کہا: جی میں نے طہارت والا ایک برتن لیا ہے، اس نے کہا: واپس کر دو،یہ سیدنا ضماد رضی اللہ عنہ کی قوم ہے۔
ہم نے ناعوس البحر کی بجائے قَامُوْسَ الْبَحْر کا معنی لکھا ہے، کیونکہ اس روایت میں یہی الفاظ مشہور ہیں، ملاحظہ ہو، شرح مسلم نووی۔
إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ أَمَّا بَعْدُ۔ اس نے کہا: جناب! یہ کلمات دوبارہ دوہرانا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار یہ کلمات دوہرائے، پھر اس نے کہا: میں نے کاہنوں کا کلام، جادو گروں کی باتیں اور شعراء کے اشعار سنے ہیں، لیکن اس قسم کا کلام میں نے نہیں سنا، یہ کلمات تو سمندر کے وسط یا گہرائی تک پہنچ گئے ہیں، پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں، میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بیعت لے لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور تیری قوم۔ اس نے کہا: جی میری قوم بھی۔ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جہادی لشکر روانہ کیا، جب وہ اس قوم کے پاس سے گزرے تو امیرِ لشکر نے مجاہدین سے کہا: کیا تم نے ان لوگوں کی تو کوئی چیز نہیں لی؟ ایک بندے نے کہا: جی میں نے طہارت والا ایک برتن لیا ہے، اس نے کہا: واپس کر دو،یہ سیدنا ضماد رضی اللہ عنہ کی قوم ہے۔
ہم نے ناعوس البحر کی بجائے قَامُوْسَ الْبَحْر کا معنی لکھا ہے، کیونکہ اس روایت میں یہی الفاظ مشہور ہیں، ملاحظہ ہو، شرح مسلم نووی۔