کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف روانہ کئے جانے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 10973
عَنْ جَرِيرٍ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَلَقِيتُ بِهَا رَجُلَيْنِ ذَا كَلَاعٍ وَذَا عَمْرٍو قَالَ وَأَخْبَرْتُهُمَا شَيْئًا مِنْ خَبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ أَقْبَلْنَا فَإِذَا قَدْ رُفِعَ لَنَا رَكْبٌ مِنْ قِبَلِ الْمَدِينَةِ قَالَ فَسَأَلْنَاهُمْ مَا الْخَبَرُ قَالَ فَقَالُوا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَالنَّاسُ صَالِحُونَ قَالَ فَقَالَ لِي أَخْبِرْ صَاحِبَكَ قَالَ فَرَجَعَا ثُمَّ لَقِيتُ ذَا عَمْرٍو فَقَالَ لِي يَا جَرِيرُ إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا إِذَا هَلَكَ أَمِيرٌ ثُمَّ تَأَمَّرْتُمْ فِي آخَرَ فَإِذَا كَانَتْ بِالسَّيْفِ غَضِبْتُمْ غَضَبَ الْمُلُوكِ وَرَضِيتُمْ رِضَا الْمُلُوكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف روانہ فرمایا، وہاں میری ذوکلاع اور ذوعمرو نامی دو آدمیوں سے ملاقات ہوئی، میں نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق کچھ باتوں سے آگاہ کیا، پھر ہم آئے تو ہمیں مدینہ کی طرف سے کچھ سوار آتے دکھائی دئیے،ہم نے ان سے دریافت کیا: کیا بات ہے؟ تو انہوں نے بتلایا: اللہ کے رسول کا انتقال ہو گیا ہے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہو ئے ہیں اور لوگ مطمئن ہیں،یعنی حالات پرسکون اور تسلی بخش ہیں۔ ذوکلاع اور ذوعمرو نے مجھ سے کہا: آپ اپنے خلیفہ کو اطلاع دے دیں۔ ( کہ ہم آئے تھے) اس کے بعد وہ دوبارہ میرے پاس آئے، میری ذوعمرو سے ملاقات ہوئی تو اس نے مجھ سے کہا: جریر! تم ایک وقت تک بھلائی پر رہو گے، تاآنکہ پہلا امیر فوت ہو جائے اور تم دوسرے شخص کو امیر منتخب کرو گے، جب تلوار نکل آئی تو تم عام بادشاہوں کی طرح ہو جاؤ گے، جیسےوہ بات بات پر ناراض ہو جاتے ہیں، تم بھی ان کی طرح کرنے لگو گے اور جیسے وہ معمولی باتوں پر خوش ہو جاتے ہیں، تم بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونے لگو گے۔
وضاحت:
فوائد: … طبرانی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا، تاکہ میں ان سے قتال کروں اور ان کو لا الہ الا اللہ کا اقرار کرنے کی دعوت دوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة العاشرة للهجرة / حدیث: 10973
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4359 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19224 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19437»