کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 10961
عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ خَرَجَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوصِيهِ وَمُعَاذٌ رَاكِبٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي تَحْتَ رَاحِلَتِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ يَا مُعَاذُ إِنَّكَ عَسَى أَنْ لَا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا أَوْ لَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجِدِي هَذَا أَوْ قَبْرِي فَبَكَى مُعَاذٌ جَشَعًا لِفِرَاقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ نَحْوَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِي الْمُتَّقُونَ مَنْ كَانُوا وَحَيْثُ كَانُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو یمن کی طرف روانہ فرمایا تو ان کو وصیتیں کرتے ہوئے گئے، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سوار تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی سواری کے ساتھ ساتھ چلتے جا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی گفتگو سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا: معاذ! ممکن ہے کہ اس سال کے بعد تمہاری مجھ سے ملاقات نہ ہو سکے اور ہو سکتا ہے کہ تم میری اس مسجد یا قبر کے پاس سے گزرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی کے خیال سے رنجیدہ ہو کر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ روپڑے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف منہ کر کے فرمایا: سب لوگوں میں میرے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے، جو تقویٰ کی صفت سے متصف ہوں، وہ جو بھی ہوں اور جہاں بھی ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع اور حسن اخلاق تھا کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سوار ہو کر جا رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو الوداع کرنے کے لیے پیدل جا رہے ہیں۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قاضی، جہاد کے مسئول اور صدقہ و زکوۃ وصول کرنے والے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہوئی اور اس کے بعد سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات نہ ہو سکی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع کے اکاسی دن بعد وفات پا گئے تھے۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قاضی، جہاد کے مسئول اور صدقہ و زکوۃ وصول کرنے والے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہوئی اور اس کے بعد سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات نہ ہو سکی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع کے اکاسی دن بعد وفات پا گئے تھے۔
حدیث نمبر: 10962
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا: تم اہل کتاب لوگوں کی طرف جا رہے ہو، پس ان کو سب سے پہلے یہ دعوت دینا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ بر حق ہونے اور میرے رسول اللہ ہونے کی شہادت دیں، اگر وہ اس معاملے میں تیری اطاعت کر لیں تو ان کو بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ یہ بات بھی تسلیم کر جائیں تو ان کویہ تعلیم دینا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں پرزکوۃ فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لے کر ان کے فقیروں میں تقسیم کی جائے گی،ا گر وہ یہ بات بھی مان جائیں تو پھر تم نے ان کے عمدہ مالوں سے بچ کر رہنا ہے اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا ہے، کیونکہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے مابین کوئی پردہ نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … غور کریں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے نمائندوں، قاصدوں اور مسئولوں کو لوگوں کی تربیت کے لیے کس ترتیب سے احکام دے رہے ہیں، کاش عصر حاضر کے مسلم حکمران بھی ان ہی ہدایات کو اپنی کامیابی کا راز سمجھ لیتے۔
جو کوئی کلمۂ شہادت کا اقرار کر کے مشرف باسلام ہو جاتا ہے تو اس پر عائد ہونے والا پہلا فرض نماز ہوتا ہے، یہ اسلام کی پہلی اور آخری علامت ہے، لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت اس فرض سے اس قدر غافل ہے کہ اس کو اس جرم کا احساس تک نہیں ہے۔ اس وقت مظلوم اورفقیر مسلمانوں کے حقوق کو بھی ادا نہیں کیا جا رہا۔
جو کوئی کلمۂ شہادت کا اقرار کر کے مشرف باسلام ہو جاتا ہے تو اس پر عائد ہونے والا پہلا فرض نماز ہوتا ہے، یہ اسلام کی پہلی اور آخری علامت ہے، لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت اس فرض سے اس قدر غافل ہے کہ اس کو اس جرم کا احساس تک نہیں ہے۔ اس وقت مظلوم اورفقیر مسلمانوں کے حقوق کو بھی ادا نہیں کیا جا رہا۔