کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: نماز سے فارغ ہو کر کس طرف سے پلٹنا چاہئے؟
حدیث نمبر: 1041
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ رَجُلٍ مِن طَيِِّئٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَكَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ شِقَّيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہلب طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز سے فارغ ہو کر ) اپنے دونوں جانب سے پلٹتے تھے ( کبھی دائیں طرف سے اور کبھی بائیں طرف سے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1041
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه الترمذي (301 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (809، 929 وسندھما حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 113 (301)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 33 (929)، (تحفة الأشراف: 11733)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/226) (حسن صحیح) » (اگلی حدیث نمبر: (1042) سے تقویت پا کر یہ حسن صحیح ہے)
حدیث نمبر: 1042
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ نَصِيبًا لِلشَّيْطَانِ مِنْ صَلَاتِهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكْثَرُ مَا يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ " . قَالَ عُمَارَةُ : أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ بَعْدُ ، فَرَأَيْتُ مَنَازِلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ يَسَارِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز کا کچھ حصہ شیطان کے لیے نہ بنائے کہ وہ صرف دائیں طرف ہی سے پلٹے ، حال یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ اکثر بائیں طرف سے پلٹتے تھے ، عمارہ کہتے ہیں : اس کے بعد میں مدینہ آیا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کو ( بحالت نماز ) آپ کے بائیں جانب دیکھا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے آپ کے مصلیٰ سے (بحالت نماز) بائیں جانب پڑتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بائیں جانب مڑتے اور اٹھ کر اپنے حجروں میں تشریف لے جاتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1042
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ق دون قوله عمارة أتيت , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (852) صحيح مسلم (707)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأذان 159 (852)، صحیح مسلم/المسافرین 7 (707)، سنن النسائی/السھو 100 (1361)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 33 (930)، (تحفة الأشراف: 9177)، و قد أخرجہ: مسند احمد (1/383، 429، 464)، سنن الدارمی/الصلاة 89 (1390) (صحیح) »