کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جو شخص قعدہ میں بیٹھا ہو اور تشہد پڑھنا بھول جائے وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1036
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُبَيْلٍ الْأَحْمَسِيُّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ الْإِمَامُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَإِنْ ذَكَرَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوِيَ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ ، فَإِنِ اسْتَوَى قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَلَيْسَ فِي كِتَابِي عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب امام دو رکعت پڑھ کر کھڑا ہو جائے پھر اگر اس کو سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آ جائے تو بیٹھ جائے ، اگر سیدھا کھڑا ہو جائے تو نہ بیٹھے اور سہو کے دو سجدے کرے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میری کتاب میں جابر جعفی سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1036
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (1020), وللحديث شاھد حسن عند الطحاوي في معاني الآثار (1/ 440 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 157 (365)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 131 (1208)، (تحفة الأشراف: 11525)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/253، 254)، سنن الدارمی/الصلاة 176(1542) (صحیح) » (جابر جعفی کی کئی ایک متابعت کرنے والے پائے جاتے ہیں اس لئے یہ حدیث صحیح ہے ، ورنہ جابر ضعیف راوی ہیں، دیکھئے : ارواء الغلیل: 388 و صحیح سنن أبی داود 949 )
حدیث نمبر: 1037
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَنَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ، قُلْنَا : سُبْحَانَ اللَّهِ ، قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَمَضَى ، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ " سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ " فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ كَمَا صَنَعْتُ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، وَرَفَعَهُ ، وَرَوَاهُ أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، مِثْلَ حَدِيثِ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ . قَالَ أَبُو دَاوُد : أَبُو عُمَيْسٍ أَخُو الْمَسْعُودِيِّ ، وَفَعَلَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمُغِيرَةُ ، وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، وَالضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ أَفْتَى بِذَلِكَ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذَا فِيمَنْ قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ ، ثُمَّ سَجَدُوا بَعْدَ مَا سَلَّمُوا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زیاد بن علاقہ کہتے ہیں` مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی ، وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے ، ہم نے ” سبحان الله “ کہا ، انہوں نے بھی ” سبحان الله “ کہا اور ( واپس نہیں ہوئے ) نماز پڑھتے رہے ، پھر جب انہوں نے اپنی نماز پوری کر لی اور سلام پھیر دیا تو سہو کے دو سجدے کئے ، پھر جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹے تو کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے ، جیسے میں نے کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح اسے ابن ابی لیلیٰ نے شعبی سے ، شعبی نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوع قرار دیا ہے ، نیز اسے ابو عمیس نے ثابت بن عبید سے روایت کیا ہے ، اس میں ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی ، پھر راوی نے زیاد بن علاقہ کی حدیث کے مثل روایت ذکر کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابو عمیس مسعودی کے بھائی ہیں اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ویسے ہی کیا جیسے مغیرہ ، عمران بن حصین ، ضحاک بن قیس اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم نے کیا ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عمر بن عبدالعزیز نے اسی کا فتوی دیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کا حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو دو رکعتیں پڑھ کر بغیر قعدہ اور تشہد کے اٹھ کھڑے ہوں ، انہیں چاہیئے کہ سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کریں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1037
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, وللحديث شاھد حسن عند الطحاوي في معاني الآثار (1/ 440 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 152 (365)، (تحفة الأشراف: 11500)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/247، 253، 254)، سنن الدارمی/الصلاة 176(1542) (صحیح) » (مسعودی مختلط راوی ہیں، لیکن ان کے کئی متابعت کرنے والے پائے جاتے ہیں)
حدیث نمبر: 1038
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، وَالرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ بِمَعْنَى الإِسْنَادِ ، أَنَّ ابْنَ عَيَّاشٍ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَلَاعِيِّ ، عَنْ زُهَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ سَالِمٍ الْعَنْسِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، قَالَ عَمْرٌو : وَحْدَهُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِكُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ " . وَلَمْ يَذْكُرْ عَنْ أَبِيهِ غَيْرُ عَمْرٍو .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں` آپ نے فرمایا : ” ہر سہو کے لیے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں “ ، عمرو کے سوا کسی نے بھی ( اس سند میں ) «عن أبيه» کا لفظ ذکر نہیں کیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1038
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه ابن ماجه (1219) إسماعيل بن عياش صرح بالسماع عند البيھقي (2/337) وزھير بن سالم وثقه ابن حبان والذھبي في الكاشف فالسند حسن
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 136 (1219)، (تحفة الأشراف: 2077)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/280) (حسن) »